وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کے کھوئے ہوئے ثقافتی ورثے کی واپسی کا جشن: مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت کا نیشنل میوزیم میں پریس کانفرنس سے خطاب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAY 2026 5:56PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج کہا کہ امریکہ سے مقدس نوادرات کی واپسی ہندوستان کی تہذیبی یادداشت کی بحالی کی علامت ہے اور یہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک کے ثقافتی ورثے کو واپس لانے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

نیشنل میوزیم، جنپتھ، نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے 'اسمتھ سونین کے نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ' سے تین تاریخی کانسے کے مجسموں کی واپسی کو ہندوستان کی ان مسلسل کوششوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا، جن کا مقصد چوری شدہ ثقافتی خزانے واپس لانا اور عالمی سطح پر عجائب گھروں کے اخلاقی طریقوں کو مضبوط بنانا ہے۔

 

واپس لائے گئے کانسہ کے ان مجسموں میں چول عہد کا 'شیو نٹراج' (تقریباً 990 عیسوی)، 12 ویں صدی کا 'سوما اسکند' (شیو اور اوما) اور 16 ویں صدی کے وجیانگر عہد کا 'سنت سندرر اور پراوئی' کا مجسمہ شامل ہے۔ یہ مقدس مندروں کے نوادرات، جن کا تعلق اصل میں تمل ناڈو سے ہے، 20 ویں صدی کے وسط میں غیر قانونی طور پر ہندوستان سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے اور بعد ازاں بیرونِ ملک رکھے گئے تھے۔

وزیر موصوف نے ذکر کیا کہ نوادرات محض فن پارے نہیں ہیں بلکہ یہ ہندوستان کی روحانی روایات، تاریخی تسلسل اور تہذیبی یادداشت کا مظہر ہیں۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ نوادرات کی غیر قانونی اسمگلنگ نے کئی دہائیوں تک ہندوستان کو انمول ثقافتی خزانوں سے محروم رکھا ہے۔

 

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا(اے ایس آئی) نے آرکائیول ریکارڈز، فیلڈ ڈاکیومینٹیشن اور 1950 اور 1960 کی دہائیوں کی مندروں کی تاریخی تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے وسیع تحقیقی مہم کے ذریعے ان نوادرات کے تمل ناڈو کے اصل مندروں تک سراغ لگانے میں کامیابی حاصل کی۔ ان تحقیقاتی نتائج نے وزارتِ ثقافت، اسمتھ سونین انسٹی ٹیوشن اور امریکہ میں ہندوستانی سفارت خانے کے درمیان مربوط مذاکرات کی بنیاد فراہم کی۔

 

واپس لائے گئے نوادرات کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • شیو نٹراج (چول عہد، تقریباً 990 عیسوی): اس کا تعلق اصل میں ضلع تھانجاور کے 'سری بھوا اوشدیشور مندر' سے ہے، جہاں 1957 میں اس کی تصویر کشی کی گئی تھی۔
  • سنت سندرر اور پراوئی (16 ویں صدی، وجیانگر عہد): اس کی تصویر 1956 میں تمل ناڈو کے گاؤں ویراسولاپورم کے 'شیو مندر' میں کھینچی گئی تھی۔
  • سوما اسکند - شیو اور اوما (12 ویں صدی، چول عہد): اس نوادرات کی تصویر 1959 میں تمل ناڈو کے گاؤں الاتور کے 'وشواناتھ مندر' میں لی گئی تھی۔

 

سوما اسکند اور سنت سندرر مع پراوئی کے کانسی کے مجسمے 12 مئی 2026 کو نئی دہلی پہنچ گئے، جبکہ 'شیو نٹراج' کا مجسمہ "جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور ہمالیہ میں علم کا فن" کے عنوان سے منعقدہ نمائش میں مقررہ نمائش کے بعد واپس لایا جائے گا۔

خیر سگالی کے طور پر اور ذمہ دارانہ عجائب گھر کے تعاون کی حمایت میں، حکومتِ ہندوستان نے 2025 سے 2028 تک 'شیو نٹراج' کے مجسمے کے لیے تین سالہ قرض کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ دنیا بھر کے شائقین اس کے آغاز سے واپسی تک کے مکمل تاریخی سفر کو سمجھ سکیں۔

وزیر موصوف نے یہ بھی مطلع کیا کہ 2014 سے اب تک ہندوستان نے مختلف ممالک سے 666 نوادرات کامیابی سے واپس حاصل کیے ہیں، جن میں سے 653 صرف 2014 کے بعد، وزارتِ ثقافت، اے ایس آئی ، بیرونِ ملک ہندوستانی مشنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل سفارتی، قانونی اور ادارہ جاتی کوششوں کے ذریعے واپس لائے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہندوستانی نژاد 657 فن پارے امریکہ میں ہندوستانی سفارت خانے کے حوالے کیے ہیں، اور اے ایس آئی کے ماہرین کے ذریعے ان کی منتقلی اور تصدیق کے انتظامات جاری ہیں۔

پریس کانفرنس میں جناب وویک اگروال، سکریٹری وزارتِ ثقافت اور نیشنل میوزیم، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا، وزارتِ ثقافت کے دیگر سینئر حکام، معزز مہمانوں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس تقریب نے بین الاقوامی تعاون، اخلاقی ذمہ داری اور ادارہ جاتی عزم کے ذریعے اپنے چوری شدہ ثقافتی ورثے کی بحالی اور تحفظ کے لیے ہندوستان کے پختہ ارادے کی تجدید کی ہے۔

 

***********

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 7036 )


(ریلیز آئی ڈی: 2260843) وزیٹر کاؤنٹر : 8