قانون اور انصاف کی وزارت
ضلعی اور ذیلی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مرکزی سرپرستی والی اسکیم کے تحت مالی سال 27-2026 کی پہلی قسط جاری
مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف (آزادانہ چارج) جناب ارجن رام میگھوال نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے مالی سال 27-2026 کی پہلی قسط کا اجراء کیا
"ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد کے ذریعے ضلعی اور ذیلی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری"
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAY 2026 5:19PM by PIB Delhi
قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ارجن رام میگھوال نے آج نئی دہلی کے 'کرتویہ بھون-2' میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران، پی ایف ایم ایس سسٹم کے ذریعے مالی سال 2027-2026 کے لیے 401.50 کروڑ روپے کی پہلی قسط جاری کی۔ یہ فنڈز وزارتِ قانون و انصاف کے محکمہ انصاف کی "ضلعی اور ذیلی عدالتوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کی مرکزی سرپرستی والی اسکیم" (سی ایس ایس) کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری کیے گئے ہیں۔
اس اسکیم کے تحت فنڈز کا اجراء محکمہ انصاف کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ریاستی حکومتوں کی مدد کر کے ملک بھر میں ضلعی اور ماتحت عدلیہ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس میں متعلقہ ہائی کورٹس اور ریاستی حکومتوں کے نمائندوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب ارجن رام میگھوال نے 'انصاف کی آسانی' کے وژن کے ساتھ عدلیہ کے لیے مناسب بنیادی ڈھانچے کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے انصاف کو شہریوں کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس اسکیم کے مقاصد اور تاریخی پس منظر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تمام ہائی کورٹس اور ریاستی حکومتوں کو مطلع کیا کہ اس اسکیم کی موجودہ مدت 31 مارچ 2026 کو ختم ہو رہی تھی اور اب اس میں مزید 5 سال (مالی سال 2027-2026 سے 2031-2030 تک) کی توسیع کا عمل جاری ہے۔ عام شہریوں اور سائلین کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسکیم میں ایک نیا جزو یعنی 'سائلین کے لیے انتظار گاہ' شامل کرنے کی بھی تجویز ہے۔ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے وزارتِ خزانہ نے پہلے ہی اس اسکیم میں 30 ستمبر 2026 تک عارضی توسیع کر دی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے 12 مئی 2026 کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس اروند کمار کی سربراہی میں ایک "عدالتی بنیادی ڈھانچہ مشاورتی کمیٹی" تشکیل دی ہے تاکہ پورے ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کے ایک متحدہ نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ انصاف کے سکریٹری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ملک بھر میں ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ضرورت اور 94-1993 سے اس سمت میں کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
اجلاس کے دوران ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں عدلیہ کے لیے جدید اور مضبوط جسمانی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے حکومتِ ہندوستان کی کوششوں اور کامیابیوں کو پیش کیا گیا۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ اسکیم کے آغاز سے اب تک 12,844.72 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 9,400.41 کروڑ روپے (73.18 فیصد) گزشتہ 12 برسوں میں جاری ہوئے۔ فنڈز کی تقسیم کے طے شدہ فارمولے کے مطابق، شمال مشرقی ریاستوں کے علاوہ دیگر ریاستوں کے لیے مرکز اور ریاست کا تناسب 40:60، شمال مشرقی اور دو ہمالیائی ریاستوں کے لیے 10:90 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 100 فیصد مرکزی فنڈنگ رکھی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں 31 مارچ 2026 تک 6,345 کورٹ ہالز اور 4,023 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ 3,161 کورٹ ہالز اور 3,245 رہائشی یونٹس زیرِ تعمیر ہیں۔
جناب میگھوال نے 'ایکشن ریسرچ اینڈ اسٹڈیز آن جوڈیشل ریفارمز' کے تحت تین تحقیقی رپورٹیں بھی جاری کیں، جن کا مقصد عدالتی اصلاحات سے متعلق مسائل پر تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ اس کے لیے محکمہ انصاف 25 لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کرتا ہے۔
علاوہ ازیں، مرکزی وزیر نے شمال مشرق کے قبائلی معاشروں کے روایتی قوانین پر مبنی تین ای-بکس کا بھی اجراء کیا۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کے 'لا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ' کے تعاون سے تیار کردہ ان کتابوں میں آسام کے 'ہرانگکھول' اور 'بیاتے' اور آسام و میگھالیہ کے 'ہاجونگ' قبائل کے روایتی قانونی طریقوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی قانونی روایات کو محفوظ بنانا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے علاقائی، قانونی اور ثقافتی علم تک عوامی رسائی کو بڑھانا ہے۔




************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 7034 )
(ریلیز آئی ڈی: 2260830)
وزیٹر کاؤنٹر : 5