ریلوے کی وزارت
عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ، راجستھان کے 15 ازسرِ نو ترقی یافتہ ریلوے اسٹیشن جیسے جیسلمیر، بوندی، باڑمیر، منڈل گڑھ اور سومیسر وغیرہ جدید سہولیات کے ساتھ مسافروں کی خدمت کر رہے ہیں
دو طرفہ داخلہ، ایک اضافی پلیٹ فارم، 6 میٹر چوڑے دو اوور برج اور نو لفٹس کے ساتھ الور ریلوے اسٹیشن کو 112 کروڑ روپے کی لاگت سے ازسرِ نو ترقی دی جا رہی ہے
راجستھان کے تعمیراتی ورثے کو جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے، الور اسٹیشن کی ازسرِ نو ترقی کا کام تیزی سے جاری ہے: اشونی ویشنو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 MAY 2026 6:00PM by PIB Delhi
ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو، ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو، اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما نے آج ورچوئل طور پر راجستھان میں 400 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مختلف منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا۔ ریاستی وزیر جناب سنجے شرما سمیت دیگر معزز شخصیات اور سینئر ریلوے حکام نے بھی اس تقریب میں ورچوئل طور پر شرکت کی۔
ریلوے کے وزیر نے کہا کہ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت الور ریلوے اسٹیشن کی 112 کروڑ روپے مالیت کی ازسرِ نو ترقی کا کام جاری ہے۔ دہلی-جے پور کے اہم روٹ پر واقع الور اسٹیشن ایک بڑا مرکز ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مسافر آتے جاتے ہیں۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مسافروں کی تعداد کو مدِنظر رکھتے ہوئے، اسٹیشن کو بہتر ٹریفک مینجمنٹ نظام، مناسب پارکنگ سہولیات، منظم آمد و روانگی کے علاقوں اور جدید مسافر سہولیات کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ الور ریلوے اسٹیشن کی ازسرِ نو ترقی کا کام تیزی سے جاری ہے اور تکمیل کے بعد یہ اسٹیشن ایک جدید اور خوبصورت طرزِ تعمیر کی حامل سہولت کے طور پر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ الور اسٹیشن کی ترقی وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن کے مطابق کی جا رہی ہے کہ ریلوے اسٹیشن شہروں کے درمیان رابطے کے مراکز کے طور پر کام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری رابطے کو بہتر بنانے کے لیے اسٹیشن کے دونوں جانب داخلی سہولیات تیار کی جا رہی ہیں۔ اسٹیشن کی عمارتیں راجستھان کے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کے مطابق تعمیر کی جا رہی ہیں۔ جناب ویشنو نے مزید بتایا کہ جدید پلیٹ فارم، فٹ اوور برج، پارکنگ انتظامات اور مسافروں کی نقل و حرکت کی سہولیات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔
ازسرِ نو ترقی کے اس منصوبے کے تحت مسافروں کو اسٹیشن کے مرکزی اور ثانوی داخلی راستوں پر بہتر اور ہموار آمد و رفت کی سہولت حاصل ہوگی۔ تقریباً 16 ہزار مربع میٹر رقبے پر تعمیر ہونے والا نیا اسٹیشن کمپلیکس جدید انفراسٹرکچر اور مسافر دوست سہولیات کا مظہر ہوگا۔ مسافروں کی سہولت کے لیے ایک اضافی ہائی لیول پلیٹ فارم، 6 میٹر چوڑے دو فٹ اوور برج، اور نو جدید لفٹس بھی تیار کی جا رہی ہیں۔
نجی گاڑیوں، ٹیکسیوں اور آٹو رکشاؤں کے لیے علیحدہ پک اَپ اور ڈراپ اَف زون بھی قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ مسافروں کی نقل و حرکت کو منظم بنایا جا سکے۔ تقریباً 4,500 مربع میٹر پر محیط نئی پارکنگ سہولت رسائی کو بہتر بنانے اور اسٹیشن و اطراف میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ اس کے علاوہ، اسٹیشن کے بیرونی علاقے میں گاڑیوں کی ہموار آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ایک جامع ٹریفک سرکولیشن پلان بھی تیار کیا گیا ہے۔
اس ترقیاتی منصوبے میں تقریباً 1,900 مربع میٹر رقبہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔ عالمی معیار کی مسافر سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ، اس منصوبے سے خطے میں الور کی حیثیت ایک ابھرتے ہوئے سیاحتی، تجارتی اور روزگار کے مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
ریلوے کے وزیر نے کہا کہ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت الور علاقے کے تین اسٹیشن — گووند گڑھ، راج گڑھ اور خیرتھل — پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں۔ راجستھان بھر میں 85 اسٹیشنوں کی ازسرِ نو ترقی کا کام جاری ہے، جن میں سے اب تک 15 اسٹیشن مکمل ہو چکے ہیں۔ جناب ویشنو نے بتایا کہ مکمل ہونے والے اسٹیشنوں میں باڑمیر، بوندی، دوسہ، دیگ، دیشنوک، فتح پور شیخاوتی، گنگاپور سٹی، گوگامیڑی، گووند گڑھ، راج گڑھ، خیرتھل، جیسلمیر، منڈل گڑھ، منڈاور مہوا روڈ اور سومیسر شامل ہیں۔ ملک بھر میں امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت 1,340 اسٹیشنوں کو ترقی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ اس وقت راجستھان میں پانچ وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں چل رہی ہیں، جبکہ ایک امرت بھارت ایکسپریس بھی شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران راجستھان کے لیے کئی نئی ٹرین خدمات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں دہلی سے جودھپور اور دہلی سے بیکانیر تک وندے بھارت ایکسپریس خدمات، اُدے پور سٹی سے احمد آباد وندے بھارت ایکسپریس، جیسلمیر کو دہلی سے جوڑنے والی سورنا نگری ایکسپریس، حیدرآباد–جودھپور بھگت کی کوٹھی ایکسپریس، اور پونے–جودھپور ایکسپریس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں راجستھان کو مجموعی طور پر 46 نئی ٹرینیں فراہم کی گئی ہیں، جس سے ریاست بھر میں رابطے اور مسافروں کی سہولت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ریلوے کے وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں راجستھان کے لیے ریلوے بجٹ کا تخمینہ بڑھ کر 10,228 کروڑ روپے ہو گیا ہے، جبکہ سابقہ حکومتوں کے دوران یہ تقریباً 682 کروڑ روپے تھا۔
ریاست میں ریلوے انفراسٹرکچر کی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے جناب ویشنو نے کہا کہ 2014 کے بعد سے راجستھان میں تقریباً 3,900 کلومیٹر ریلوے پٹریاں بچھائی جا چکی ہیں۔ مارواڑ مندوا، کھیملی، بھوپال ساگر، سونو، ہنوانت، سندلک، منڈل گڑھ، نیو سرادھنا، ہرنوڈا اور کیرلا سمیت مختلف مقامات پر دس گتی شکتی کارگو ٹرمینلز پہلے ہی شروع کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جوگی مگرا، لانیلا، دھنکیا، کوٹا جنکشن، نوال گڑھ اور بیرادھوال میں مزید چھ کارگو ٹرمینلز زیرِ تعمیر ہیں، جبکہ مزید آٹھ ٹرمینلز کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔
ریلوے کے وزیر نے کہا کہ بھارتی ریلوے راجستھان کی صنعتوں کی مکمل حمایت کے لیے پُرعزم ہے اور سیمنٹ، ٹیکسٹائل، دستکاری، سیمی کنڈکٹر اور انجینئرنگ مصنوعات سمیت مختلف شعبوں کے لیے ملک بھر کی بندرگاہوں تک ہموار مال برداری رابطہ یقینی بنا رہی ہے۔
جناب ویشنو نے کہا کہ راجستھان بھر میں کئی بڑے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبوں پر بیک وقت کام جاری ہے۔ ان میں آگرہ–بانڈی کوئی، اجمیر–چتوڑ گڑھ، بیکانیر–لال گڑھ، چورو–سادلپور اور لونی–بھلڈی سیکشنز پر ڈبلنگ کے کام شامل ہیں؛ جبکہ دھولپور–سرماتھورا–گنگاپور سٹی اور دیوگڑھ مادریا–ناتھ دوارہ جیسے گیج تبدیلی منصوبے بھی جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متھرا–جھانسی کے درمیان تیسری لائن، متھرا–ناگدا کے درمیان تیسری اور چوتھی لائن، اور نیمچ–بڑی سادڑی اور پشکر–میرٹا سٹی جیسی نئی لائنوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔
ریلوے کے وزیر نے مزید کہا کہ ریواڑی–کھاتوواس اور رنگس–سیکر سیکشن پر ڈبلنگ کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شیوپور کلاں–کوٹا نئی لائن اور ترنگا ہِل–ابو روڈ نئی لائن منصوبے بھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اُمرا–دیباری ڈبلنگ کا کام بھی جاری ہے، تاکہ ریلوے ترقی راجستھان کے تمام علاقوں تک پہنچ سکے۔
جناب بھوپیندر یادو نے الور خطے میں ریلوے رابطے کو مضبوط بنانے پر جناب اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے کئی ٹرین خدمات یا تو شروع کی گئی ہیں یا ان میں توسیع کی گئی ہے۔ جناب یادو نے کہا کہ الور ریلوے اسٹیشن کی ازسرِ نو ترقی راجستھان کی شان و شوکت اور تعمیراتی شناخت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جدید بنایا گیا الور اسٹیشن ریاست کے بہترین ریلوے اسٹیشنوں میں شمار ہوگا۔ جناب یادو نے خطے میں متعدد ریلوے اوور برج اور انڈر پاس منصوبوں کی منظوری اور تکمیل پر بھی وزارتِ ریلوے کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے خیرتھل، کشن گڑھ باس، بہرور اور اطراف کے علاقوں کے لوگوں کو رابطے میں بہتری اور آمد و رفت میں آسانی کے ذریعے بڑا فائدہ پہنچے گا۔
جناب بھجن لال شرما نے کہا کہ دہلی کے قریب ہونے کی وجہ سے راجستھان کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے، جس سے ریاست میں صنعتی اور ٹرانسپورٹ رابطے مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھیواڑی، نیم رانا اور خوش کھیڑا جیسے صنعتی مراکز کو بہتر ریلوے اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خطے کے لیے دو بڑے ریل رابطہ کوریڈور کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن میں ایک ریلوے لائن الور کی جانب اور ایک آر آر ٹی ایس کوریڈور بہرور کی جانب شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبے روایتی ریلوے انفراسٹرکچر اور علاقائی ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم دونوں کے ساتھ انضمام کو بہتر بنائیں گے، اور ریاستی حکومت ان کے نفاذ کو تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
بھارتی ریلوے ترقی، اعتماد اور ایک ترقی یافتہ نئے بھارت کی علامت کے طور پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ ہر مسافر کے لیے محفوظ، آسان اور آرام دہ سفر کو یقینی بنانے کے لیے مسافر سہولیات کو مسلسل مضبوط بنانے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
*************
ش ح۔ ف ش ع
U: 7131
(ریلیز آئی ڈی: 2261575)
وزیٹر کاؤنٹر : 11