وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے وارانسی میں مہیلا سمیلن میں شرکت کی، تقریباً 6350 کروڑ روپے کے بقدر کے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا آغاز کیا اور سنگ بنیاد رکھا
ہماری حکومت ملک کی پالیسی سازی میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے پابند عہد ہے
ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا مشن مسلسل جاری ہے؛ اور جب میں وکست بھارت کی بات کرتا ہوں،تو اس کا مضبوط ترین ستون بھارت کی ناری شکتی ہے: وزیر اعظم
کاشی سے رکن پارلیمنٹ اور ملک کے وزیر اعظم کے طور پر ، میں قومی مفاد میں ایک بڑے ہدف کی حصولیابی کے لیے آپ کا آشیرواد چاہتا ہوں اور یہ بڑا ہدف ہے لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے ریزرویشن کو نا فذ کرنا: وزیر اعظم
ہماری حکومت کی پالیسیوں نے مسلسل خواتین کی بہبود کو ترجیح دی ہے: وزیر اعظم
سہولت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ، ہم نے خواتین کی اقتصادی شرکت میں اضافے پر بھی زور دیا ہے: وزیر اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 APR 2026 8:38PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج وارانسی میں ایک اجتماع میں خواتین کے بڑے مجمع سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔
اس موقع کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ کاشی ، ماں شرنگار گوری، ماں اَن پورنا، ماں وِشالاکشی، ماں سنکتھا، اور ماں گنگا سمیت روحانی قوتوں کی سرزمین ہے۔ بہنوں اور بیٹیوں کے بڑے مجمع نے اس تقریب کو حقیقت میں ایک مقدس تقریب میں تبدیل کر دیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’کاشی کی اس سرزمین پر، میں کاشی کی آپ تمام ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے آگے سر خم تسلیم کرتا ہوں۔‘‘
اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ اس موقع پر ناری شکتی اور ترقی دونوں کا جشن منایاجا رہا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ کاشی اور ایودھیا کے درمیان رابطہ بڑھانے کے کاموں کے ساتھ ساتھ کاشی میں ہر قسم کی ترقی کا احاطہ کرنے والے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ کاشی سے پونے اور ایودھیا سے ممبئی تک دو امرت بھارت ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا، جو مہاراشٹر کے لوگوں کو ان مقدس شہروں تک پہنچنے کے لیے جدید رابطے کے اختیارات فراہم کرتی ہیں۔ جناب مودی نے کہا، "اس سے یوپی اور مہاراشٹر کے درمیان رابطے میں مزید بہتری آئے گی، لوگوں کو ایودھیا دھام اور کاشی وشواناتھ دھام تک پہنچنے کا ایک اور جدید متبادل حاصل ہوگا" ۔
تعمیر ملک میں خواتین کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ناری شکتی کو وکست بھارت کا سب سے مضبوط ستون قرار دیا۔ انہوں نے ایک بڑے قومی مقصد کو حاصل کرنے، لوک سبھا اور ودھان سبھا میں خواتین کے لیے ریزرویشن کو نافذ کرنے کے لیے ہجوم سے آشیرواد طلب کیا۔ جناب مودی نے تصدیق کی، "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا کہ آپ کا ریزرویشن کا حق حقیقت بنے"۔
خواتین کو بااختیار بنانے کی تغیراتی قوت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ جب ایک عورت گھر میں بااختیار ہوتی ہے، تو پورے خاندان کو طاقت ملتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرہ اور ملک مضبوط ہوتا ہے۔ بھارتی خواتین کو درپیش تاریخی رکاوٹوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم اُن حقارت آمیز سوالات اور احکامات کو یاد کیا جنہیں لڑکیوں کی کئی پیڑھیوں نے برداشت کیا، وہ سوالات ان کی اہلیت، ضرورت اور شائستگی کے بارے میں تھے۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اس طرح کا امتیاز صرف کاشی تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے ملک میں موجود تھا، انہوں نے کہا کہ معاشرے نے اس ناانصافی کو معمول بنا لیا ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’ان رکاوٹوں کو محض فطری حکم کے طور پر قبول کیا گیا تھا، اور یہ تبدیل ہونا چاہیے‘‘۔
رجعت پسندانہ تصورات کو توڑنے کے اپنے عزم کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ 25 سال قبل جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے تھے، انہوں نے لڑکیوں کے لیے دو اہم اسکیمیں شروع کیں، زیادہ لڑکیوں کی حاضری اور اسکول مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے شالا پرویشوتسو، اور اُن کی فیس میں مدد کے لیے مکھیہ منتری کنیا کیلوانی ندھی اسکیم۔ جناب مودی نے کہا،"اس وقت سے لے کر آج تک، ہماری حکومت کی پالیسیوں میں خواتین کی بہبود کو مسلسل سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے"۔
2014 کے بعد سے جامع فلاحی اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے روشنی ڈالی کہ 12 کروڑ سے زیادہ بیت الخلا تعمیر کیے گئے، 30 کروڑ سے زیادہ بہنوں کے لیے بینک کھاتے کھولے گئے، 2.5 کروڑ سے زیادہ گھروں کو بجلی کے کنکشن فراہم کیے گئے، اور 12 کروڑ سے زیادہ گھروں تک نل کے ذریعہ پانی پہنچا۔ ان اقدامات نے بہنوں اور بیٹیوں کو قومی ترقی کے مرکز میں رکھا، جس میں سکنیا سمردھی یوجنا، مدرا یوجنا، ماترو وندنا یوجنا، اور آیوشمان بھارت جیسی اسکیمیں شامل ہیں۔ جناب مودی نے کہا، "بہنوں اور بیٹیوں کو ہر بڑی اسکیم کے مرکز میں رکھا گیا، جس سے ہماری حقیقی عہدبستگی کا اظہار ہوتا ہے۔"
کاشی میں ایک کامیاب مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ دو سال پہلے، صرف ایک مہینے میں 27,000 لڑکیوں کے لیے سکنیا سمردھی اکاؤنٹ کھولے گئے تھے، جن میں سے ہر ایک کھاتے میں 300 روپے منتقل کیے گئے تھے۔ اس اسکیم سے لڑکیوں کی تعلیم کو تقویت حاصل ہوئی ہے جبکہ مدرا یوجنا نے ان کی کمائی کو یقینی بنایا ہے، اور پہلی مرتبہ کروڑوں بہنوں نے پی ایم آواس یوجنا کے ذریعے اپنے ناموں پر جائیداد کا اندراج کرایا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’آج ہماری مائیں اور بہنیں حقیقی معنوں میں اپنے گھروں کی مالکن بن رہی ہیں‘‘۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سہولت اور سلامتی اختیار دہی کی بنیاد ہے، وزیر اعظم نے اترپردیش کی موجودہ صورتحال کا موازنہ ماضی سے کیا جب لڑکیوں کے لیے گھروں سے نکلنا بھی مشکل تھا۔ بھارتیہ نیا سنہتا نے خواتین کے خلاف جرائم میں فوری فیصلوں کے ساتھ نیا اعتماد فراہم کیا ہے، جبکہ خواتین پولیس اسٹیشنوں اور مشاورتی مراکز کا نیٹ ورک پھیلتا جا رہا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’بیٹیوں کے بارے میں غلط ارادے رکھنے والا اب بخوبی جانتا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔‘‘
اقتصادی اختیار دہی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ جب خواتین کی معاشی طاقت بڑھتی ہے تو گھر میں ان کی آواز بھی اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ گزشتہ 11 برسوں میں، تقریباً 10 کروڑ خواتین کو سیلف ہیلپ گروپوں سے جوڑا گیا ہے، جن میں کاشی کی تقریباً 1.25 لاکھ بہنیں بھی شامل ہیں، جن میں لاکھوں روپے کی مدد سے انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ جناب مودی نے تصدیق کی، "اس طرح کی کوششوں سے، اب تک 3 کروڑ بہنیں لکھپتی دیدی بن چکی ہیں، جن میں بنارس کے ہزاروں بہنیں شامل ہیں"۔
خواتین کو بااختیار بنانے میں ڈیری سیکٹر کے تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بناس ڈیری سے وابستہ لاکھوں بہنوں کو مبارکباد دی جنہوں نے آج براہ راست بونس کے طور پر 106 کروڑ روپے حاصل کیے ہیں۔ کاشی کے ڈیری سیکٹر میں اپنا کام بڑھانے کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، انہوں نے مسلسل ترقی پر اعتماد ظاہر کیا۔ جناب مودی نے تصدیق کی، ’’یہ تو شروعات ہے، بنارس بڑھے گا، بناس ڈیری بڑھے گی، اور یہ بونس بھی بڑھتا رہے گا‘‘۔
یہ بتاتے ہوئے کہ حکومت کس طرح خواتین کو تبدیلی سازوں کے طور پر ترقی دے رہی ہے، وزیر اعظم نے انہیں آتم نربھر بنانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور انہیں وکست بھارت کی تعمیر کی مہموں کی قیادت سونپی۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سکھیاں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آگے بڑھا رہی ہیں، بیمہ سکھیاں بیمہ اقدامات کی رہنمائی کر رہی ہیں، کرشی سکھیاں فطری طریقہ کاشت کو فروغ دے رہی ہیں، اور نمو ڈرون دیدیاں زرعی ڈرون انقلاب کی قیادت کر رہی ہیں۔ مزید برآں، بیٹیوں کے لیے بری فوج، بحریہ، فضائیہ، سینک اسکولوں اور دفاعی اکیڈمیوں میں نئی راہیں کھلی ہیں۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، "ہماری حکومت کا مطلب خواتین کو بااختیار بنانا، خواتین کی ترقی، اور خواتین کی زندگیوں کو آسان بنانا ہے"۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خواتین تمام شعبوں میں اپنی بہترین کارکردگی کے پیش نظر پالیسی سازی اور قومی فیصلہ سازی میں زیادہ کردار کی مستحق ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ بہنوں کی شرکت کا خیال نئی پارلیمنٹ کی تعمیر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نئی پارلیمنٹ کی تعمیر کے بعد پہلا کام 2023 میں ناری شکتی وندن ایکٹ کا پاس ہونا تھا، جس نے 40 برسوں تک زیر التوا رہنے کے بعد 33 فیصد خواتین کو ریزرویشن فراہم کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’اب ضروری ہے کہ اس قانون کو جلد از جلد لاگو کیا جائے‘‘۔
حالیہ پارلیمانی کارروائیوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ایک آئینی ترمیم لائی گئی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین ودھان سبھا اور پارلیمنٹ تک پہنچ سکیں، لیکن اسے منظور نہیں کیا جا سکا۔ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آسام، کیرالہ، پڈوچیری، بنگال اور تمل ناڈو میں خواتین کی ریکارڈ ووٹنگ کی طرف اشارہ کیا۔
"ناگرک دیو بھوا" کے اصول کے ساتھ حکومت کے شہری پر مرتکز نقطہ نظر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، آمدنی، حفظانِ صحت، آبپاشی، اور شکایات کا ازالہ ان کی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے ساتھ آج کئی اہم پروجیکٹوں کے ساتھ کاشی کی ترقی کو وسعت دی گئی ہے۔ جناب مودی نے مشاہدہ کیا کہ "گنگا پر بننے والا سگنیچر پل پوروانچل کے رابطے کو مضبوط کرے گا۔"
گزشتہ ایک دہائی میں شمالی اور مشرقی بھارت کے لیے کاشی کے صحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ 500 بستروں پر مشتمل ملٹی سوپر اسپیشلٹی اسپتال حفظانِ صحت کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔ مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ 100 بستروں پر مشتمل خصوصی نگہداشت کے بلاک کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ جناب مودی نے مشاہدہ کیا، "اس سے کاشی میں سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے ایک بڑی سہولت کا اضافہ ہو گا"۔
کاشی کی ترقی کی جامع اور حساس نوعیت کی وضاحت کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے گنگا کی صفائی، گھاٹوں کی ترقی، گورننس عمارتوں کی تعمیر، ہرہوا اور بھوانی پور میں کسانوں کے لیے ذخیرہ کرنے کی سہولیات، اولڈ ایج ہوم، اور خواتین کے ہاسٹل سمیت مختلف اقدامات کی فہرست دی۔ جناب مودی نے تبصرہ کیا، "یہ تمام پروجیکٹ بنارس کے باشندوں کو براہ راست فائدہ پہنچاتے ہیں اور حساس، عوام پر مبنی ترقی کے لیے ہماری عہد بستگی کی عکاسی کرتے ہیں"۔
کاشی کی وراثت اور میراث کو مستحکم کرنے کی مسلسل مہم پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے سنت کبیر استھلی کی ترقی اور ناگوا میں سنت روی داس پارک کی بحالی کو اس کوشش کے اٹوٹ حصوں کے طور پر اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا، "یہ ہمارے ورثے کے تحفظ اور مضبوطی کے لیے ہماری جاری مہم کا حصہ ہیں۔"
کاشی کی لازوال فطرت اور جاری ترقیاتی مہم کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے اپنے خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے شروع کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اور حاصل ہوئے آشیرواد کے لیے مجمع کا شکریہ ادا کیا۔ جناب مودی نے تصدیق کی، ’’ہماری کاشی لافانی ہے اور مسلسل آگے بڑھ رہی ہے، اسی طرح ترقی کی یہ مہم بھی مسلسل فعال ہے‘‘۔
***
(ش ح –ا ب ن)
U.No:6431
(ریلیز آئی ڈی: 2256416)
وزیٹر کاؤنٹر : 13