زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
حکومت نے 2025–26 کی گندم کی پیداوار کی صورتِ حال واضح کر دی، موسمی تغیرات کے باوجود فصل مضبوط اور مستحکم
کسی بڑے کیڑے یا بیماری کے حملے کی اطلاع نہیں، خریداری کے رجحانات بھرپور پیداوار کے عکاس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 APR 2026 9:45AM by PIB Delhi
سال 2025–26 میں گندم کی پیداوار سے متعلق بعض ذرائع ابلاغ کی خبروں کے جواب میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ موجودہ گندم کا سیزن مجموعی طور پر ملا جلا مگر مضبوط ثابت ہوا ہے، جس پر ایک جانب موسمی مشکلات اور دوسری جانب کسانوں کے مؤثر تدارکی اقدامات اثر انداز رہے ہیں۔
گندم کی فصل تقریباً 33.4 ملین ہیکٹر رقبے پر کاشت کی گئی اور پورے سیزن کے دوران فصل میں کسی بڑے کیڑے مکوڑے یا بیماری کے حملے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ملک میں گندم کی بروقت اور ابتدائی بوائی کے باعث گزشتہ سال کے مقابلے میں زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ ہوا۔
سیزن کے آخری مرحلے میں فروری کے مہینے میں غیر معمولی زیادہ درجۂ حرارت نے فصل کو گرمی کے دباؤ سے دوچار کیا، جس سے دانہ بھرنے کی مدت اور پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔ مزید برآں چند علاقوں میں پختگی کے وقت بے وقت بارش اور ژالہ باری سے دانے کے معیار اور پیداوار کو مقامی سطح پر نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
تاہم، مجموعی پیداوار کے امکانات کئی تلافی کرنے والے عوامل کے باعث محتاط طور پر حوصلہ افزا ہیں، جیسے:
- گندم کی فصل میں کسی بیماری یا کیڑے کے سبب پیداوار میں نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
- فصل کی بڑھوتری کے دوران گھاس پھوس کا حملہ بھی کم رہا۔
- ابتدائی اور بروقت بوائی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے دانہ بھرنے کے مرحلے میں فصل آخری گرمی کے اثرات سے محفوظ رہی۔
- سال 2025–26 میں اضافی 0.6 ملین ہیکٹر رقبے پر کاشت سے مقامی نقصانات کی جزوی تلافی متوقع ہے۔
- مزید یہ کہ بہتر اقسام کے استعمال کی شرح میں اضافے سے زیادہ پیداوار دینے والی، موسمی تبدیلیوں کو برداشت کرنے والی اور بیماریوں سے محفوظ اقسام کو اپنانے میں تیزی آئی ہے، جو گرمی اور حیاتیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کر سکتی ہیں۔
مندرجہ بالا حقائق کے پیشِ نظر یہ توقع کی جاتی ہے کہ غیر معمولی موسمی حالات کے منفی اثرات کی بڑی حد تک تلافی زیرِ کاشت رقبے میں اضافے، ابتدائی بوائی اور بہتر اقسام کے اختیار کرنے سے ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں سال 2024-25 کے مقابلے میں قومی سطح پر گندم کی پیداوار مستحکم رہنے کی امید ہے۔
خریداری اور منڈیوں میں آمد کے رجحانات
خریداری کے اعداد و شمار بھی اہم ریاستوں میں مضبوط پیداوار کی نشاندہی کرتے ہیں:
- ہریانہ کی منڈیوں میں گندم کی آمد سرکاری خریداری ہدف 75 ایل ایم ٹی سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اب تک 56.13 ایل ایم ٹی گندم خریدی جا چکی ہے۔ یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 9 ایل ایم ٹی زیادہ ہے۔
- مدھیہ پردیش میں ابتدائی خریداری ہدف 78 ایل ایم ٹی مقرر کیا گیا تھا، تاہم زیادہ پیداوار کے اندازوں اور ریاستی حکومت کی درخواست پر اسے باضابطہ طور پر بڑھا کر 100 ایل ایم ٹی کر دیا گیا ہے۔
- مہاراشٹر میں سال 2025-26 کے لیے گندم کی پیداوار کا اندازہ تقریباً 22.90 لاکھ ٹن لگایا گیا ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اپریل 2026 کے آخر تک ریاست میں خصوصاً مراٹھواڑہ اور ودربھ علاقوں سے مسلسل آمد دیکھی جا رہی ہے۔
مندرجہ بالا صورتحال کے پیشِ نظر دوبارہ واضح کیا جاتا ہے کہ گرچہ بعض مقامات پر موسم سے متعلق محدود اثرات دیکھے گئے ہیں، تاہم سال 2025-26 میں گندم کی مجموعی پیداوار کی صورتحال مستحکم اور مضبوط ہے، جسے زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ، بہتر زرعی طریقۂ کار اور اعلیٰ اقسام کے بڑھتے استعمال سے سہارا ملا ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6307
(ریلیز آئی ڈی: 2255665)
وزیٹر کاؤنٹر : 9