وزارت آیوش
عالمی یومِ یوگا 2026 کی 100 روزہ الٹی گنتی مہم کے تحت ایس۔ ویاسا کے زیرِ اہتمام یوگا پروگرام منعقد
بنگلورو کے پرشانتی کٹی رام میں مشترکہ یوگا نشست میں تقریباً 650 افراد کی شرکت
ڈاکٹر ایچ۔ آر۔ ناگیندر نے روزمرہ زندگی میں یوگا کی سائنسی اہمیت اجاگر کی
ماہرین نے موجودہ برقی دور میں نوجوانوں اور ذہنی آسودگی کے لیے یوگا کی افادیت پر تبادلۂ خیال کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAY 2026 2:53PM by PIB Delhi
عالمی یومِ یوگا 2026 کے سلسلے میں جاری 100 روزہ الٹی گنتی مہم کے تحت سوامی وویکانند یوگا انوسندھان سنستھان جو ایک منظور شدہ جامعہ ہے، نے مرارجی دیسائی قومی ادارۂ یوگا کے اشتراک سے الٹی گنتی مہم کے 36ویں دن بنگلورو کے جگنی علاقے میں واقع پرشانتی کٹی رام کیمپس میں کامیابی کے ساتھ یوگا پروگرام کا انعقاد کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر ایچ۔ آر۔ ناگیندر نے ایک ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے یوگا کی اہمیت، اس کے سائنسی پہلوؤں اور روزمرہ زندگی میں اس کی معنویت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ معاشرے میں یوگا ہمہ جہت صحت، ذہنی آسودگی اور باطنی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس پروگرام میں تقریباً 650 شرکاء نے پُرجوش انداز میں حصہ لیا اور تقریب کے دوران منعقدہ مشترکہ یوگا طریقۂ کار نشست میں شرکت کی۔
پروگرام کے ایک حصے کے طور پر ’’صحت اور دانائی کے لیے یوگا‘‘ کے عنوان سے ایک سمینار بھی منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین نے موجودہ برقی دور میں نوجوانوں کی صحت اور ذہنی آسودگی سے متعلق موضوعات پر خطابات پیش کیے۔
سمینار کے پہلے اجلاس بعنوان ’’نوجوانوں کی فلاح و تندرستی کے لیے یوگا‘‘ میں مدرسۂ علاجِ یوگا کے معاون پروفیسر ڈاکٹر بالاجی آر نے نوجوانوں میں ہمہ جہت فلاح و تندرستی کے فروغ میں یوگا کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جدید طبی سائنس اور روایتی یوگی حکمت کو یکجا کرتے ہوئے یوگا کو ’’جبر سے شعور تک کا سفر‘‘ قرار دیا، جو نوجوانوں میں بیداری، ثابت قدمی، جذباتی توازن اور بامقصد زندگی کے شعور کو فروغ دیتا ہے۔
ڈاکٹر بالاجی آر نے ’’سلامتِ پیدائش‘‘ کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مرکز بیماری کے بجائے صحت اور فلاح و بہبود کے سرچشموں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یوگا کی مشقوں جیسے آسن، سانس کی ترتیب، سکون و استراحت، ذہنی یکسوئی اور یوگی طرزِ زندگی کے اصولوں کے ذریعے ’’احساسِ ہم آہنگی‘‘ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ شواہد پر مبنی طب اور تجرباتی یوگی سائنس کا امتزاج نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
سمینار کے دوسرے اجلاس بعنوان ’’معلومات سے بھرپور دور میں ذہنی آسودگی کے لیے یوگا‘‘ سے ڈاکٹر لتا ستیش نے خطاب کیا۔ انہوں نے حد سے زیادہ برقی مصروفیات اور مسلسل معلوماتی دباؤ سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ معلومات کی زیادتی موجودہ زندگی میں ذہنی دباؤ، بے چینی، ذہنی تھکن اور جذباتی عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
ڈاکٹر ستیش نے آج کے دور میں انسانوں کو متاثر کرنے والی مختلف اقسام کی زیادتیوں پر روشنی ڈالی، جن میں حسی دباؤ، فکری دباؤ، معلومات کے ذخیرے کا دباؤ، کام کا دباؤ اور خواہشات کا دباؤ شامل ہیں۔ انہوں نے یوگا کو ذہنی نظم و نسق کا ایک مکمل نظام قرار دیتے ہوئے ’’استحکام و سکون‘‘، ’’توانائی کا تحفظ‘‘، ’’اخلاص و یقین‘‘ اور ’’دانش مندانہ امتیاز‘‘ جیسے اصولوں کو ذہنی توازن اور فکری وضاحت برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ درست نشست، سانس کی تنظیم، متوازن غذا، خود احتسابی، اعتدال اور شعوری حسی استعمال کے ذریعے باخبر اور متوازن زندگی اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر یہ پیغام دیا گیا کہ تیز رفتار برقی دنیا میں یوگا ذہنی دباؤ اور انتشار کو دانائی، فکری وضاحت اور باطنی سکون میں بدلنے کا ایک دائمی راستہ ہے۔
یہ پروگرام عالمی یومِ یوگا 2026 سے قبل ملک بھر میں جاری سرگرمیوں کا حصہ تھا، جن کا مقصد یوگا کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور جسمانی، ذہنی اور جذباتی فلاح و بہبود کے لیے اس کو اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔



******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-7168
(ریلیز آئی ڈی: 2262050)
وزیٹر کاؤنٹر : 10