شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
دو ہزار بائیس تا تئیس اور 2023-24 کے لیے سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز کا اجرا: ہندوستانی معیشت میں مصنوعات اور صنعتوں سے متعلق تفصیلی بصیرت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 MAY 2026 4:00PM by PIB Delhi
قومی شماریات آفس (این ایس او) کی وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) نے ‘2022-23 اور 2023-24 کی سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز (ایس یو ٹی)’ جاری کر دی ہیں۔ یہ اجرا ہندوستان کے قومی اکاؤنٹنگ فریم ورک میں ایک اہم سنگِ میل کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ یہ 2022-23 کے نظرِ ثانی شدہ بنیادی سال کے تحت مرتب کی گئی سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز کا پہلا جامع مجموعہ ہے، جس نے سابقہ 2011-12 بنیادی سالی سلسلے کی جگہ لے لی ہے۔ بنیادی سال 2022-23 کے ساتھ سالانہ قومی اکاؤنٹس تخمینوں کی نئی سیریز 27 فروری 2026 کو جاری کی گئی تھی، جو اقوامِ متحدہ کے سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس (ایس این اے) کے بین الاقوامی بہترین طریقوں اور سفارشات کے مطابق ہے۔ نئی سیریز میں سالانہ نظرِ ثانی شدہ تخمینوں کی تیاری کو سپلائی اینڈ یوز ٹیبل فریم ورک کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ حتمی تخمینوں کے وقت موجودہ قیمتوں پر پیداوار/آمدنی اور اخراجات کے تخمینوں کے درمیان پائے جانے والے تضادات کو ختم کیا جا سکے۔
سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز قومی اکاؤنٹس فریم ورک میں سب سے طاقتور اور معلومات سے بھرپور آلات میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ اشیا و خدمات کی پیداوار، تقسیم اور استعمال کی نقشہ سازی کے ذریعے تمام صنعتوں اور حتمی طلب کے زمروں کی معیشت میں ہونے والی تمام اقتصادی سرگرمیوں کی جامع اور تفصیلی تصویر پیش کرتی ہیں۔ نئی سیریز کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ایس یو ٹی فریم ورک کے ساتھ سالانہ تخمینوں کا مکمل انضمام ہے، جس کے تحت 2022-23 اور 2023-24 کے تخمینوں کو حتمی مرحلے میں اس طرح ہم آہنگ کیا جاتا ہے کہ پیداوار/آمدنی اور اخراجات کے نقطۂ نظر کے درمیان موجود شماریاتی تضادات ختم ہو جائیں، اور قومی اکاؤنٹس میں زیادہ داخلی ہم آہنگی اور مستقل مزاجی پیدا ہو۔ یہ انضمام نئی سیریز میں شامل متعدد اہم بہتریوں کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ یہ بہتریاں بنیادی طور پر نئے ڈیٹا سیٹس کی دستیابی اور جدید طریقۂ کار اپنانے کے باعث ممکن ہوئی ہیں، جیسا کہ ذیل میں درج ہے:
2022-23 سیریز کے تحت ایس یو ٹی کی نمایاں خصوصیات
(i) ایس یو ٹی فریم ورک کے ساتھ سالانہ تخمینوں کا انضمام: نئی جی ڈی پی سیریز میں پیداوار، آمدنی اور اخراجات کے تخمینوں کو ایس این اے کی سفارشات کے مطابق ایس یو ٹی کے اندر ہم آہنگ کیا جاتا ہے تاکہ داخلی مستقل مزاجی کو یقینی بنایا جا سکے۔
(ii) جدید ترین درجہ بندی کے ساتھ ہم آہنگی: این آئی سی 2025 اور سی او آئی سی او پی 2018 جیسی جدید درجہ بندیوں کو اپنانے سے قومی اکاؤنٹس کی بین الاقوامی معیارات اور ابھرتے ہوئے اقتصادی ڈھانچے کے ساتھ مطابقت میں بہتری آئی ہے۔
(iii) غیر مالیاتی نجی کارپوریٹ (این ایف پی سی) تخمینوں میں بہتری: این ایف پی سی سیکٹر کے تخمینوں کو ریونیو شیئر کی علیحدہ شناخت کے ذریعے بہتر بنایا گیا ہے، جس کے لیے ایم جی ٹی 7 ڈیٹا استعمال کیا گیا تاکہ کثیر سرگرمیوں والے اداروں کے لیے جی وی اے کا زیادہ درست تخمینہ لگایا جا سکے۔ صنعتوں اور سائز کی مختلف درجہ بندیوں میں سرمائے کے فرق کو مدنظر رکھنے کے لیے علیحدہ سطحی ملٹی پلائرز استعمال کیے گئے ہیں۔ ایم سی اے ڈیٹا کے ذریعے محدود ذمہ داری شراکت داریوں (ایل ایل پی) کی جامع کوریج کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
(iv) آئی سی ڈھانچے میں بہتری: صنعت وار ان پٹ الاٹمنٹ کو جدید ترین اے ایس آئی، اے ایس یو ایس ای ڈیٹا، وزارتی ڈیٹا بیس اور کارپوریٹ مالیاتی گوشواروں کے استعمال سے مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
(v) ٹی ٹی ایم تخمینوں میں بہتری: ٹریڈ اینڈ ٹرانسپورٹ مارجن (ٹی ٹی ایم) کا تخمینہ اب مقررہ مفروضوں کے بجائے زیادہ ڈیٹا پر مبنی طریقۂ کار کے تحت لگایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اے ایس آئی، ایچ سی ای ایس اور ریاستی سطح کے قیمتوں کے اعداد و شمار سمیت متعدد ذرائع استعمال کیے گئے ہیں، جس سے ایس یو ٹی میں بنیادی قیمتوں کو خریدار کی قیمتوں میں تبدیل کرنے کے عمل کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
(vi) مصنوعات کی سطح پر ٹیکسوں کی بہتر تقسیم: ایک اہم طریقۂ کار کی بہتری مصنوعات کی تفصیلی سطح پر ٹیکسوں کی تقسیم ہے۔ اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی)، ایکسائز ڈیوٹی اور درآمدی ڈیوٹی جیسے ٹیکسوں کو ٹیکس شیڈولز، انتظامی اور سروے اعداد و شمار کی مدد سے مخصوص مصنوعات کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے۔
(vii) پی ایف سی ای تخمینوں میں بہتری: پی ایف سی ای تخمینوں کو ایچ سی ای ایس کے اعداد و شمار، دودھ اور سڑک نقل و حمل سے متعلق مطالعات کے نتائج، نیز اے ایس آئی، اے ایس یو ایس ای جیسے حالیہ سرویز اور مختلف انتظامی ڈیٹا ذرائع کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
(viii) تضادات کا خاتمہ: نئی سیریز کی اہم خصوصیات میں سے ایک ایس یو ٹی فریم ورک کے ساتھ سالانہ تخمینوں کا مکمل انضمام ہے، جس کے نتیجے میں حتمی تخمینوں کے مرحلے پر شماریاتی تضادات کا خاتمہ ممکن ہو سکا ہے۔
میزِ رسد و استعمال (سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز) کے مقاصد
سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز متعدد باہمی طور پر تقویت دینے والے مقاصد کی تکمیل کرتی ہیں، جنہوں نے انہیں جدید قومی اکاؤنٹنگ کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے۔ بنیادی طور پر ایس یو ٹی ایک ایسا متحد تجزیاتی فریم ورک فراہم کرتی ہیں جو بیک وقت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی پیمائش کے تین بنیادی طریقوں — پیداوار، آمدنی اور اخراجات کے نقطۂ نظر — کو ایک واحد اور داخلی طور پر ہم آہنگ ڈھانچے میں یکجا کرتی ہیں۔ یہ انضمام اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ مختلف تصورات اور اعداد و شمار کے ذرائع سے حاصل ہونے والے تخمینے معیشت کے حجم اور ترقی کے ایک واحد اور مربوط تخمینے میں ضم ہو جائیں۔
جی ڈی پی کی مطابقت کے علاوہ، ایس یو ٹیز مختلف انتظامی اور سروے ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی توثیق اور مطابقت کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ہیں، جس سے قومی کھاتوں کے اعداد و شمار کے معیار اور ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایس یو ٹی میں شامل مصنوعات کی سطح کی تفصیلات — جیسے صنعت وار پیداوار، مصنوعات کی قیمت، خالص پیداواری ٹیکس، تجارت و نقل و حمل کے مارجن، سپلائی کی جانب سے درآمدی مالیت، صنعت وار درمیانی کھپت، اور مصنوعات کے زمروں کے لحاظ سے برآمدات — قومی کھاتوں کی تیاری کو روایتی طریقۂ کار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ڈیٹا پر مبنی بناتی ہیں۔ یہی باریک اور تفصیلی نوعیت ایس یو ٹی کو منفرد تجزیاتی اہمیت عطا کرتی ہے۔ مصنوعات اور صنعتوں سے متعلق تفصیلی معلومات پالیسی سازوں، محققین اور ماہرینِ تعلیم کو ہندوستانی معیشت کے ڈھانچے، ساخت اور حرکیات کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے قابل بناتی ہیں، جس سے صنعتی پالیسی، تجارت اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ ملتا ہے۔
ایس یو ٹی فریم ورک
ساختی اعتبار سے سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز دو باہم مربوط میٹرکس — سپلائی ٹیبل اور یوز ٹیبل — پر مشتمل ہوتی ہیں، جنہیں “پروڈکٹ بہ انڈسٹری” فارمیٹ میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ سپلائی ٹیبل معیشت میں ہر پروڈکٹ کی کل رسد کو ریکارڈ کرتی ہے، جس میں گھریلو پیداوار (پیداواری صنعت کے لحاظ سے الگ الگ) اور درآمدات سے حاصل ہونے والی رسد کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ پروڈیوسر اور صارف کی قیمتوں کے فرق کو ختم کرنے کے لیے سپلائی ٹیبل میں تجارتی و نقل و حمل کے مارجن اور مصنوعات پر عائد ٹیکسوں و سبسڈیوں کی ایڈجسٹمنٹ بھی شامل کی جاتی ہے، جس سے بنیادی قیمتوں سے خریدار کی قیمتوں تک منتقلی ممکن ہوتی ہے، یعنی وہ قیمتیں جن پر اشیا و خدمات حقیقت میں بازار میں فروخت ہوتی ہیں۔
سپلائی ٹیبل کی تکمیل کے طور پر یوز ٹیبل یہ ریکارڈ کرتی ہے کہ ہر پروڈکٹ کو معیشت میں کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں کل استعمال کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، مثلاً ہر صنعت کی درمیانی کھپت (یعنی وہ مصنوعات جو پیداواری عمل میں بطور ان پٹ استعمال ہوتی ہیں)، نجی حتمی صرفی اخراجات، حکومتی حتمی صرفی اخراجات، مجموعی سرمایہ تشکیل، اور برآمدات۔ پورا ایس یو ٹی فریم ورک اس بنیادی اصول پر قائم ہے کہ ہر پروڈکٹ کی کل رسد (گھریلو پیداوار اور درآمدات) اس کے کل استعمال (درمیانی اور تمام حتمی استعمال) کے برابر ہونی چاہیے۔ یہی اصول جی ڈی پی کے تخمینے کے تینوں طریقوں کو باہم ہم آہنگ بناتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی اقتصادی بہاؤ نہ تو دو مرتبہ شمار ہو اور نہ ہی نظر انداز ہو۔
2022-23 سیریز میں ایس یو ٹی کی تیاری کے عمل کے ساتھ سالانہ قومی کھاتوں کا مکمل انضمام اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر حتمی تخمینوں میں کوئی شماریاتی تضاد باقی نہ رہے، جس سے قومی کھاتوں کے بین الاقوامی تقابل اور تجزیاتی افادیت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز کی تیاری
2022-23 اور 2023-24 کے لیے سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز 155 مصنوعات اور 67 صنعتوں پر مشتمل تفصیلی سطح پر مرتب کی گئی ہیں، جو سرکاری اعداد و شمار میں دستیاب ہندوستانی معیشت کی نہایت باریک اور جامع عکاسی پیش کرتی ہیں۔ یہ تیاری سالانہ قومی کھاتوں کی تدوین میں استعمال ہونے والے ڈیٹا سیٹس کے علاوہ مختلف سروے اور انتظامی ڈیٹا ذرائع پر مبنی ہے، جن میں منظم مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے صنعتوں کا سالانہ سروے (اے ایس آئی)، غیر رسمی غیر زرعی شعبے کے لیے غیر منظم سیکٹر اداروں کا سالانہ سروے (اے ایس یو ایس ای)، نجی حتمی صرفی اخراجات کے لیے گھریلو کھپت اخراجات سروے (ایچ سی ای ایس)، اور سرکاری محکموں و ریگولیٹری اداروں کے زیرِ انتظام متعدد انتظامی ڈیٹا بیس شامل ہیں۔
تیاری کا طریقۂ کار ایک منظم چار مرحلہ جاتی عمل پر مبنی ہے:
(i) صنعتوں اور مصنوعات کی شناخت: صنعتوں کی درجہ بندی مینوفیکچرنگ شعبے کے اے ایس آئی ڈیٹا کی بنیاد پر نیشنل انڈسٹریل کلاسفیکیشن (این آئی سی) اور غیر مینوفیکچرنگ شعبے کے سالانہ تخمینوں کے لیے کمپائلیشن کیٹیگریز (سی سی) کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مصنوعات کی درجہ بندی نیشنل پروڈکٹ کلاسفیکیشن فار مینوفیکچرنگ سیکٹر (این پی سی ایم ایس) اور نیشنل پروڈکٹ کلاسفیکیشن فار سروسز سیکٹر (این پی سی ایس ایس) کے مطابق انجام دی جاتی ہے۔
سپلائی ٹیبل ابتدائی طور پر بنیادی قیمتوں پر تیار کی جاتی ہے، جو صنعتی پیداوار کے سالانہ تخمینوں میں استعمال ہونے والے ویلیوایشن کنونشن کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے بعد تجارتی و نقل و حمل کے مارجن اور خالص پیداواری ٹیکسوں پر مشتمل ویلیوایشن ایڈجسٹمنٹس کا اطلاق کیا جاتا ہے تاکہ سپلائی کی مالیت کو خریدار کی قیمتوں میں تبدیل کیا جا سکے اور اسے متعلقہ استعمالی اعداد و شمار کے ساتھ ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ سپلائی سائیڈ ویلیوز کی تیاری مختلف ذرائع پر مبنی ہے، جن میں کارپوریٹ شعبے کے سالانہ مالیاتی کھاتے، مینوفیکچرنگ اور غیر منظم شعبے کے لیے اے ایس آئی اور اے ایس یو ایس ای ڈیٹا، تجارتی درآمدات کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اینڈ اسٹیٹسٹکس (ڈی جی سی آئی ایس) کا ایکسِم ڈیٹا بیس، خدمات کی درآمدات کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کا ڈیٹا، اور درآمدی ڈیوٹی کے لیے سینٹرل بورڈ آف اِن ڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز (سی بی آئی سی) کے ٹیرف ریٹس شامل ہیں۔
یوز ٹیبل ایک مربوط فریم ورک کے تحت صنعت وار بنیادی قیمتوں پر مجموعی قدرِ اضافہ (جی وی اے)، اخراجاتی نقطۂ نظر سے جی ڈی پی (جو تمام حتمی استعمالات کے مجموعے میں سے درآمدات منہا کر کے حاصل کی جاتی ہے)، اور آمدنی کے نقطۂ نظر سے شامل شدہ قدر کی ساخت کو پیش کرتی ہے، جس میں ملازمین کا معاوضہ، مجموعی آپریٹنگ سرپلس اور مخلوط آمدنی شامل ہیں۔ معیشت کی یہ “تھری اِن وَن” نمائندگی ایس یو ٹی فریم ورک کی نمایاں خصوصیت ہے، جو صرف جامع اور مصنوعات کی سطح کے تفصیلی ڈیٹا کے استعمال سے ممکن ہوتی ہے۔
یوز ٹیبل کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے اہم ڈیٹا ذرائع میں زرعی اِن پٹس کے لیے کاسٹ آف کلٹی ویشن اسٹڈیز (سی سی ایس)، مینوفیکچرنگ کے لیے اے ایس آئی ڈیٹا، کارپوریٹ شعبے کے لیے وزارتِ کارپوریٹ امور (ایم سی اے) کا ڈیٹا، اشیا کی برآمدات کے لیے ایکسِم ڈیٹا، اور خدمات کی برآمدات کے لیے آر بی آئی کا ڈیٹا شامل ہیں۔
ایس یو ٹی کی تیاری میں استعمال ہونے والے متنوع ڈیٹا سیٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے، مصنوعات کی مطابقت یقینی بنانے کے لیے “پروڈکٹ بیلنسنگ” کی جاتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے مختلف ڈیٹا سیٹس کی مضبوطیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ عموماً مصنوعات کے توازن کے لیے ٹریڈ اینڈ ٹرانسپورٹ مارجن (ٹی ٹی ایم)، ٹیکس، اسٹاک میں تبدیلی، درمیانی کھپت، اور منتخب حتمی صرفی اشیا جیسی نسبتاً معمولی مدات میں ضروری ایڈجسٹمنٹس کی جاتی ہیں۔
اہم جھلکیاں
2022-23 اور 2023-24 کی سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز ہندوستانی معیشت کے ڈھانچے اور حرکیات سے متعلق تجرباتی نتائج کا ایک جامع مجموعہ پیش کرتی ہیں۔ نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
- معیشت میں خریدار کی قیمتوں پر اشیا و خدمات کی کل سپلائی 2022-23 میں 627.18 لاکھ کروڑ روپے اور 2023-24 میں 669.88 لاکھ کروڑ روپے رہی۔
- بنیادی قیمتوں پر کل سپلائی کی شعبہ جاتی ساخت دونوں برسوں میں بڑی حد تک مستحکم رہی: زرعی اشیا کا حصہ 11 فیصد، کان کنی کی اشیا کا 2 فیصد، تیار شدہ اشیا کا 35 تا 36 فیصد، جبکہ خدمات کے شعبے کا حصہ تقریباً 51 تا 52 فیصد رہا، جو ہندوستانی معیشت میں خدمات کے شعبے کے مسلسل غلبے کی نشاندہی کرتا ہے۔
- جی وی اے سے جی وی او (مجموعی پیداوار میں مجموعی قدرِ اضافہ) کا تناسب کسی صنعت میں قدرِ اضافہ کی کارکردگی کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ 2022-23 میں سب سے زیادہ تناسب رکھنے والی پانچ صنعتیں (0.95 سے 0.76 کے درمیان) یہ تھیں: رہائشی املاک کی ملکیت، جنگلات اور لکڑی کی کٹائی، زراعت، خام پیٹرولیم، اور تعلیم و تحقیق۔ یہ ایسی صنعتیں ہیں جن میں مادی اِن پٹس(مدخلات) کی ضرورت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ 2023-24 میں سرفہرست پانچ صنعتیں (0.95 سے 0.74 کے درمیان) رہائشی املاک کی ملکیت، زراعت، جنگلات اور لکڑی کی کٹائی، عوامی انتظامیہ و دفاع، اور تعلیم و تحقیق رہیں۔
- اس کے برعکس، سب سے کم جی وی اے سے جی وی او تناسب والی صنعتیں وہ ہیں جن میں مادی اِن پٹس (مدخلات) کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ 2022-23 میں کم ترین پانچ صنعتیں (0.11 سے 0.08 کے درمیان) یہ تھیں: گوشت، مچھلی، پھل، سبزیوں، تیل اور چکنائی کی پیداوار، پروسیسنگ اور تحفظ؛ ڈیری مصنوعات کی تیاری؛ مواصلاتی آلات کی تیاری؛ کوک اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی تیاری؛ اور اناج مل مصنوعات و جانوروں کے چارے کی تیاری۔ 2023-24 میں بھی تقریباً یہی رجحان برقرار رہا، جہاں کم ترین پانچ صنعتیں (0.12 سے 0.08 کے درمیان) گوشت، مچھلی، پھل، سبزیوں، تیل اور چکنائی کی پیداوار، پروسیسنگ اور تحفظ؛ مواصلاتی آلات کی تیاری؛ اناج مل مصنوعات و جانوروں کے چارے کی تیاری؛ ڈیری مصنوعات کی تیاری؛ اور کوک و ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی تیاری تھیں۔
- تعمیراتی صنعت میں درمیانی کھپت کا حصہ سب سے زیادہ رہا، جو دونوں برسوں میں مجموعی درمیانی کھپت کا تقریباً 14 تا 15 فیصد تھا۔
- درمیانی کھپت کی ساخت پیداوار میں اِن پٹس کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ دونوں برسوں میں اشیا نے مجموعی درمیانی کھپت کا 72 تا 73 فیصد جبکہ خدمات نے 27 تا 28 فیصد حصہ لیا، جو ہندوستانی پیداوار کے ڈھانچے کی مادی اِن پٹس پر مبنی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔
- 2022-23 میں نجی حتمی صرفی اخراجات (پی ایف سی ای) میں اشیا کا حصہ 57 فیصد اور خدمات کا حصہ 43 فیصد تھا، جبکہ 2023-24 میں اشیا کا حصہ 56 فیصد اور خدمات کا حصہ 44 فیصد رہا۔
2022-23 اور 2023-24 کی سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز مصنوعات و صنعت کی سطح پر ہندوستانی معیشت کا ایک منفرد، جامع اور داخلی طور پر ہم آہنگ حساب پیش کرتی ہیں یہ اقتصادی تحقیق، ساختی تجزیے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے ایک بنیادی وسیلہ ہیں۔
ایم او ایس پی آئی کی جانب سے اعداد و شمار کی بروقت دستیابی اور باریک بینی میں بہتری پر توجہ کے باعث ایس یو ٹی کو سابقہ بنیادی سال کے مقابلے میں کم وقفے کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، تفصیلی سطح کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعات کی تعداد کو سابقہ بنیادی سال کی ایس یو ٹی میں 140 سے بڑھا کر 155 کر دیا گیا ہے۔
‘2022-23 اور 2023-24 کی سپلائی اینڈ یوز ٹیبلز’، ایس یو ٹی کی تیاری سے متعلق تفصیلی طریقۂ کار پر مبنی نوٹس کے ساتھ، ایم او ایس پی آئی کی سرکاری ویب سائٹ پر مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے:
https://www.mospi.gov.in/publications-reports/innerpage/847
***
UR-7130
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2261624)
وزیٹر کاؤنٹر : 7