کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

نیروبی میں باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت اور کینیا کی مشترکہ تجارتی کمیٹی کا 10واں اجلاس منعقد

بھارت کینیا کے ایک اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھ کر 4.31 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 APR 2026 12:46PM by PIB Delhi

بھارت اور کینیا کی مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کا 10واں اجلاس 27 سے 28 اپریل 2026 کو نیروبی، کینیا میں منعقد ہوا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کا جائزہ لیا جائے اور اسے مزید مستحکم کیا جائے۔ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت حکومتِ ہند کی وزارتِ تجارت و صنعت کے محکمۂ تجارت کے کامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال اور جمہوریہ کینیا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ فار ٹریڈ کی پرنسپل سکریٹری محترمہ ریجینا اکوٹاہ اومبام نے کی۔

فریقین نے دوطرفہ تجارت میں مستحکم ترقی کا ذکر کیا، جس میں بھارت کینیا کے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ بھارت اور کینیا کے درمیان کل تجارت 2025-26 میں 4.31 ارب امریکی ڈالر رہی، جو کہ 2024-25 کے 3.45 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 24.91 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ان مذاکرات میں تجارت میں تنوع لانے، مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کو حل کرنے اور انجینئرنگ کے سامان، ادویات سازی، زراعت اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر خاص توجہ دی گئی۔

اس کمیٹی نے جاری تجارتی سہولت کاری کے اقدامات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، بشمول بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) اور کینیا بیورو آف اسٹینڈرڈز (کے ای بی ایس) کے درمیان مفاہمت کی عرضداشت (ایم او یو)، جس کا مقصد معیار سازی اور مطابقت کے تعین میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز کے مرکزی بورڈ (سی بی آئی سی) اور کینیا ریونیو اتھارٹی (کے آر اے) کے درمیان کسٹمز کے طریقۂ کار کو سہل بنانے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے آمد سے قبل کسٹمز معلومات کے تبادلے کے لیے بھی ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) اور انڈیا کینیا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اور مفاہمت کی عرضدداشت پر دستخط کیے گئے۔

فریقین نے مقامی کرنسیوں میں تجارتی تصفیے  کو فروغ دینے کی صلاحیت کا اعتراف کیا۔ اس کاذکر کیا گیا کہ کینیا کے بینکوں نے بھارتی بینکوں کے ساتھ اسپیشل روپی ووسٹرو اکاؤنٹس (ایس آر وی اے) کھولے ہیں اور اس فریم ورک کا زیادہ سے زیادہ استعمال دوطرفہ لین دین کو آسان بنا سکتا ہے۔ مقامی کرنسی سیٹلمنٹ (ایل سی ایس) میکانزم کو اپنانے کے امکان پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ابھرتے ہوئے شعبوں میں سیکٹرل تعاون پر غور و خوض کیا گیا۔ انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ میں، آٹوموبائل، مشینری اور تعمیراتی آلات کی برآمدات بڑھانے کے مواقع کو اجاگر کیا گیا، ساتھ ہی آٹو ایکسپو کینیا اور دی بگ 5 کنسٹرکٹ کینیا جیسی نمائشوں میں شرکت پر بھی بات ہوئی۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی بشمول ریلوے میں تعاون پر بات چیت ہوئی، جس میں بھارت نے کینیا کی اسٹینڈرڈ گیج ریلوے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز، پروجیکٹ مینجمنٹ اور رولنگ اسٹاک کی فراہمی میں تعاون کی پیشکش کی۔ بھارتی شپ یارڈز کے ساتھ جہاز سازی میں تعاون کے مواقع بھی تلاش کیے گئے۔

دواسازی کے شعبے میں، بھارت نے سستی جینرک ادویات اور طبی آلات کے سپلائر کے طور پر اپنے کردار کو اجاگر کیا اور کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کی تجویز دی۔ فریقین نے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے زرعی مصنوعات کی تجارت کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں، بھارت نے شمسی اور ونڈ پاور پروجیکٹس سمیت کینیا کے کلین انرجی اقدامات کی حمایت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ کینیا کی جانب سے مطلع کیا گیا کہ اس نے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ جلد از جلد اس پر دستخط کرنے کا خواہاں ہے۔ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر پر ہونے والی گفتگو میں یو پی آئی  جیسے ادائیگی کے نظام، بھارت کنیکٹ اور مالیاتی شمولیت کو بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تعاون شامل تھا۔

صلاحیت سازی کو تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ بھارت نے کان کنی، ارضیاتی سائنسز، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹی ای سی) جیسے پروگراموں کے تحت تربیتی پروگراموں کی پیشکش کی۔ اعلیٰ تعلیم، ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز اور مہارت کی ترقی میں تعاون کے ساتھ ساتھ’’اسٹڈی ان انڈیا‘‘ پروگرام کے تحت طلبہ کی نقل و حرکت  کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے ایک متنوع، متوازن اور مستقبل پر مبنی اقتصادی شراکت داری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور تجارت میں سہولت فراہم کرنے، زیرِ التوا مسائل کو حل کرنے اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط  کو فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کے موقع پر، انڈیا-کینیا جوائنٹ بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز بھارتی اور کینیائی کاروباری اداروں، بشمول کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) اور کینیا نیشنل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے این سی سی آئی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ حکومتِ ہند کے کامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال اور جمہوریہ کینیا کی ٹریڈ پرنسپل سکریٹری محترمہ ریجینا اکوٹاہ اومبام نے کلیدی خطابات کیے، جبکہ کے این سی سی آئی کے چیئرمین اور انویسٹ کینیا  کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بھی شرکت کی۔ اس فورم نے صنعت کے رہنماؤں کو مینوفیکچرنگ، زراعت، ادویات، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور خدمات جیسے شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔

مزید برآں، اجلاس کے موقع پر، انڈیا-کینیا چیمبر آف کامرس نے حکومتِ ہند کے محکمۂ تجارت کے کامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال کی صدارت میں مقامی بھارتی کاروباری برادری کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اس نشست میں مقامی بھارتی کاروباری برادری اور سی آئی آئی کے کاروباری وفد نے شرکت کی، جس میں کینیا میں کاروبار کرنے سے متعلق مواقع اور تجربات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

***************

 

 

(ش ح۔ک ح۔م ش)

U:6447


(ریلیز آئی ڈی: 2256551) وزیٹر کاؤنٹر : 15