وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
مرکزی سکریٹری برائے ماہی پروری کا مہاراشٹر میں زینتی مچھلیوں کے افزائشی مرکز کا دورہ، پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا کے تحت ترقی پسند ماہی پرور کسانوں سے ملاقات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 MAY 2026 6:33AM by PIB Delhi
وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے تحت محکمۂ ماہی پروری، حکومتِ ہند کے سکریٹری ڈاکٹر ابھلکش لکھی نے مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ کے منگرول گاؤں میں واقع زینتی مچھلیوں کے افزائشی مرکز کا دورہ کیا، جسے محترمہ یشودھرا سنجے کھنڈاگلے نے پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا کے تحت قائم کیا ہے۔ دورے کے بعد مرکزی سیکریٹری نے اس اسکیم کے مستفیدین سے بھی ملاقات کی تاکہ زمینی سطح پر درپیش مسائل اور چیلنجز کا جائزہ لیا جا سکے۔
مرکزی سیکریٹری کی جانب سے دورہ کیا گیا یہ افزائشی مرکز بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے، جہاں زینتی مچھلیوں کی 25 سے زائد اقسام کی افزائش اور حفاظت کی جاتی ہے۔ محترمہ یشودھرا سنجے کھنڈاگلے نے اپنے برانڈ ’’سام ڈسکس‘‘ کو ملک میں اعلیٰ معیار کی ڈسکس مچھلی پیدا کرنے والے نمایاں اداروں میں شامل کر دیا ہے۔ اس افزائشی مرکز میں 20 اقسام کی تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار زینتی مچھلیاں تیار کی جا چکی ہیں، جن سے اندازاً ایک کروڑ 93 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی، جبکہ تقریباً 25 سے 30 افراد کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ 7 سو سے زائد ٹینکوں سے لیس یہ مرکز مہارت کی تربیت، روزگار کی فراہمی اور بہترین عملی طریقوں کے فروغ میں بھی معاون ہے، نیز سجاوٹی ماہی پروری کے شعبے میں برآمدی امکانات کو مضبوط بنا رہا ہے۔ یہ افزائشی مرکز تمام ضابطہ جاتی معیارات پر پورا اترتا ہے اور حکومتی اسکیموں، جیسے جی اے آئی ایس اور این ایف ڈی پی، کے تحت شامل ہے۔ یہ ادارہ امریکہ، اٹلی، فرانس، ماریشس، جنوبی کوریا، قطر، کویت، ملیشیا، چین، ازبکستان، نائجیریا اور اسرائیل کو زینتی مچھلیاں برآمد کرتا ہے۔ یہ منصوبہ ماہی پروری کے شعبے میں اختراع، پائیداری اور ترقی کے فروغ کے لیے حکومتی معاونت کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت میں تقریباً 7 سو مقامی میٹھے پانی کی اور 3 سو سے زائد سمندری مچھلیوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو اس شعبے میں وسیع قدرتی وسائل کی عکاسی کرتی ہیں۔ بھارت سے زینتی مچھلیوں کی برآمدات کا تخمینہ تقریباً 41 کروڑ روپے ہے، جو قومی معیشت میں اس شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا کے تحت زینتی ماہی پروری بھارت میں ایک نہایت امکانات سے بھرپور شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے، جسے ملک کی حیاتیاتی تنوع کی دولت اور ملکی و عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب سے تقویت حاصل ہو رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایک ہزار 9 سو 86 گھریلو زینتی مچھلی افزائشی یونٹس، 6ہزار 18 مچھلی کیوسک اور ایکویریم، اور 170 خوردہ بازار، جن میں زینتی مچھلیوں اور ایکویریم کے مخصوص بازار بھی شامل ہیں، کو معاونت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ میٹھے پانی کی زینتی مچھلیوں کے افزائشی مراکز اور 199 مربوط زینتی مچھلی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جنہوں نے زینتی ماہی پروری کی قدر افزائی کی زنجیر کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے اور ملک بھر میں پیداوار، بازاری نظام اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا ہے۔ حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے ملک کے مختلف اہم علاقوں میں ماہی پیداوار اور پراسیسنگ کے 34 مراکز کو باضابطہ طور پر منظوری دی ہے، جن میں تمل ناڈو کے مدورائی میں قائم زینتی ماہی پروری مرکز بھی شامل ہے۔
مہاراشٹر میں سمندری اور اندرونِ ملک آبی وسائل کی بدولت ماہی پروری کا شعبہ نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ ریاست کی 877.97 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی، ایک سو تہتر مچھلی اُتارنے کے مراکز اور 5 سو 26 ماہی گیر دیہات 15 لاکھ سے زائد ماہی گیروں کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ مالی سال 2022-23 کے دوران ریاست میں تقریباً 5 لاکھ 90 ہزار ٹن مچھلی کی پیداوار ریکارڈ کی گئی۔
اندرونِ ملک ماہی پروری تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں آبی ذخائر، دریا، تالاب اور کھارے پانی کے علاقے شامل ہیں۔ بلیو ریولوشن اور پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا جیسی اسکیموں کے ذریعے مہاراشٹر نے آبی کاشت، ہیچریوں، پنجرہ جاتی ماہی پروری، بنیادی ڈھانچے اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے، اگرچہ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے مؤثر استعمال جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
یہ دورہ زمینی سطح پر جائزہ فراہم کرنے، متعلقہ فریقوں کی شمولیت کو فروغ دینے اور ہدفی پالیسی معاونت کو ممکن بنانے کے ذریعے زینتی ماہی پروری کے شعبے کو مزید مضبوط اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع رکھتا ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6841
(ریلیز آئی ڈی: 2259265)
وزیٹر کاؤنٹر : 19