وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

گجرات کے شہر وڈودرا میں سرداردھام ہاسٹل کے افتتاح کے موقع پر وزیرِ اعظم کے خطاب کا انگریزی ترجمہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAY 2026 10:09PM by PIB Delhi

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

گجرات کے مقبول وزیرِ اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، نائب وزیرِ اعلیٰ ہرش سنگھوی جی، مرکزی وزیر اور بانی ٹرسٹی منسکھ بھائی مانڈویہ، سرداردھام کے صدر گاگجی بھائی ستاریا جی، دشینت بھائی پٹیل، پنکج بھائی پٹیل، ریاستی بی جے پی صدر جگدیش وشوکرما جی، اسٹیج پر موجود گجرات حکومت کے تمام وزراء، تمام عطیہ دہندگان، ٹرسٹیز، معزز مہمانانِ گرامی، اور گجرات کے کونے کونے سے یہاں تشریف لانے والے میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔

آج کا دن کسی مقدس تہوار سے کم نہیں ہے۔ یہاں آنے سے قبل میں سومناتھ مندر میں موجود تھا۔ سومناتھ مندر کی پران پرتِشٹھا کے پچھتر برس مکمل ہو چکے ہیں۔ سومناتھ مندر کی تعمیر نو سردار پٹیل کے عزم کے ذریعے ممکن ہوئی تھی۔ اس موقع پر پربھاس پاٹن میں سومناتھ امرت مہوتسو منایا جا رہا ہے اور اسی دن وڈودرا میں سرداردھام سے وابستہ کئی اہم منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ڈاکٹر دشینت اور دکشا پٹیل کمپلیکس کا افتتاح، تعلیمی امدادی اسکیم کا آغاز اور نئے منصوبوں کا سنگِ بنیاد — یہ تمام اقدامات مستقبل میں قوم کی تعمیر کے مؤثر ذرائع ثابت ہوں گے۔ ایک طرح سے یہ ادارے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کے کیریئر کے لیے لانچنگ پیڈ کا کردار ادا کریں گے۔

میں اس نیک کام کے لیے آپ سب کو اور سماج کے ہر فرد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

آج آپ کے درمیان آ کر مجھے ایک اور خوشی بھی حاصل ہو رہی ہے۔ بنگال، آسام اور پڈوچیری کے انتخابی نتائج نے پورے ملک میں جوش و خروش کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ سب نے مل کر تاریخ بھی رقم کی ہے — گجرات کے میونسپل اور پنچایت انتخابات کے نتائج بھی غیر معمولی رہے ہیں، اور ان کی پورے ملک میں چرچا ہو رہی ہے۔

ساتھیوں،

گجرات کے عوام نے ہمیشہ سیاسی استحکام کو اہمیت دی ہے۔ یہ ان کی سیاسی دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ جہاں سیاسی استحکام ہوتا ہے، وہاں اقتصادی ترقی تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔ گجرات نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ آج اس کے نتائج گجرات کی ترقی میں اور ایک کے بعد ایک انتخابی کامیابیوں کی صورت میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

ساتھیوں،

آپ لوگوں کے درمیان آنا اور آپ کے پروگراموں کا حصہ بننا میرے لیے ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا ہے؛ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اپنے گھر آیا ہوں۔ کیونکہ آپ کے درمیان سماج کی طاقت کا احساس ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب بھی حقیقی تبدیلی آتی ہے تو وہ سماج کی اجتماعی قوت سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ خاص طور پر وہ برادریاں جنہوں نے تعلیم کو ترجیح دی اور تعلیم میں مساوی شمولیت کو اپنا مقصد بنایا، وہ ہمیشہ ترقی کرتی رہیں اور نئی بلندیوں تک پہنچیں۔

اسی لیے، بھائیو اور بہنو،

سرداردھام کی ہر کوشش میں، جب بھی مجھے موقع ملا، میں نے ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہنے کی کوشش کی ہے۔ جیسا کہ گاگجی بھائی نے ابھی تفصیل سے بتایا، 2021 میں میں احمد آباد میں سرداردھام کے ایک پروگرام میں شریک ہوا تھا جہاں طالبات کے ایک ہاسٹل کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا۔ گزشتہ سال اس کا افتتاح کیا گیا۔ آج وہاں ہزاروں بیٹیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اپنے خوابوں کو نئی سمت دے رہی ہیں۔ سورت، راجکوٹ، بھج، مہسانہ اور دہلی میں سرداردھام کے ایسے کئی ادارے نوجوانوں کے مستقبل کو سنوار رہے ہیں۔ آج بھی احمد آباد کے نکول علاقے میں ایک ہزار طالبات کے نئے ہاسٹل کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔

ساتھیوں،

اگر تبدیلی کو وسیع اور اس کے نتائج کو دیرپا بنانا ہو تو سماج اور حکومت دونوں کو مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے اب تعلیم کے میدان میں زمینی حقائق کی بنیاد پر کام کیا جا رہا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ آج نوجوانوں کے راستے سے رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔ زبان کی بنیاد پر ہونے والا امتیاز ختم کیا جا رہا ہے۔ اب توجہ صرف کتابوں اور ڈگریوں تک محدود نہیں رہی۔ ہنرمندی کی تربیت اور اختراع کو تعلیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو مناسب ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ نوجوان ڈگری مکمل کرنے کے بعد بغیر تجربے کے دربدر نہ پھریں، اپرنٹس شپ کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ مستقبل میں ملک کے پاس کتنی بڑی تعداد میں ہنرمند افرادی قوت موجود ہوگی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ بھارت کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو پہنچے گا۔

ساتھیوں،

گجرات کے نوجوانوں میں قدرتی طور پر کاروباری صلاحیت موجود ہے۔ آج اسٹارٹ اپ انڈیا مشن ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے میں مدد کر رہا ہے۔ چھوٹے شہروں کے نوجوان بھی اب کاروباری بن رہے ہیں۔ بڑے اسٹارٹ اپس چھوٹے شہروں سے بھی ابھر رہے ہیں۔ اسٹارٹ اپس میں خواتین کی شمولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ وہ شعبے جو کبھی خطرناک سمجھے جاتے تھے، آج نوجوانوں کی پہلی ترجیح بن رہے ہیں۔ گزشتہ 10–12 سالوں میں ملک کی جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں- کھیلوں سے لے کر خلائی ٹیکنالوجی تک - وہ اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اور ہمارے گجرات کے بیٹے اور بیٹیاں اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ساتھیوں،

معاشرے کی ترقی کی سب سے بڑی بنیاد اس کی خواتین ۔ یعنی اس کے دوسرا نصف  کی شمولیت ہے۔ گجرات نے یہ بات دو دہائیاں پہلے سمجھ لی تھی اور اس سمت میں مضبوط اقدامات کیے تھے۔

ساتھیوں،

آج گجرات ماڈل کی یہی کامیابی پورے ملک میں دہرائی جا رہی ہے۔ کروڑوں خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ بیت الخلا، نل کے پانی کے کنکشن اور گیس کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ مدرا یوجنا کے ذریعے خواتین خود کفیل بن رہی ہیں۔ آیوشمان بھارت اور مترو ندن جیسی اسکیمیں ایک حفاظتی ڈھال کے طور پر کام کر رہی ہیں تاکہ خواتین خاندان کے اندر صحت مند رہ سکیں۔

ساتھیوں،

پہلے بیٹیوں کے لیے بہت سے شعبوں کے دروازے بند تھے۔ آج انہی شعبوں میں خواتین قیادت کر رہی ہیں۔ نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں اب خواتین کیڈٹس تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ ہماری بیٹیاں فائٹر پائلٹس بن رہی ہیں۔ سیاست میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے بھی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ناری شکتی وندن ترمیم کے ذریعے ہم نے اس سمت میں ایک اور کوشش کی۔ وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر منظور نہ ہو سکی، لیکن میں آپ سب کو اور ملک کی تمام خواتین کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ساتھیوں،

ہر شعبے میں خواتین کے لیے مواقع کے دروازے کھولنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ سماج کی بھی ذمہ داری ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ سرداردھام اس ذمہ داری کو پوری لگن کے ساتھ نبھا رہا ہے۔ میں خاص طور پر آپ سب کو ان کوششوں کے لیے مبارکباد اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

گجرات کی سب سے بڑی طاقت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ یہاں کا معاشرہ وقت کی سمت کو جلد پہچان لیتا ہے۔ تبدیلی کو موقع میں بدلنا، نئے امکانات کو قبول کرنا، اور مستقبل کے لیے پہلے سے تیاری کرنا، یہ ہمیشہ گجرات کے ورک کلچر کا حصہ رہا ہے۔ آج جب دنیا مستقبل کی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے تو گجرات بھی نئی رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، ایرو اسپیس، ایڈوانسڈ انجینئرنگ، ماحول کے لئےسازگار توانائی  اور مالیاتی خدمات میں گجرات ایک نئی شناخت بنا رہا ہے۔ سانند میں میڈ اِن انڈیا سیمی کنڈکٹرز تیار ہو رہے ہیں۔ کینز سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔ دُھولیرہ اور سورت میں بھی نئے سیمی کنڈکٹر منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ساتھیوں،

ہم بھارت اور گجرات کو عالمی سپلائی چین کے بڑے مراکز بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں وڈودرا بھی اس میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہاں تیار ہونے والے میٹرو کوچز دوسرے ممالک کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔ ساولی میں جدید ریلوے نظام اور کوچز تیار کیے جا رہے ہیں۔ انجینئرنگ، ہیوی مشینری، کیمیکل اور فارماسیوٹیکل، پاور ایکوئپمنٹ اور ایم ایس ایم ایز کے شعبوں میں وڈودرا ایک مضبوط مینوفیکچرنگ ہب بن چکا ہے۔ یہاں کی گتی شکتی یونیورسٹی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے میں ماہر پیشہ ور افراد تیار کر رہی ہے۔ اب وڈودرا ایرو اسپیس کے شعبے میں بھی ایک نئی پہچان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہاں کا ہوائی جہاز سازی کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

ساتھیوں،

گجرات اور ملک کی ترقی کی ان تمام کوششوں کے درمیان ایک اور مسئلہ بھی تیزی سے حساس بنتا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں دنیا غیر مستحکم حالات سے گزرتی رہی ہے۔ پہلے کورونا کا بحران آیا، پھر عالمی اقتصادی چیلنجز، اور اب مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی۔ یہ حالات پوری دنیا کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں اور بھارت بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ اگر کورونا وبا اس صدی کا سب سے بڑا بحران تھا تو مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات اس دہائی کے بڑے بحرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ جس طرح ہم نے مل کر  کورونا وبا کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح ہم اس بحران پر بھی قابو پا لیں گے۔

حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ ان نامساعد حالات کا عام شہریوں پر کم سے کم اثر پڑے۔ لیکن ایسے وقت میں ملک کو عوامی شرکت کی طاقت کی بہت ضرورت ہے۔ بھارت کے شہری ہونے کے ناطے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ ماضی کی دہائیوں میں بھی جب ملک جنگ یا بڑے بحرانوں سے گزرا تو شہریوں نے حکومت کی اپیل پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ آج بھی ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ملک کے وسائل پر بوجھ کم ہو۔ بھارت ہر سال لاکھوں کروڑ روپے کا زرمبادلہ مختلف مصنوعات کی درآمد پر خرچ کرتا ہے۔ ساتھ ہی درآمدی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس لیے ملک دوہرے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

جس طرح قطرہ قطرہ کرکے گھڑا بھر جاتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے درآمدی مصنوعات کے استعمال کو کم کرنا ہوگا اور ایسی غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کرنا ہوگا جن سے زرمبادلہ کا بے جا خرچ ہوتا ہو۔

ساتھیوں،

بھارت کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ خام تیل پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے وہ خطہ جہاں سے دنیا کے زیادہ تر تیل کی سپلائی آتی ہے، اس وقت جنگ اور تنازع کی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس لیے جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، ہم سب کو مل کر چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں اختیار کرنی ہوں گی۔ میں نے کل کرناٹک اور تلنگانہ میں بھی اس بات کا ذکر کیا تھا، اور آج گجرات میں دوبارہ اس پر زور دے رہا ہوں۔ اور چونکہ آپ لوگوں پر میرا کچھ زیادہ حق ہے، اس لیے میں محبت سے یہ بات کہوں گا کہ جہاں ممکن ہو پٹرول اور ڈیزل کا استعمال کم کریں۔ میٹرو سروسز، الیکٹرک بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں۔ کارپولنگ کو فروغ دیں۔ جن کے پاس گاڑیاں ہیں وہ زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر سفر کریں۔ جن کے پاس الیکٹرک گاڑیاں ہیں وہ بھی دوسروں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔

ساتھیوں،

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے بہت سی چیزوں کو آسان بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیں بہت فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ سرکاری اور نجی دفاتر میں ورچوئل میٹنگز اور ورک فرام ہوم کے طریقوں کو ترجیح دی جائے۔ میں کچھ اسکولوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے آن لائن کلاسز کے انتظامات پر غور کریں۔

ساتھیوں،

صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ خوردنی تیل کی درآمد بھی زرمبادلہ کا بڑا حصہ استعمال کرتی ہے۔ اگر ہم اعتدال اختیار کریں اور کھانے کے تیل کے استعمال کو کم کریں تو ملک اور ہماری صحت دونوں کو فائدہ ہوگا۔ اور میں خاص طور پر یہ بات سورت کے لوگوں سے کہہ رہا ہوں۔

اسی طرح، آپ کے خاندان کے ایک فرد کے طور پر میں تمام بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ سونے کی درآمد بھی بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔ میں تمام ہم وطنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، سونا خریدنے کو موخر کر دیں۔ اس وقت سونے کی کوئی فوری ضرورت نہیں ہے۔

ساتھیوں،

آج وقت کی ضرورت یہ ہے کہ “وکل فار لوکل” کو عوامی تحریک بنایا جائے۔ غیر ملکی اشیاء کی جگہ مقامی مصنوعات کو اپنایا جائے۔ اپنے دیہات، شہروں اور ملک کے کاروباری افراد کو مضبوط بنایا جائے۔ یہاں موجود بہت سے لوگ اعلیٰ اور عالمی معیار کی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔

ساتھیوں،

ہم میں سے اکثر کا تعلق زرعی پس منظر سے ہے۔ زراعت میں ہمیں مقامی کھادوں اور قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینا چاہیے۔ ڈیزل سے چلنے والے پمپس کی جگہ سولر پمپس کو اپنانا چاہیے۔ ہم کسانوں کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں؛ ہمیں سب سے پہلے اپنی زمین اور ماں دھرتی کو بچانا ہے۔ ہمیں کیمیائی کھادوں کے ذریعے اپنی مٹی کو تباہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے گاؤں کے ہر کسان کو کیمیائی کھادوں سے آزادی اور قدرتی زراعت کی طرف رہنمائی کریں۔

ساتھیوں،

ایک اور اہم مسئلہ ہے جو آپ میں سے بہت سے لوگوں پر لاگو ہوتا ہے ۔ براہِ کرم برا نہ مانیں۔ آج کل یہ فیشن بن گیا ہے کہ جیسے ہی تعطیلات شروع ہوتی ہیں، بچوں کو بیرونِ ملک جانے کے ٹکٹ دے دیے جاتے ہیں۔ لوگ چھٹیاں بیرونِ ملک گزارتے ہیں۔ موسمِ گرما کی تعطیلات قریب آ رہی ہیں۔ آج کل غیر ملکی سفر اور بیرونِ ملک جاکر شادی کرنے کا جانے کاا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ پہلے لوگ مجھے دعوت نامے بھیجتے تھے؛ اب نہیں بھیجتے کیونکہ شادیوں کا انعقاد بیرونِ ملک ہونے لگا ہے۔ لیکن اس سے بھی زرمبادلہ کا بڑا خرچ ہوتا ہے۔

ساتھیوں،

ذرا سوچئے — کیا بھارت میں ایسی خوبصورت جگہیں نہیں ہیں جہاں ہم اپنی چھٹیاں گزار سکیں؟ ہمیں اپنے بچوں کو اپنی تاریخ سکھانی چاہیے اور اپنے ہی مقامات پر فخر کرنا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ہم بھارت کے اندر ہی چھٹیاں گزاریں۔ اور شادیوں کے لیے بھی میرا یقین ہے کہ بھارت سے زیادہ مقدس جگہ کوئی نہیں ہو سکتی۔ جب شادیاں یہاں ہوتی ہیں تو ہمارے آباؤ اجداد کی مٹی بھی ہمیں دعائیں دیتی ہے۔

شادیوں کے لیے بھی بھارت میں بے شمار خوبصورت مقامات موجود ہیں جن کا انتخاب ہمیں کرنا چاہیے۔ گجرات میں ہی بے شمار دلکش مقامات ہیں۔ میں خاص طور پر اپنے پٹیل بھائیوں سے کہتا ہوں کہ اب آپ کو شادیوں کی تقریبات اسٹیچو آف یونٹی پر منعقد کرنی چاہئیں، جہاں سردار صاحب خود ہر شادی کو آشیرواد دیں گے۔ جس طرح ہریدوار اور رشیکیش میں روحانی سکون کے لیے انتظامات ہیں، اسی طرح اسٹیچو آف یونٹی میں شادیوں کے لیے بھی سہولیات تیار کی جانی چاہئیں۔

ساتھیوں،

گزشتہ برسوں میں اسٹیچو آف یونٹی اور ایکتا نگر بڑے سیاحتی مراکز کے طور پر ابھرے ہیں۔ کیا ہم یہ عہد کر سکتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اسٹیچو آف یونٹی دیکھنے کے لیے ترغیب دیں گے؟ بہت سے بھارتی بیرونِ ملک رہتے ہیں؛ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر ملکی خاندانوں کو بھارت کی سیر کے لیے لائیں۔ اپنے ہر جاننے والے خاندان کو، چاہے وہ بھارت میں ہو یا بیرونِ ملک، جو ابھی تک اسٹیچو آف یونٹی نہیں گیا، کم از کم ایک بار وہاں جانے کی ترغیب دیں۔ ایکتا نگر شادیوں کے لیے بھی ایک شاندار مقام بن سکتا ہے۔ اسٹیچو آف یونٹی کی سہولیات بہت بہترین ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کا ہے۔ اس ملک کا کوئی بھی شہری اس پر فخر محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ساتھیوں،

میں نے جو کوششیں بیان کی ہیں وہ تمام چھوٹی چھوٹی کوششیں ہیں؛ میں نے آپ سے کوئی مشکل کام نہیں مانگا۔ لیکن یاد رکھیں، جب 140 کروڑ بھارتی ایک ہی عزم کے ساتھ مل کر چلتے ہیں تو چھوٹی کوششیں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہیں۔ جب 140 کروڑ لوگ ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں تو ملک 140 کروڑ قدم آگے بڑھتا ہے۔

اس لیے ایک بار پھر ہمیں متحد ہونا ہوگا تاکہ کوئی بھی بحران ہماری ترقی اور پیشرفت میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر ان عہدوں کو پورا کریں گے اور ملک کو مضبوط بنائیں گے۔

اور میں گاگجی بھائی سے بھی ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ آپ نے مجھے سردار گورو رتن ایوارڈ سے نوازا۔ جب کوئی ایوارڈ سردار صاحب کے نام پر ہو تو ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرح سے گاگجی بھائی نے بڑی ہوشیاری سے مجھے باندھ دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ اب پیچھے نہیں ہٹنا۔ شاید میری تقدیر میں یہی لکھا ہے کہ سردار صاحب کے تمام خواب اور ادھورے کام مجھے ہی پورے کرنے ہیں۔

آج یہ اعزاز اور ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی دعاؤں سے اور گجرات کی مٹی سے ملی ہوئی طاقت اور اقدار کی بدولت میں سردار صاحب کے خوابوں کو پورا کرنے کے کام سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ گجرات میری فطرت کو بہت اچھی طرح جانتا ہے — پیچھے ہٹنا مجھے آتا ہی نہیں ہے۔

یہ اعزاز میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ میں نے ایک بار جنرل کیری اپا کے بارے میں ایک واقعہ پڑھا تھا۔ ان کے گاؤں میں انہیں اعزاز دینے کی تقریب ہونے والی تھی، اور وہ بہت خوش تھے۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ کیوں، تو انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مجھے فوجی روایات کے مطابق سلامی اور اعزاز ملتے ہیں، لیکن اپنے گھر میں عزت ملنے کی خوشی بالکل مختلف ہوتی ہے۔

آج بھارت کے وزیرِ اعظم کو دنیا بھر میں عزت دی جاتی ہے کیونکہ بھارت طاقتور بن رہا ہے۔ لیکن جب اپنے لوگوں سے، اپنے خاندان سے دعائیں اور آشیرواد ملتے ہیں تو کام کرنے کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

 

میں آپ سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے یہ سردار رتن ایوارڈ کی صورت میں دعائیں اور آشیرواد دیے، اور میں اسے عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔

ایک بار پھر دعا ہے کہ خدا آپ کو وہ طاقت دے جس سے آپ اپنے خوابوں اور عہدوں کو پورا کر سکیں۔ سردار صاحب کی دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں، اور آپ کے ساتھ پنکج بھائی جیسے ساتھی ہمیشہ موجود رہیں۔ ہم تینوں جو یہاں بیٹھے ہیں — پنکج بھائی، نرہری امین اور میں — ہم سب نرماان آندولن کے سپوت ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آج پنکج بھائی نے بھی ایک بڑی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

سردار کی جے! سردار کی جے! شکریہ۔ شکریہ۔

********

ش ح۔ع ح ۔ رض

U-6944


(ریلیز آئی ڈی: 2260171) وزیٹر کاؤنٹر : 6