ریلوے کی وزارت
تیز، محفوظ، آرام دہ اور جدیدبھارتی ریلوے،عام آدمی اور متوسط طبقے کے لیے سفر کا ذریعہ ہے:ریلوے کےمرکزی وزیر
حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ سب سے غریب طبقے کو بھی سستی قیمت پر بہتر سفری سہولیات فراہم کر کے ان کے سفر کے تجربے کو بہتر بنایا جائے
ریلوے کے مرکزی وزیر نے بھارتی ریلوے کی ‘‘سست ترقی’’ سے ‘‘تیز ترین تبدیلی’’ کی طرف منتقلی کو ایک نئے دور سے تعبیر کیا
تقریباً 1,37,000 کلومیٹر ریلوے ٹریک اور 25,500 سے زائد ٹرینوں کے ساتھ بھارتی ریلوے لوگوں اور مال برداری کو ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس سے معیشت کو فروغ مل رہا ہے
زیادہ غیر ایئرکنڈیشنڈ بوگیوں کے ذریعے بھارتی ریلوے عام شہریوں کی ضروریات کو ترجیح دے رہی ہے: اشونی ویشنو
حکومت بھارت میں ریلوے سفر پر بھاری سبسڈی فراہم کرتی ہے؛ ہر مسافر ٹکٹ کی لاگت کا تقریباً 45 فیصد حکومت برداشت کرتی ہے، جس کی وجہ سے کرایے ہمسایہ ممالک اور ترقی یافتہ دنیا کے مقابلے میں بہت کم ہیں، تاکہ جدید سفری سہولتیں سستی رہیں
دو سو نئے انٹر سٹی ٹرینوں کے علاوہ ممبئی کے لیے 238 نئی سب اربن ٹرینیں متعارف کرائی جا رہی ہیں جن میں خودکار دروازے بند ہونے کا نظام شامل ہے تاکہ مختصر فاصلے کے سفر کو بہتر بنایا جا سکے
گزشتہ 10 سال میں 5 لاکھ ملازمتیں اور پچھلے 2 سال میں 1.43 لاکھ براہ راست ملازمتوں کے علاوہ ریلوے منصوبے، روزگار کے لاکھوں بالواسطہ مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں
بہتر اسٹیشن سہولیات اور ٹیکنالوجی پر مبنی دیکھ بھال کے طریقے ،بھارت میں سفر کے تجربے کو نیا رخ دے رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 9:49PM by PIB Delhi
بھارتی ریلوے غیر معمولی توسیع اور جدید کاری کے مرحلے سے گزر رہی ہے، جسے مرکزی بجٹ 2026–27 میں تقریباً 2.78 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ مختص بجٹ کی حمایت حاصل ہے۔ پارلیمنٹ میں وزارتِ ریلوے کے مطالباتِ زر (2026–27) پر بحث کا جواب دیتے ہوئے جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ ریلوے میں ایک اہم ساختی اصلاح ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کرنا تھا، جس کے تین بڑے فوائد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بھارتی ریلوے کی جاری تبدیلی کو ‘‘سست ترقی’’ سے ‘‘تیز ترین تبدیلی’’ کی طرف ایک اہم تبدیلی قرار دیا، جو قومی ٹرانسپورٹر کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
پہلا فائدہ یہ ہے کہ اس سے بجٹ کی معاونت میں نمایاں اضافہ ہوا، جو پہلے تقریباً 25,000 سے 30,000 کروڑ روپے تھا اور اب بڑھ کر موجودہ مالی سال میں تقریباً 2.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سال بھر مسلسل فیصلے کرنے اور منظوری دینے کا نظام ممکن ہوا، جس میں منصوبوں کی منظوری، نئی خدمات کا آغاز اور ٹیکنالوجی اپنانا شامل ہے۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے شفافیت اور ادارہ جاتی نگرانی میں اضافہ ہوا ہے اور منصوبوں کا جائزہ وزارتِ خزانہ اور نیتی آیوگ کے نظام کے تحت لیا جا رہا ہے۔
ریکارڈ مختص بجٹ اور مالی صورتحال
مرکزی وزیر نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026–27 میں بھارتی ریلوے کے لیے ریکارڈ بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس سے ملک کی تمام ریاستوں کو فائدہ پہنچے گا اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
جناب ویشنو نے وضاحت کی کہ ریلوے کے بڑے اخراجات میں ملازمین کی تنخواہیں تقریباً 1.19 لاکھ کروڑ روپے، پنشن اخراجات تقریباً 64,000 کروڑ روپے، توانائی کے اخراجات تقریباً 32,000 کروڑ روپے اور مالیاتی اخراجات تقریباً 23,000 کروڑ روپے شامل ہیں۔ ان بھاری اخراجات کے باوجود ریلوے معمولی سرپلس برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برق کاری کے باعث تقریباً 6,000 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے، جبکہ ڈیزل کا استعمال مسلسل کم ہو رہا ہے کیونکہ ریلوے میں برقی نظام کو تیزی سے وسعت دی جا رہی ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور صلاحیت میں اضافہ
جناب ویشنو نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں توسیع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مال برداری (فریٹ لوڈنگ) جو 2013–14 میں تقریباً 1,055 ملین ٹن تھی، بڑھ کر تقریباً 1,650 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جس کے ساتھ بھارتی ریلوے دنیا کی دوسری سب سے بڑی مال بردار ریلوے بن گئی ہے۔
ٹریک کی تعمیر میں نمایاں تیزی آئی ہے، جس کے تحت تقریباً 35,000 کلومیٹر نئی پٹریاں بچھائی گئی ہیں، جبکہ اس سے پہلے کے دور میں یہ تعداد تقریباً 15,000 کلومیٹر تھی۔ برق کاری میں بھی تیز رفتار پیش رفت ہوئی ہے، جو تقریباً 5,200 کلومیٹر سے بڑھ کر 47,000 کلومیٹر کے قریب پہنچ گئی ہے اور اب نیٹ ورک میں 99 فیصد سے زائد برق کاری حاصل کر لی گئی ہے۔
حفاظتی انفراسٹرکچر کے حوالے سے روڈ اوور برج(آر او بی) اور روڈ انڈر برج(آر یو بی) کی تعداد تقریباً 4,000 سے بڑھ کر تقریباً 14,000 تک پہنچ گئی ہے۔ خودکار سگنلنگ کا نظام بھی 1,500 کلومیٹر سے بڑھ کر 4,000 کلومیٹر سے زیادہ تک پہنچ گیا ہے۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ زیادہ محفوظ اور جدید ایل ایچ بی(ایل ایچ بی) کوچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ برسوں میں تقریباً 48,000 کوچز شامل کیے گئے ہیں۔ لوکوموٹیو (انجن) کی پیداوار بھی بڑھ کر تقریباً 12,000 یونٹس تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ویگن کی شمولیت 2 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر چکی ہے۔
سرنگیں، مال برداری سے متعلق گلیارے اور پالیسی پر مبنی رابطے
جناب ویشنو نے کہا کہ سرنگوں کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا گیا ہے۔ 2014 تک جہاں تقریباً 125 کلومیٹر سرنگیں تعمیر کی گئی تھیں، وہیں اس کے بعد مزید 486 کلومیٹر سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں، جس سے خاص طور پر شمال مشرقی خطے اور جموں و کشمیر جیسے دشوار گزار علاقوں میں رابطے کو نمایاں طور پر بہتر بنایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص فریٹ کوریڈورز (ڈ ی ایف سیز) میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جن میں تقریباً 2,800 کلومیٹر مکمل ہو چکے ہیں اور ان کوریڈورز پر روزانہ تقریباً 480 مال گاڑیاں چل رہی ہیں۔
آپریشنل کارکردگی اور نیٹ ورک کی توسیع
جناب ویشنو نے کہا کہ بھارتی ریلوے اس وقت روزانہ تقریباً 25,571 ٹرینیں چلا رہی ہے، جو ہولی، دیوالی اور چھٹھ جیسےخاص موسموں میں سفر کو مزید آسان بناتی ہیں۔
ریلوے نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی بڑھ کر تقریباً 1,37,522 روٹ کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے اور اس میں مسلسل سالانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریلوے کے پاس اب تقریباً 3.86 لاکھ ویگنیں اور تقریباً 98,000 کوچز موجود ہیں، جو دونوں ریکارڈ سطح پر ہیں۔
حفاظتی بہتری
وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ حفاظت ریلوے کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے ٹریک کی دیکھ ریکھ، رولنگ اسٹاک کی دیکھ بھال، ٹیکنالوجی کے استعمال اور تربیتی نظام میں مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریلوے حادثات میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، جو منظم طور پر وجوہات کے تجزیے اور اصلاحی اقدامات کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ حفاظتی اقدامات کے لیے سرمایہ کاری بھی نمایاں طور پر بڑھائی گئی ہے، جس کے تحت تقریباً 1.2 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حفاظتی ٹیکنالوجی کے حوالے سے انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ آٹومیٹک ٹرین پروٹیکشن سسٹم کَوَچ کی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ تقریباً 3,000 کلومیٹر نیٹ ورک پہلے ہی اس کے تحت آ چکا ہے، جبکہ تقریباً 20,000 کلومیٹر پر کام جاری ہے اور تقریباً 8,000 لوکوموٹیوز پر اس کی تنصیب کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کَوَچ ایک جامع حفاظتی نظام ہے جس میں آپٹیکل فائبر نیٹ ورک، ٹیلی کام ٹاورز، ڈیٹا سینٹرز اور آن بورڈ آلات شامل ہیں اور یہ پیچیدگی کے لحاظ سے ایک مکمل ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے برابر ہے۔
مسافروں کی سہولیات اور سستا سفر
جناب ویشنو نے کہا کہ ریلوے عام شہریوں کے لیے سستے سفر کو ترجیح دیتا ہے۔ تقریباً 70 فیصد کوچز جنرل اور سلیپر کلاس پر مشتمل ہیں تاکہ زیادہ تر مسافروں کو سہولت حاصل ہو۔
انہوں نے بتایا کہ اضافی جنرل کوچز بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں 2024–25 میں تقریباً 1,250 کوچز اور 2025–26 میں تقریباً 860 کوچز شامل ہیں۔
ریلوے اس وقت سالانہ تقریباً 60,000 کروڑ روپے کی مسافر سبسڈی فراہم کر رہا ہے، جو فی مسافر اوسطاً تقریباً 45 فیصد رعایت کے برابر ہے۔ ممبئی جیسے سب اربن سیکشنز میں اضافی تقریباً 3,000 کروڑ روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔
نئی ٹرین خدمات کا آغاز
مرکزی وزیر نے جدید ٹرین خدمات کے آغاز اور توسیع کو اجاگر کیا۔ اس وقت 160 سے زائد وندے بھارت خدمات چل رہی ہیں، جبکہ 60 امرت بھارت ٹرین خدمات سستی طویل فاصلے کے سفر کے لیے فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 133 امرت بھارت ٹرینوں کی تیاری کا کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ وندے بھارت سلیپر ٹرینیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں اور ان کی کارکردگی کو مثبت ردعمل ملا ہے۔
ریلوے ممبئی کے لیے 238 نئی سب اربن ٹرینوں کی تیاری بھی کر رہا ہے جن میں خودکار دروازے بند ہونے کا نظام ہوگا، جبکہ مختصر فاصلے کے سفر کے لیے تقریباً 200 نئی ایم ای ایم یو (جسے اب انٹر سٹی کے نام سے برانڈ کیا جائے گا) ٹرینیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔
خصوصی ٹرینیں اور مسافروں کی سہولت
جناب ویشنو نے کہا کہ مخصوص موسم میں ٹرینوں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے خصوصی ٹرینوں کا آپریشن نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا ہے۔ پہلے جہاں سالانہ تقریباً 2,000 سے 2,500 خصوصی ٹرینیں چلائی جاتی تھیں، اب ریکارڈ تعداد میں ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
بڑے تہواروں جیسے دیوالی اور چھٹھ کے دوران تقریباً 12,383 خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں، جبکہ ہولی کے موقع پر پہلے ہی 1,500 سے زائد ٹرینیں چلائی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 75 بڑے اسٹیشنوں پر ہولڈنگ ایریاز تیار کیے جا رہے ہیں اور مسافروں کی سہولت کے لیے 1,200 سے زائد نئی ای ایم یو/ ایم ای ایم یو خدمات بھی شروع کی گئی ہیں۔
روزگار اور بھرتی اصلاحات
روزگار کے تعلق سےوزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں ریلوے نے تقریباً 5 لاکھ روزگار فراہم کیے ہیں، جبکہ اس وقت 1.43 لاکھ بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے سالانہ بھرتی کیلنڈر کے اجرا کو بھی اہم اصلاح قرار دیا جس سے شفافیت اور پیش گوئی ممکن ہوئی ہے۔ ریلوے بھرتی امتحانات 150 شہروں میں 15 زبانوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں تقریباً 3.6 کروڑ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شکایات کے فوری حل اور امتحانات کے شفاف انعقاد کے لیے ایک مرکزی مانیٹرنگ سسٹم (وار روم) قائم کیا گیا ہے۔
ریلوے میں ٹیکنالوجی، جدت اور میک ان انڈیا
مسلسل اپنے جواب کو جاری رکھتے ہوئے جناب اشونی ویشنو نے بھارتی ریلوے کے تمام شعبوں میں کہ ٹیکنالوجی اور میک ان انڈیا کے بڑھتے ہوئے کرداری کو اجاگر کیا جن میں آپریشن ، بحالی ، بنیادی ڈھانچے اور مسافروں کی خدمات شامل ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں لانچ ہونے والی ریل ون ایپ کو زبردست پذیرائی ملی ہے، جس کے 2.5 کروڑ سے زائد ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیں اور یہ روزانہ تقریباً 9.5 لاکھ ٹکٹ ٹرانزیکشنز کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔یہ ایپ مسافروں کی متعدد خدمات کو مربوط کرتا ہے جن میں ریزرو اور غیر ریزرو ٹکٹ ، پلیٹ فارم ٹکٹ ، ٹرین سے متعلق پوچھ تاچھ ، پی این آر کی تازہ صورتحال اور واحد پلیٹ فارم پر شکایات کا ازالہ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید پسینجر ریزرویشن سسٹم (پی آر ایس) کو کئی دہائیوں بعد مکمل طور پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جو مرحلہ وار نافذ ہو رہا ہے اور اس سے بکنگ کی رفتار اور شفافیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔تتکال بکنگ نظام میں بھی بہتری لائی گئی ہے تاکہ خودکار بوٹس اور غیر قانونی سافٹ ویئر کے ذریعے غلط استعمال کو روکا جا سکے، جس سے حقیقی مسافروں کے لیے دستیابی بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پورے نیٹ ورک پر اے آئی پر مبنی نظام، وائلڈ لائف پروٹیکشن کیمرے اور آئی او ٹی ، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو پیشگی دیکھ بھال کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
میک ان انڈیا پہل کے تحت بھارتی ریلوے ایک اہم برآمد کنندہ بھی بن چکا ہے اور اس کی برآمدات 24,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، جن میں جرمنی، امریکہ، فرانس، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک شامل ہیں۔
اسٹیشن کی تعمیر نو اور صلاحیت میں اضافہ
وزیر موصوف نے کہا کہ ریلوے دنیا کے سب سے بڑے اسٹیشن ری ڈیولپمنٹ پروگراموں میں سے ایک پر کام کر رہا ہے، جس میں تقریباً 1,300 اسٹیشن شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً 180 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 500 کے قریب آخری مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی طریقوں کے برعکس بھارت میں یہ کام ٹرین آپریشن جاری رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو کم سے کم پریشانی ہو۔اس کے علاوہ 48 بڑے شہروں میں اضافی پلیٹ فارم، اسٹبلنگ لائنز، پٹ لائنز اور کوچنگ ٹرمینلز کی تعمیر جاری ہے۔
پی ایم گتی شکتی کے تحت مربوط منصوبہ بندی
انہوں نے کہا کہ اب ریلوے کی توسیع پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں جغرافیائی ڈیٹا کی بنیاد پر مربوط منصوبہ بندی ہوتی ہے۔
سال 2014 کے بعد تقریباً 27,000 کلومیٹر نئے منصوبے منظور کیے گئے ہیں جن پر تقریباً 4.27 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔
شمال مشرقی خطے میں توسیع
انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں ریلوے رابطے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہےاور میزورم جیسے علاقوں کو نیٹ ورک سے جوڑ دیا گیا ہے جبکہ منی پور، ناگالینڈ اور سکم میں منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بہتر ریل رابطے نے نقل و حمل کی لاگت کو کم کیا ہے لاجسٹک کو بہتر بنایا ہے اور علاقے میں رسائی میں اضافہ کیا ہے۔
ریلوے اور ثقافتی رابطہ
وزیر موصوف نے ملک بھر کے اہم ثقافتی اور مذہبی مراکز تک ریلوے رابطے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔
ناشک، اجین، ہری دوار، راجہمندری اور کمبھ کونم جیسے شہروں میں کمبھ میلوں کےبڑے پیمانے پر انعقاد کے لیے جامع انفراسٹرکچر ترقیاتی منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں اسٹیشنوں کی جدید کاری، اضافی برج کی تعمیر، انڈر پاسز، ٹریک ڈبلنگ اور سگنلنگ نظام میں بہتری شامل ہے تاکہ بڑی تعداد میں آنے والے مسافروں کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔
منصوبوں پر عملدرآمد اور زمین کے حصول کے چیلنجز
جناب ویشنو نے کہا کہ ریلوے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ریاستی حکومتوں کا فعال تعاون ضروری ہے، خاص طور پر زمین کے حصول کے معاملے میں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض علاقوں میں زمین کے حصول میں تاخیر نے منصوبوں کی پیش رفت کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی نظام کے تحت ریلوے کی ترقی ایک مشترکہ کوشش ہے، اور زمین کے حصول کے عمل میں تیزی مختلف ریاستوں میں منصوبوں کے نفاذ کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
ہائی اسپیڈ ریل اور بُلٹ ٹرین کی پیش رفت
جناب ویشنو نے ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل (بُلٹ ٹرین) منصوبے کے بارے میں تازہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔
اہم سنگ میل میں شامل ہیں:
- 300 کلومیٹر سے زائد ویاڈکٹ کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔
- پیئرز کی تعمیر، ٹریک بچھانے اور اسٹیشنوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
- مختلف دریاؤں پر برج مکمل کیے جا چکے ہیں۔
- بھارت کی پہلی زیرِ سمندر ریلوے سرنگ پر بھی کام جاری ہے اور اس میں پہلے ہی پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو مرحلہ وار 2027 سے شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کے تحت ٹرینیں 350 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلیں گی، اور ممبئی اور احمد آباد کے درمیان سفر کا وقت 2 گھنٹے سے کم رہ جائے گا۔
وزیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ سات اضافی ہائی اسپیڈ ریلوے کوریڈورز کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد بھارت کا ہائی اسپیڈ نیٹ ورک مستقبل میں تقریباً 4,000 کلومیٹر تک پھیل جائے گا۔
مسافروں کے تجربے اور صفائی میں اصلاحات
جناب ویشنو نے کہا کہ مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے، خاص طور پر صفائی کے حوالے سے، مسلسل اصلاحات جاری ہیں۔ ایک نئی پہل پائلٹ بنیاد پر طویل فاصلے کی ٹرینوں میں شروع کی گئی ہے، جس کے تحت جنرل کوچز سمیت تمام کلاسز میں سفر کے شروعاتی مقام سےآخری منزل پہنچنےتک مسلسل صفائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام منتخب ٹرینوں میں مختلف زونز میں نافذ کیا جا رہا ہے اور اس سے مجموعی مسافری اطمینان میں بہتری متوقع ہے۔
سرحدی انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک رابطہ
اپنے اختتامی بیان میں جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ سرحدی اور اسٹریٹجک علاقوں میں ریلوے رابطے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کا مقصد نہ صرف اسٹریٹجک نقل و حرکت کو بہتر بنانا ہے بلکہ علاقائی ترقی کو بھی فروغ دینا ہے۔
جموں و کشمیر میں بارہمولہ–اڑی توسیع (ڈی پی آر مرحلہ)، قاضی گنڈ–بڈگام ڈبلنگ، اور جموں–راجوری–پونچھ رابطے کے سروے جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
شمال مشرقی خطے میں لنکا–سلچر، ڈیکارگاؤں–سیلگھاٹ اور دیگر اسٹریٹجک روٹس کے لیے ڈی پی آر کی تیاری اور تکمیل جاری ہے۔ اسی طرح نیو جلپائی گوڑی اور کامکھیا کے درمیان اضافی لائنوں کے لیے سروے اور تعمیراتی کام بھی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی رابطے کے منصوبے، جن میں بھوٹان جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط بھی شامل ہیں، بھی شروع کیے گئے ہیں۔
شمالی اور مغربی سرحدی علاقوں میں ہند- پاکسان سرحد سمیت انوپ گڑھ–کھجوالہ، جیسلمیر–باڑمیر–بھلڈی اور دیگر روٹس پر پروجیکٹ تیار کیے جار ہے ہیں تاکہ رسائی اور لاجسٹکس بہتر ہو سکے۔
ہماچل پردیش اور قریبی علاقوں میں بیری–منالی–لیہ (ڈی پی آر مرحلہ) اور گھاناولی–بدی لائن جیسے منصوبے بھی پیش رفت پر ہیں۔ اسی طرح پنجاب اور دیگر شمالی ریاستوں میں نئی لائنوں اور گنجائش میں اضافے کے پروجیکٹ جاری ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سلی گوڑی کوریڈور میں ایک اہم منصوبہ زیر غور ہے، جس کے تحت 30 کلومیٹر طویل زیر زمین ڈبل لائن کوریڈور بنایا جا رہا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں بھی بلا تعطل رابطہ برقرار رہے۔
اس کے علاوہ بھارت–نیپال سرحد کے ساتھ متعدد ڈبلنگ اور گنجائش میں اضافے کے منصوبے جاری ہیں، جن میں نرکٹیا گنج–رکسول–سیتامڑھی–در بھنگہ–مظفرپور جیسے سیکشن شامل ہیں، تاکہ سرحد پار رابطے اور علاقائی ترقی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ریلوے عملے کا اعتراف اور اختتام
جناب اشونی ویشنو نے تقریباً 12.5 لاکھ ریلوے ملازمین جن میں لوکو پائلٹ، ٹریک مینٹینر، اسٹیشن اسٹاف اور تکنیکی عملہ شامل ہے،کی خدمات کو سراہا، جو ملک بھر میں بلا تعطل ریلوے آپریشنز کو یقینی بناتے ہیں، حتیٰ کہ تہواروں اور مشکل حالات میں بھی کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی ریلوے کی یہ تبدیلی اس کے عملے کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے، جسے مسلسل پالیسی سپورٹ اور سرمایہ کاری حاصل ہے۔
گرانٹس کی یہ درخواست پارلیمان کی منظوری کے لیے پیش کی گئی ہے، جس میں وزارت کے تفصیلی اخراجات شامل ہیں۔ اس میں اہم ترجیحات جیسے گنجائش میں اضافہ، حفاظت میں بہتری، نیٹ ورک کی بھیڑ کم کرنا اور مسافری سہولیات شامل ہیں، جبکہ آپریشنل ذمہ داریوں کا توازن بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
**********
ش ح۔ ع ح ۔ش ب ن
U-7106
(ریلیز آئی ڈی: 2261412)
وزیٹر کاؤنٹر : 10