صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نیشنل ہیلتھ اتھارٹی نے اے بی پی ایم-جے اے وائی آٹو-ایجوڈیکیشن ہیکاتھون شوکیس 2026 کے پہلے دن کا انعقاد کیا؛ جس میں دعووں کی جانچ کے عمل میں اے آئی پر مبنی اختراعات مرکز نگاہ رہیں


بھارت گلوبل ساؤتھ کے پہلے ممالک میں شامل ہے جس نے ہیلتھ اے آئی بینچ مارکنگ پلیٹ فارم تیار کیا ہے: ڈاکٹر سنیل کمار برنوال، سی ای او، این ایچ اے

“اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت شفافیت، کارکردگی اور پروگرام کی دیانتداری کو بہتر بنانے کے لیے مضبوط اے آئی پر مبنی ایجوڈیکیشن”

او سی آر سے لے کر ڈیپ فیک ڈیٹیکشن تک: اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت دعووں کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے اے آئی اختراعات پیش کی گئیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 MAY 2026 3:53PM by PIB Delhi

وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) نے نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے)، انڈیا اے آئی مشن اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی)، بنگلورو کے اشتراک سے آج اے بی پی ایم-جے اے وائی آٹو-ایجوڈیکیشن ہیکاتھون شوکیس 2026 کا افتتاح کیا، جو آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم – جے اے وائی) کے تحت صحت کے دعووں کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر مرکوز دو روزہ قومی تقریب کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

افتتاحی دن پالیسی سازوں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، انشورنس اداروں، تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹرز (ٹی پی ایز)، صحت کی خدمات فراہم کرنے والوں، تعلیمی اداروں اور اے آئی اسٹارٹ اپس کو اکٹھا کیا گیا تاکہ دعووں کی جانچ  میں کارکردگی، شفافیت اور دیانتداری کو بہتر بنانے کے لیے جدید اے آئی پر مبنی حل پر غور و خوض اور مظاہرہ کیا جا سکے۔

health 1.jpg

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنیل کمار برنوال، چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف آیوشمان بھارت پی ایم-جے اے وائی کے تحت صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کے نظام کی مجموعی کارکردگی اور مؤثریت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جدت معاشرے کے مختلف حصوں میں بٹی ہوئی ہے،جس میں ادارے، تعلیمی ادارے، اسٹارٹ اپس اور صنعت شامل ہیں اور ہیکاتھون جیسے اقدامات اس مشترکہ صلاحیت کو بروئے کار لا کر پیچیدہ صحت کے چیلنجز کو حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ڈاکٹر برنوال نے کہا کہ این ایچ اے صحت کے شعبے میں اے آئی کے فروغ کے لیے سرگرم ہے، جس میں آئی آئی ٹی کانپور میں ہیلتھ اے آئی کے لیے اوپن بینچ مارکنگ اینڈ ڈیٹا پلیٹ فارم ’’بی او ڈی ایچ‘‘کی تیاری شامل ہے، جس کا آغاز انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت گلوبل ساؤتھ کے ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ہندوستانی مخصوص ڈیٹا سیٹس کے ذریعے اے آئی حل کی تصدیق کے لیے ایسا پلیٹ فارم قائم کیا ہے، جو ایک ڈیجیٹل پبلک گڈ کے طور پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط اور شفاف کلیمز ایجوڈیکیشن ایمپینلڈ اسپتالوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے، بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنانے اور پروگرام کی دیانتداری کو بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت پیدا ہونے والا وسیع اور متنوع ڈیٹا اے آئی کے استعمال کے ذریعے کارکردگی، شفافیت اور نتائج کو مزید بہتر بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔

health 2.jpg

شوکیس کی ایک بڑی خاص بات ہیکاتھون کے تحت تیار کردہ جدید اے آئی/ایم ایل پر مبنی حلوں کی پیشکش تھی، جو تین اہم مسئلہ جاتی بیانات کے تحت تیار کیے گئے تھے، اور یہ سب اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت کلیمز ایجوڈیکیشن اور پروگرام کی دیانتداری کے بنیادی چیلنجز سے متعلق تھے۔

پہلا مسئلہ کلینیکل دستاویزات کی درجہ بندی اور اسٹینڈرڈ ٹریٹمنٹ گائیڈ لائنز (ایس ٹی جیز) کی تعمیل پر مرکوز تھا۔ جیتنے والی ٹیموں نے ایسے جدید حل پیش کیے جو مختلف طبی دستاویزات کی خودکار درجہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ساتھ ہی کم معیار اور مختلف نوعیت کے اسکینز پر کثیر لسانی آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن (او سی آر) کا اطلاق کرتے ہیں۔ یہ نظام کلینیکل اور بلنگ ڈیٹا کو اس کی ساخت کے ساتھ، اعتماد کے   اور ماخذ کی نگرانی  کے ساتھ نکالنے کے قابل تھے۔ مزید یہ کہ ان حلوں نے لازمی بصری نشانات جیسے ادارہ جاتی اسٹیمپ اور مجاز دستخطوں کی نشاندہی کی صلاحیت بھی ظاہر کی، جبکہ اسٹینڈرڈ ٹریٹمنٹ گائیڈ لائنز اور پالیسی تعمیل کے فریم ورک کے مطابق قابلِ وضاحت  ایجوڈیکیشن نتائج تیار کیے۔

دوسرا مسئلہ ریڈیالوجیکل امیج بیسڈ کنڈیشن ڈیٹیکشن اور رپورٹ کورلیشن سے متعلق تھا۔ جیتنے والی ٹیموں نے ایسے معاون اے آئی ٹولز پیش کیے جو پیچیدہ ریڈیالوجیکل ڈیٹا جیسے ایکس رے، سی ٹی اسکینز اور ایم آر آئیز کی تشریح کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ حل ایجوڈیکیٹرز کو امیجنگ نتائج کو بہتر طور پر سمجھنے، ریڈیالوجیکل نتائج کو اسپتال کی فراہم کردہ کلینیکل رپورٹس کے ساتھ منسلک کرنے، اور دعویٰ کردہ تشخیص، بیماری کے مرحلے اور علاج کے وقت کو مقررہ اسٹینڈرڈ ٹریٹمنٹ گائیڈ لائنز کے مطابق جانچنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے فیصلوں کی رفتار اور درستگی دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

health 3.jpg

تیسرا مسئلہ دستاویزاتی جعل سازی اور ڈیپ فیک ڈیٹیکشن پر مرکوز تھا۔ حصہ لینے والی ٹیموں نے ایسے مضبوط اے آئی/ایم ایل پر مبنی نظام پیش کیے جو کلیمز پروسیسنگ کے دوران جمع کرائی جانے والی طبی دستاویزات میں غیر معمولی  اور فراڈ کے پیٹرنز کو شناخت کر سکتے ہیں۔ ان میں جعلی ڈسچارج سمری، ترمیم شدہ بلنگ ریکارڈز، فرضی مریض  اور مصنوعی یا تبدیل شدہ طبی رپورٹس کی نشاندہی شامل تھی۔ ایسے حلوں سے ڈیجیٹل کلیمز ایجوڈیکیشن فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے اور اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت پروگرام کی دیانتداری کو محفوظ رکھنے کی توقع ہے۔

پروگرام میں “بھارتی صحت کے لیے اے آئی کی تعمیر” کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ بھی شامل تھا، جس کی صدارت وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکرٹری جناب ایس کرشنن نے کی۔ اس پینل میں حکومت، صحت کی ٹیکنالوجی کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور وسیع تر اے آئی ایکو سسٹم کے ممتاز نمائندوں نے شرکت کی تاکہ بھارت کے صحت کے نظام میں اے آئی حلوں کے نفاذ اور اسکیلنگ کے عملی راستوں، پالیسی پہلوؤں اور آپریشنل حکمتِ عملیوں پر غور کیا جا سکے۔

مباحثے میں چھوٹے لینگویج ماڈلز (ایس ایل ایمز) ، بڑے لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایمز) اور ملٹی موڈل اے آئی سسٹمز کے کردار پر توجہ دی گئی، خاص طور پر کم وسائل اور مقامی زبانوں کے ماحول میں صحت سے متعلق مختلف استعمالات کے حوالے سے۔ شرکاء نے ورک فلو انٹیگریشن، ویلیڈیشن فریم ورک، معیاری ڈیٹا سیٹس، ایج ڈیپلائمنٹ، پرائیویسی تحفظات اور قابلِ توسیع نفاذی راستوں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر جناب ایس کرشنن، سکریٹری، وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی؛ محترمہ جیوتی یادو، جوائنٹ سکریٹری (پی ایم جے اے وائی) ، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی؛ پروفیسر گووندن رنگاراجن، ڈائریکٹر، آئی آئی ایس سی بنگلورو کے ساتھ ساتھ صحت کے ماہرین، تعلیمی نمائندے، طلباء  اور اختراع کار موجود تھے۔

health 4.jpg

اے بی پی ایم جے اے وائی آٹو-ایجوڈیکیشن ہیکاتھون کا مقصد ایسے جدید ڈیجیٹل حلوں کو فروغ دینا ہے جو موجودہ اے بی-پی ایم جے اے وائی انفراسٹرکچر کے ساتھ بآسانی مربوط ہو سکیں، دستی کام کو کم کریں، پروسیسنگ کو تیز کریں  اور پورے نظام کے لیے ایک قابل توسیع اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ایجوڈیکیشن فریم ورک تشکیل دیں۔

اس اقدام کے ذریعے نیشنل ہیلتھ اتھارٹی ذمہ دار مصنوعی ذہانت  کے استعمال کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے تاکہ صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے، کلیمز مینجمنٹ میں کارکردگی بہتر بنائی جا سکے، اور اے بی پی ایم جے اے وائی کے تحت شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی صحت کی خدمات کی فراہمی کو فروغ دیا جا سکے۔

 

***

ش ح۔ ش ت۔ م الف

U. No- 6817


(ریلیز آئی ڈی: 2259138) وزیٹر کاؤنٹر : 7