وزارتِ تعلیم
جناب دھرمیندر پردھان نے آج بھارت انوویٹ 2026 کے اعلیٰ سطحی سفارتی اجلاس سے خطاب کیا
ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے: جناب دھرمیندر پردھان نے عالمی برادری کو بھارت انوویٹ 2026 میں شرکت کی دعوت دی
بھارت انوویٹ 2026 سے قبل بھارت نے سفارتی برادری کے سامنے ڈیپ ٹیک اختراعات کے اپنے وژن کو پیش کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAY 2026 7:48PM by PIB Delhi
وزارت تعلیم، حکومت ہند نے آج سشما سوراج بھون، نئی دہلی میں بھارت انوویٹ 2026 کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی سفارتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ یہ اجلاس بھارت انوویٹ 2026 کی تیاریوں کے تحت منعقد ہونے والی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔ یہ تقریب 14 سے 16 جون 2026 تک فرانس کے شہر نِیس میں انڈیا-فرانس ایئر آف انوویشن کے تحت منعقد کی جائے گی۔
اس اجلاس میں مختلف ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنروں، سفارت کاروں اور حکومت ہند کے حکام نے شرکت کی تاکہ بھارت کے تیزی سے فروغ پاتے اختراعی نظام کے ذریعے عالمی تعاون کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے آج بھارت انوویٹ 2026 کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارت آج عالمی سطح پر درپیش رکاوٹوں اور چیلنجز کو نئی اختراعات کے مواقع کے طور پر دیکھ رہا ہے اور مستقبل کی ترقی کی سمت متعین کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب صرف ٹیکنالوجی کی منڈی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی تیار کرنے والا اور دنیا کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بن رہا ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اختراع کو قومی ترجیح بنایا گیا ہے، جس میں تحقیق، ترقی اور قومی و عالمی چیلنجوں کے حل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ جناب پردھان نے کہا کہ بھارت کی نوجوان آبادی، اسٹارٹ اپ نظام، اعلیٰ تعلیمی ادارے، قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور اٹل اِنویشن مشن جیسے اقدامات تنقیدی سوچ، کثیر جہتی تعلیم، صنعت کاری اور علم کی تخلیق کے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔
جناب پردھان نے مزید کہا کہ بھارت اِنووَیٹس 2026 ایک قومی اختراعی تحریک اور اختراع کاروں، سرمایہ کاروں، اداروں، صنعتوں اور حکومتوں کے درمیان تعاون کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم ہے۔ ”شمولیتی اختراع“ کے بھارتی فلسفے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی اختراعات صرف ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ دنیا، خصوصاً گلوبل ساؤتھ، کے لیے کم لاگت، قابلِ توسیع اور شمولیتی حل فراہم کرنے کے لیے بھی ہیں۔
فرانس میں منعقد ہونے والے بھارت انوویٹ 2026 میں عالمی برادری کو شرکت کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت تنہا ترقی نہیں چاہتا بلکہ شراکت داری، تعاون اور اشتراک کے ذریعے ترقی کا خواہاں ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اس وژن کو دہراتے ہوئے کہ ”ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے“ اور ترقی کو شمولیتی رہنا چاہیے، شری پردھان نے عالمی شراکت داروں سے انسانیت کے اجتماعی فائدے کے لیے بھارت کے اختراعی سفر میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
وزارت خارجہ کے خارجہ سکریٹری جناب وکرم مسری نے کہا کہ بھارت انوویٹ ٹیکنالوجی، اختراع، اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں ایک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے فرانس کو بھارت کا ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2026 کو انڈیا-فرانس ایئر آف انوویشن قرار دیا گیا ہے، جس کا آغاز رواں سال فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دورۂ بھارت کے دوران کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری عالمی برادری کے وسیع تر مفاد کے لیے ہے اور دنیا کے لیے بھارت کے قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار ہونے کی عکاس ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سکریٹری، اعلیٰ تعلیم، ڈاکٹر وینیت جوشی نے بھارت انوویٹ 2026 کو بھارت کے اختراعی نظام کی عالمی نمائش کے طور پر اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں، لیبارٹریوں، ریسرچ پارک اور اختراعی نظام سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت میں اعلیٰ تعلیم اب صرف تعلیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ صنعت کاری، ٹیکنالوجی کی ترقی، مسائل کے حل اور معاشی نمو کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
وزارت تعلیم کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سومیا گپتا نے بھارت انوویٹ 2026 پر ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ اس اجلاس کے ذریعے غیر ملکی سفارتی مشن کو بھارت انوویٹ 2026 کے پیمانے، موضوعاتی ترجیحات، ادارہ جاتی شرکت اور بھارت ا انوویٹ اسٹارٹ اپس کے انتخاب کے عمل سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
آج مرکزی وزیر تعلیم اور سفارتی برادری کے درمیان ہونے والی بات چیت نے سرمایہ کاروں، جامعات، تحقیقی اداروں، انکیوبیٹر اور صنعتی شراکت داروں کو بھارت کے ڈیپ ٹیک اور تحقیق پر مبنی اسٹارٹ اپ نظام سے جوڑنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ بات چیت کے دوران تحقیقی تعاون، اسٹارٹ اپ شراکت داری، ٹیکنالوجی کی توثیق، مارکیٹ تک رسائی اور تعلیمی تعاون کے مواقع پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بھارت انوویٹ 2026 اختراعی شراکت داریوں کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم ہے، جہاں بھارت کے ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپ اور تحقیق پر مبنی اختراعی نظام کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں، جامعات، صنعتی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس تقریب میں 13 موضوعاتی ایس ٹی ای ایم شعبوں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد اسٹارٹ اپ شریک ہوں گے، جو 15 سے زائد بھارتی اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئیز) کے تعاون سے شرکت کریں گے۔ اس کے ساتھ دنیا بھر سے ممتاز تعلیمی ادارے، سرمایہ کار اور حکومتی شراکت دار بھی اس پلیٹ فارم کا حصہ ہوں گے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد بھارت کے ابھرتے ہوئے اختراعی نظام کے لیے اسٹریٹجک تعاون، ٹیکنالوجی کے تبادلے، تحقیقی شراکت داریوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو فروغ دینا ہے۔
************
ش ح۔ ف ش ع
U: 6991
(ریلیز آئی ڈی: 2260456)
وزیٹر کاؤنٹر : 3