کامرس اور صنعت کی وزارتہ
مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے ہند–نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کے بعد برآمداتی نظام کو مضبوط بنانے کے اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایکسپورٹ پروموشن کونسل اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی
’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کے تحت 2030 تک 2 کھرب امریکی ڈالر کے برآمداتی ہدف کے حصول کے لیے آزاد تجارتی معاہدوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: جناب پیوش گوئل
ڈی جی ایف ٹی (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ) نے برآمدات میں اصلاحات کے لیے جامع فریم ورک کاخاکہ پیش کیا، جبکہ صنعت کے نمائندوں نے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم ای) کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی۔ حکومت نے اس حوالے سے مکمل تعاون اور کاروبار میں آسانی کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی
اجلاس میں ایکسپورٹ پروموشن مشن کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ جناب پیوش گوئل نے ایکسپورٹ پروموشن کونسل پر زور دیا کہ وہ برآمد کنندگان کی تعداد میں اضافہ کریں اور نئی عالمی منڈیوں کی دریافت پر خصوصی توجہ دیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 APR 2026 11:35AM by PIB Delhi
مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے 27 اپریل 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ایکسپورٹ پروموشن کونسل(ای پی سی) اور صنعتی تنظیموں کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی تجارتی حالات کے تناظر میں ہندوستان کے برآمداتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی حکمتِ عملیوں پر غور و خوض کرنا تھا۔ یہ نشست ہند–نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کی تقریب کےضمن میں منعقد ہوئی، جس میں 30 ایکسپورٹ پروموشن کونسل اور بڑی صنعتی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ محکمۂ تجارت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
جناب پیوش گوئل نے اپنے خطاب میں بتایا کہ مالی سال 2025–26 میں ہندوستان کی مصنوعات اور خدمات کی مجموعی برآمدات ریکارڈ 860.09 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سال بہ سال 4.22 فیصد اضافے کی عکاسی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انجینئرنگ مصنوعات، الیکٹرانکس، دواسازی، کیمیکل، جواہرات و زیورات اور زرعی مصنوعات جیسے شعبوں نے عالمی سطح پر درپیش رکاوٹوں کے باوجود اپنی برآمداتی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔
وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اہم کامیابی 2030 تک 2 کھرب امریکی ڈالر کی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہونی چاہیے، جو ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کا حصہ ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان اور صنعتی اداروں پر زور دیا کہ وہ ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ منڈیوں تک رسائی میں اضافہ، برآمدات میں وسعت اور روزگار کے نئےمواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کا بروقت اور مؤثر استعمال نہایت اہم ہے۔
اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے برآمداتی کارکردگی، مسلسل اصلاحات اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک پر تفصیلی پیشکش دی۔ اس پریزنٹیشن میں جامع برآمداتی اصلاحاتی خاکہ پیش کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں کی برآمداتی کارکردگی، ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ای پی سی) کے لیے کے پی آئی (کارکردگی کے اہم اشاریے) پر مبنی نظام، ای-کامرس کے ذریعے برآمدات کا فروغ، ضلع بطور برآمداتی مرکزاقدام، مجوزہ ڈیجیٹل ٹریڈ اکیڈمی، مغربی ایشیا کے بحران پر حکومتی ردِعمل، ایکسپورٹ پروموشن مشن کی پیش رفت، اور ایکسپورٹ آبلیگیشن ڈسچارج سرٹیفکیٹ (ای او ڈی سی) کے اجرا میں تیزی لانے کے لیے خصوصی مہم کاذکر کیا گیا۔
ڈی جی ایف ٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسپورٹ پروموشن کونسل حکومت کے ساتھ برابر کے شراکت دار کے طور پر کام کرے، تاکہ نئی منڈیوں کی دریافت (مارکیٹ ڈائیورسیفکیشن)، زیادہ سے زیادہ ایم ایس ایم ای کو برآمداتی نظام میں شامل کرنا، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال، اور پالیسی اقدامات کو قومی سطح پر ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا ممکن ہو سکے۔
صنعتی نمائندوں نے تعمیلی لاگت ، جانچ کے تقاضوں، اور برآمداتی منڈیوں میں داخلے کے دوران خاص طور پر ایم ایس ایم ای کو درپیش مشکلات جیسے مسائل اٹھائے۔ وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ حکومت مسلسل تعاون فراہم کرتی رہے گی، جس میں جاری اسکیموں کے تحت سہولت کاری اور ہدف بند اقدامات شامل ہوں گے تاکہ منڈیوں تک رسائی کی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں شریک اہم اداروں میں فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن(ایف آئی ای او)، جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل (جی جے ای پی سی)، اپیرل ایکسپورٹ پروموشن کونسل (اے ای پی سی)، کونسل فار لیدر ایکسپورٹس(سی ایل ای)، انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا(ای ای پی سی انڈیا)، بیسک کیمیکلز، کاسمیٹکس اینڈ ڈائز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (سی ایچ ای ایم ای ایکس سی آئی ایل)، کاٹن ٹیکسٹائلز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ٹی ای ایکس پی آر او سی آئی ایل)، مین میڈ اینڈ ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ایم اے ٹی ای ایکس آئی ایل)، دیگر بڑے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ادارے، کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل(سی ای پی سی)، ایکسپورٹ پروموشن کونسل فار ہینڈی کرافٹس (ای پی سی ایچ)، زرعی و متعلقہ شعبوں کے ادارے بشمول سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (ایس ای اے آئی)، ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(اے پی ای ڈی اے)، شیلاک اینڈ فاریسٹ پروڈکٹس ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ایس ایچ ای ایف ای ایکس سی آئی ایل)، انڈین آئل سیڈز اینڈ پروڈیوس ایکسپورٹ پروموشن کونسل (آئی او پی ای پی سی)، فارماسیوٹیکلز ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا (پی ایچ اے آر ایم ای ایکس سی آئی ایل)، نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروس کمپنیز(این اے ایس ایس سی او ایم)، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی)، ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا(ایسوچیم)، پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی)، اور دیگر متعدد سرکردہ شعبہ جاتی تنظیمیں شامل تھیں۔
گفتگو کے دوران ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم) کے تحت ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا گیا، جو برآمد کنندگان کی معاونت کے لیے حکومت کی ایک نمایاں اسکیم ہے۔ وزیر نے ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ای پی سی) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ فعال برآمد کنندگان کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت برآمد کنندگان کو نئی منڈیوں میں داخل ہونے اور موجودہ منڈیوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی، تاکہ برآمدات کی رفتار میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
وزیر موصوف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جاری اصلاحات، ہدف بند امدادی اقدامات اور صنعت کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعے ایک سازگار اور سہولت بخش تجارتی نظام کو مضبوط بناتی رہے گی، تاکہ برآمدات میں تیزی لائی جا سکے اور ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد سپلائی شراکت دار کے طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م ش ع ۔ع ن)
U. No. 6389
(ریلیز آئی ڈی: 2256146)
وزیٹر کاؤنٹر : 12