PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز


قبائلی کھیلوں کا ایک نیا باب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 11:38AM by PIB Delhi

کلیدی نکات

پہلے کھیلو انڈیا  ٹرائبل گیمز کا انعقاد 25 مارچ سے 3 اپریل 2026 تک کیا جا رہا ہے، جو قبائلی کھلاڑیوں کے لیے  ہندوستان کا پہلا قومی سطح کا ملٹی اسپورٹس ایونٹ ہے۔

یہ کھیل چھتیس گڑھ میں رائے پور، جگدل پور اور سرگوجا میں منعقد ہو رہے ہیں، جہاں ملک بھر سے قبائلی کھلاڑیوں کو ایک قومی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا ہے۔

ان کھیلوں میں سات میڈل کھیل شامل ہیں، جبکہ مقامی اور روایتی کھیلوں کی نمائشی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

ان مقابلوں میں 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 60,000 سے زائد کھلاڑی 338 تمغوں کے لیے حصہ لے رہے ہیں۔

 ہندوستان کے اسپورٹس ایکو سسٹم کو وسعت دینا: کھیلو انڈیا کا وژن

کھیل افراد اور معاشروں کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ نظم و ضبط، اعتماد اور ٹیم ورک کو فروغ دیتے ہیں،  اس کے ساتھ ہی  اتحاد اور مشترکہ مقصد کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں۔  ہندوستان  جیسے ملک کے لیے کھیل صرف مقابلے کا نام نہیں ہیں، بلکہ یہ نوجوانوں کو مشغول رکھنے، صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے اور ترقی و مواقع کے راستے فراہم کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔

اسی ویژن کے تحت حکومتِ ہند نے ملک بھر میں کھیلوں کی ثقافت کو  مستحکم کرنے کے لیے ‘کھیلو انڈیا’ پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد نچلی سطح پر شرکت کو بڑھانا، باصلاحیت کھلاڑیوں کی نشاندہی کرنا اور نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل معاونت فراہم کرنا ہے۔ مقابلوں، تربیت اور مالی امداد کے امتزاج کے ذریعہ کھیلو انڈیا ایک زیادہ منظم اور قابل رسائی اسپورٹس نظام تشکیل دے رہا ہے۔

 

اس نقطہ نظر کی ایک اہم خصوصیت اس کی شمولیت  پر توجہ ہے۔ یہ پروگرام ان علاقوں اور قبائل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جہاں کھیلوں کے مواقع تاریخی طور پر محدود رہے ہیں، تاکہ ملک بھر سے موجود صلاحیتوں کو پہچانا اور پروان چڑھایا جا سکے۔ اس تناظر میں قبائلی برادریوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات، شمولیت کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

کھیلو انڈیا کے تحت یوتھ گیمز، یونیورسٹی گیمز، بیچ گیمز اور ونٹر گیمز سمیت مختلف قومی سطح کے کھیلوں کے ایونٹس منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی فریم ورک کے تحت ‘کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز’ کا اضافہ ایک نئے شعبے کے طور پر سامنے آیا ہے، جو قبائلی کھلاڑیوں کو قومی سطح کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی  ہندوستان  کی مقامی اور روایتی کھیلوں کی بھرپور روایت کو تسلیم اور فروغ دیتا ہے۔

کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز

abc.jpg

 ہندوستان  کی قبائلی برادریاں طویل عرصے سے غیر معمولی کھیلوں کی صلاحیتوں کا مرکز رہی ہیں—یہ کھلاڑی جسمانی طور پر مضبوط، باصلاحیت اور روایتی جسمانی سرگرمیوں میں گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ تاہم اس صلاحیت کا بڑا حصہ اب تک منظم کھیلوں کے ڈھانچے اور پلیٹ فارمز سے باہر رہا ہے۔

کھیلو انڈیا قبائلی کھیلوں کا مقصد اسی صلاحیت کو قومی سطح پر سامنے لانا اور اسے ایک باقاعدہ اور منظم اسپورٹس سسٹم کا حصہ بنانا ہے۔

کھیلو انڈیا قبائلی گیمز (کے آئی ٹی جی) کا پہلا ایڈیشن 25 مارچ سے 3 اپریل 2026 تک چھتیس گڑھ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ مقابلے ریاست کے تین میزبان شہروں—رائے پور، جگدل پور اور سرگوجامیں ہو رہے ہیں۔ یہ کھیلو انڈیا پروگرام کے تحت پہلا قومی سطح کا ملٹی اسپورٹس ایونٹ ہے جو خصوصی طور پر قبائلی کھلاڑیوں کے لیے وقف کیا گیا ہے، جس میں 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کھلاڑی ایک مشترکہ مسابقتی پلیٹ فارم پر حصہ لے رہے ہیں۔

ان کھیلوں میں سات میڈل مقابلے شامل ہیں: ایتھلیٹکس، فٹبال، ہاکی، ویٹ لفٹنگ، تیر اندازی، تیراکی اور ریسلنگ۔ اس کے ساتھ ساتھ مظاہراتی مقابلوں میں ملاکھمب اور کبڈی جیسے روایتی کھیل بھی شامل ہیں، جو ہندوستان  کی مقامی کھیلوں کی روایت اور جدید مسابقتی کھیل دونوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کبڈی: ایک روایتی کھیل جس کی جڑیں عالمی سطح تک پھیلی ہوئی ہیں

کبڈی  ہندوستان کے قدیم ترین مقامی کھیلوں میں سے ایک ہے، جس کی تاریخ برصغیر تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں یہ روایتی طور پر طاقت، حکمتِ عملی اور برداشت کے امتحان کے طور پر کھیلا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کھیل ایک مقامی تفریح سے ترقی کر کے ایک منظم کھیل کی شکل اختیار کر گیا، جس کے باقاعدہ قواعد 20ویں صدی کے اوائل میں وضع کیے گئے اور اس کے بعد منظم مقابلوں کا آغاز ہوا۔

اس کھیل کو بین الاقوامی سطح پر اس وقت نمایاں توجہ ملی جب اسے 1936 کے برلن اولمپکس میں ایک نمائشی کھیل کے طور پر پیش کیا گیا، جو عالمی سطح پر اس کی ابتدائی نمائشوں میں سے ایک تھی۔ اس سے کبڈی کو  ہندوستان  سے باہر کے ناظرین تک پہنچنے میں مدد ملی۔

آج بھی کبڈی اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے، جو روایتی جڑوں اور منظم مسابقتی کھیل کے امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے، اور  ہندوستان  کے مقامی کھیلوں کے ورثے کی ایک اہم علامت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔

ملاکھمب: طاقت، توازن اور روایت

ملاکھمب ایک روایتی ہندوستانی  کھیل ہے جو جمناسٹکس، یوگا اور طاقت کی تربیت کے عناصر کو یکجا کرتا ہے۔ یہ کھیل عمودی لکڑی کے کھمبے، رسی یا لٹکے ہوئے آلات پر انجام دیا جاتا ہے۔ اس کا نام خود ‘ملّا’ (پہلوان) اور ‘کھمب’ (کھمبا) سے ماخوذ ہے، جو اس کی اصل کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ابتدا میں پہلوانوں کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والی مشق تھی۔

کئی صدیوں پر محیط تاریخ رکھنے والا یہ کھیل ماضی میں چستی، طاقت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ ایک منظم کھیل کی صورت اختیار کر گیا، جس کی مختلف اقسام مثلاً پول، رسی اور ہینگنگ-  ملاکھمب وجود میں آئیں، جن میں اعلیٰ درجے کے توازن اور کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملاکھمب کو بین الاقوامی سطح پر بھی اُس وقت متعارف کرایا گیا جب اسے 1936 کے برلن اولمپکس میں ایک نمائشی کھیل کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے اس مقامی فن کو عالمی سطح پر پہچان ملی۔

آج ملاکھمب  ہندوستان  کی بھرپور جسمانی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں روایت اور کھیل کی مہارت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، اور اسے کھیلو انڈیاٹرائیبل گیمز جیسے پلیٹ فارمز میں بھی شامل کیا جاتا ہے جہاں مقامی کھیلوں کو جدید کھیلوں کے ساتھ فروغ دیا جاتا ہے۔

یہ اقدام صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں ہے۔ منظم کھیلوں کو اُن علاقوں تک لے جا کر جہاں رسائی اکثر محدود رہی ہے، یہ گیمز نوجوانوں کے لیے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں— خواہ  وہ آگاہی ہو، خوداعتمادی ہو یا مستقبل کے مواقع۔ اس لحاظ سے کھیل محض مقابلہ نہیں رہتا بلکہ جڑنے، ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔

سرکاری مسکوٹ‘مور ویر’ ان کھیلوں کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نام چھتیس گڑھی الفاظ ‘مور’ (ہمارا اپنا) اور‘ویر’ (بہادری) سے ماخوذ ہے، جو فخر، جذبے اور ہندوستان  کی قبائلی برادریوں کی شناخت کی علامت ہے۔

 

 

 

چھتس گڑھ: ایک نئے دور کا آغاز

چھتیس گڑھ: ایک نئے دور کا آغاز

یہ ایک اہم بات ہے کہ چھتیس گڑھ جو کئی دہائیوں سے بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثر رہا ہے، کھیلو انڈیاٹرائیبل گیمز - 2026 کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ اس خطے کے لوگوں کے حوصلے اور استقامت کی عکاسی کرتا ہے۔ کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز بستر، سرگوجا اور ڈنڈکارنیا جیسے قبائلی اکثریتی علاقوں تک منظم کھیلوں کے مواقع براہِ راست پہنچائیں گے، جہاں صلاحیتیں تاریخی طور پر نظرانداز ہوتی رہی ہیں۔

ریاستی حکومت نے گزشتہ سال بستر اولمپکس کا انعقاد کیا تھا، جس کے بعد 2026 میں سرگوجا اولمپکس منعقد کیے گئے، جو اس بات کی مثال ہیں کہ کمیونٹی سطح پر سرگرمیاں مقامی صلاحیتوں کو ابھار سکتی ہیں۔ کھیلو انڈیا قبائلی کھیلوں کا مقصد شرکت کو بڑھانا اور مقامی سطح پر ٹیلنٹ کی شناخت کرنا ہے۔

ان میں سے بہت سے علاقے وقت کے ساتھ سماجی و معاشی چیلنجز کا سامنا بھی کرتے رہے ہیں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ کھیل قبائلی کھلاڑیوں کو قومی کھیلوں کے نظام میں شامل کرنے اور ہندوستان  کے مستقبل کے ٹیلنٹ کے ذخیرے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز- 2026 کا انتظام مشترکہ طور پر وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی-سائی)، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن، قومی اسپورٹس فیڈریشنز اور چھتیس گڑھ کی ریاستی منتظمہ کمیٹی کر رہی ہے، جبکہ تکنیکی معیار کو بین الاقوامی مقابلوں کے مطابق رکھا گیا ہے۔

جیسے جیسے کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز آگے بڑھ رہے ہیں، یہ نہ صرف صلاحیتوں کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ ان کے پسِ منظر میں موجود کہانیوں کو بھی سامنے لا رہے ہیں—محنت، خواب اور خود کو منوانے کے مواقع کی کہانیاں۔

شرکت، میڈلز اور انتخابی نظام

کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز- 2026 میں قومی سطح پر نمایاں شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کھیلوں میں 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 60,000 سے زائد شرکاء حصہ لے رہے ہیں۔ یہ وسیع شرکت ملک بھر کی قبائلی برادریوں میں منظم کھیلوں کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی عکاسی کرتی ہے۔

ان کھیلوں میں سات مختلف کھیلوں کے شعبوں میں مجموعی طور پر 338 تمغوں کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے، جن میں 106 سونے، 106 چاندی اور 126 کانسہ کے میڈلز شامل ہیں۔ ایتھلیٹکس میں سب سے زیادہ  میڈل  رکھے گئے ہیں، اس کے بعد تیراکی، ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ کا نمبر آتا ہے، جو مختلف کھیلوں میں مقابلوں کے حجم اور تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔

۔

نمبرشمار

کھیل

میڈل

کل

سونا

چاندی

کانسہ

1.

تیر اندازی

10

10

10

30

2.

ایتھلیٹکس

34

34

34

102

3.

فٹ بال

2

2

4

8

4.

ہاکی

2

2

2

6

5.

تیراکی

24

24

24

72

6.

ویٹ لفٹنگ

16

16

16

48

7.

کشتی

18

18

36

72

مجموعی

106

106

126

338

کھیلو انڈیا ٹرائیبلز گیمز  کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب ایک منظم دو مرحلوں پر مشتمل عمل کے ذریعے کیا گیا:

مرحلہ- 1: ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اپنے متعلقہ اسپورٹس محکموں کے ذریعے سلیکشن ٹرائلز منعقد کیے، جن میں اہل قبائلی کھلاڑیوں کی شناخت کر کے انہیں اگلے مرحلے کے لیے نامزد کیا گیا۔

مرحلہ- 2: منتخب کیے گئے کھلاڑیوں نے متعلقہ قومی اسپورٹس فیڈریشنز کے زیرِ اہتمام، کھیلو انڈیا ٹیم کے اشتراک سے ہونے والے قومی سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لیا۔ حتمی انتخاب ان ٹرائلز میں کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا، جس سے شرکت کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی راستہ یقینی بنایا گیا۔

اس کے علاوہ، یہ کھیل ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، جہاں ایک خصوصی ٹیلنٹ آئیڈینٹی فکیشن اینڈ ڈیولپمنٹ کمیٹی (ٹی آئی ڈی سی) تعینات کی گئی ہے، جو باصلاحیت کھلاڑیوں کو تلاش کر کے انہیں کھیلو انڈیا کے تحت مزید تربیت اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

مقابلوں کا شیڈول اور انعقاد

کھیلو انڈیا قبائلی کھیل 2026 دس دنوں پر مشتمل ہیں، جن کے مقابلے مختلف مقامات پر منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ مقابلوں کا انعقاد مؤثر اور منظم انداز میں ہو سکے۔ شیڈول اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ مختلف کھیلوں کے مقابلے بیک وقت جاری رہیں، جس سے کھلاڑیوں کو شرکت اور آگے بڑھنے کے لیے مناسب وقت میسر آتا ہے۔

 

جیسے جیسے یہ کھیل 25 مارچ سے 3 اپریل تک جاری ہیں، شیڈول کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ جوش و خروش برقرار رہے اور ہر دن نئے مقابلے، نئی کہانیاں اور نئے چمپئن سامنے آئیں۔ یہ صرف تقریبات کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ تجربہ بننے کا ہدف رکھتا ہے، جو کھلاڑیوں، برادریوں اور ناظرین سب کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔

کھیلو انڈیا  ٹرائیبل گیمز- 2026 کو دوردرشن پر براہِ راست نشر کیا جا رہا ہے، جس سے ملک بھر کے لوگ ان لمحات کو دیکھ سکتے ہیں اور قبائلی نوجوانوں کے جذبے اور صلاحیتوں کا جشن منا سکتے ہیں۔

کھیلوں کی جھلکیاں

 

anz-jpg

 

ایک آزمودہ راستہ: کھیلو انڈیا کے تحت انفراسٹرکچر اور ٹیلنٹ کی ترقی

رسائی میں توسیع: کھیلو انڈیا کے تحت کھیلوں کا انفراسٹرکچر

پورے ملک میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا احاطہ کرتے ہوئے، کھیلو انڈیا پروگرام نے کھیلوں کے انفراسٹرکچر میں نمایاں توسیع کی ہے جس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 344 پروجیکٹوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان  پروجیکٹوں کے لیے کل 3,158.15 کروڑ روپے کی مالی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 2,730.95 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جو عمل درآمد میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

 

انفراسٹرکچر کے حوالے سے اس پروگرام کے تحت مختلف نوعیت کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں:

 

  • 126 کثیر المقاصد ہالز
  • 64 ایتھلیٹک ٹریکس
  • 25 فٹبال گراؤنڈز
  • 29 ہاکی میدان
  • 16 سوئمنگ پولز
  • 84 دیگر اسپورٹس سہولیات

انفراسٹرکچر کے اس بڑھتے ہوئے نیٹ ورک نے معیاری کھیلوں کی سہولیات تک رسائی کو روایتی مراکز سے آگے بڑھاتے ہوئے کمیونٹیز کے قریب پہنچایا ہے۔ چھتیس گڑھ اور دیگر قبائلی علاقوں جیسے خطوں میں یہ سرمایہ کاری ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، جس پر کھیلو انڈیا  ٹرائیبل گیمز جیسے اقدامات تعمیر کیے جا سکتے ہیں—جہاں انفراسٹرکچر کو شرکت اور طویل مدتی ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

صلاحیت سے کامیابی تک: کھیلو انڈیا کے تحت کھلاڑی

کھیلو انڈیا پروگرام نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی شناخت کر رہا ہے اور مختلف کھیلوں میں کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے معاونت فراہم کر رہا ہے۔ کھیلو انڈیا سینٹرز (کے آئی سیز) سے ابھرنے والی کامیابیاں ملک بھر میں موجود صلاحیت کے تنوع اور گہرائی دونوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

ایتھلیٹکس میں گنگن (اتر پردیش) نے 100 میٹر (انڈر-20) میں سونے کا تمغہ جیتا، جبکہ سنگیتا (اتر پردیش) نے ریاستی ویٹ لفٹنگ چمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ٹیم کھیلوں میں خوشی کماری (بہار) نے نیشنل رگبی سب جونیئر چمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیت کر غیر روایتی کھیلوں کے علاقوں سے ابھرتی ہوئی صلاحیت کو اجاگر کیا۔

جموں و کشمیر سے، ٹریزا بلال کی قیادت میں جمناسٹس نے نیشنل سب جونیئر ردمک جمناسٹکس چمپئن شپ میں شاندار کارکردگی دکھائی اور انفرادی و ٹیم مقابلوں میں متعدد میڈلز حاصل کیے۔ کبڈی میں، شاہد ظہور اور نازیہ لطیف (جموں و کشمیر) جیسے کھلاڑیوں کا سب جونیئر نیشنل چمپئن شپ کے لیے انتخاب ہوا، جو دور دراز علاقوں سے بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

کیرالہ میں، احناف پی کے (باکسنگ) اور ہری نندن پی اے (سوئمنگ) جیسے کھلاڑیوں نے ریاستی سطح پر گولڈ میڈلز جیتے اور قومی مقابلوں میں شرکت کی، جبکہ پنجاب کی کھلاڑی برم جوت کور نے ایتھلیٹکس مقابلوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کیں۔

ایتھلیٹکس، باکسنگ، کبڈی، جمناسٹکس اور رگبی سمیت مختلف کھیلوں میں یہ کامیابیاں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ چھوٹے شہروں اور کم سہولیات والے علاقوں کے کھلاڑی اب مقامی سطح سے نکل کر قومی سطح کے مقابلوں تک پہنچ رہے ہیں۔

اس تناظر میں کھیلو انڈیا ٹرائیبل گیمز اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھاتے ہیں، جو قبائلی برادریوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی سرپرستی کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں اور انہیں وسیع تر اسپورٹس نظام سے جوڑتے ہیں۔

 

اس رفتار کو برقرار رکھنا

قبائلی برادریوں کے لیے مخصوص پہلے قومی ملٹی اسپورٹس ایونٹ کے طور پر یہ کھیل صرف چمپئنز بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ شرکت، خوداعتمادی اور باہمی تعلق کے مواقع فراہم کرتے ہیں، جہاں نوجوان کھلاڑی ایسے ماحول میں قدم رکھتے ہیں جہاں ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

آگے کا مرحلہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ان کھیلوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی شناخت اور ان کی معاونت کی جا سکے۔ کوچز، تکنیکی ماہرین اور ٹیلنٹ اسکاؤٹس کی موجودگی میں باصلاحیت کھلاڑی منظم تربیتی نظام میں شامل ہو سکتے ہیں جن میں اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے مراکز میں مواقع بھی شامل ہیں۔ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک طویل سفر کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

جیسے جیسے یہ راستے مضبوط ہوں گے، کھیلو انڈیا  ٹرائیبل گیمز کے اثرات صرف تمغوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان مواقع میں نظر آئیں گے جو یہ فراہم کرتے ہیں۔ ان میدانوں میں، جہاں کبھی منظم کھیلوں تک رسائی محدود تھی، اب نئی کہانیاں جنم لے رہی ہیں—جہاں شرکت خوداعتمادی کو جنم دیتی ہے، اور خوداعتمادی کامیابی کے نئے دروازے کھولتی ہے۔

 

حوالہ جات

پریس انفارمیشن بیورو

وزارت برائے امور نوجوانان اور کھیل

دیگر

Khelo India Tribal Games

****

ش ح- ظ  الف-م ش

UR-6486


(ریلیز آئی ڈی: 2256905) وزیٹر کاؤنٹر : 14