زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا


دالوں، تیل دار بیجوں، فصلوں کی تنوع کاری اور چھوٹے کسانوں کی آمدنی پر توجہ: مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان

کسان کریڈٹ کارڈ، فارمر آئی ڈی اور سائنسی کاشتکاری کے ماڈلز زراعت کو نئی سمت دیں گے: شیوراج سنگھ چوہان

مرکزی حکومت کھاد کے حوالے سے ریلیف فراہم کر رہی ہے اور قدرتی زراعت کو فروغ دے رہی ہے؛ جعلی بیجوں اور کیڑے مار ادویات کے خلاف سخت قانون تیار کیا جا رہا ہے: جناب چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 APR 2026 4:15PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے شمالی ہندوستان میں زراعت اور کاشتکاری کو نئی سمت دینے کے مقصد سے منعقدہ شمالی خطے کی زرعی کانفرنس کے موقع پر کہا کہ زرعی ترقی کا مستقبل اب تمام خطوں کے لیے یکساں پالیسی کے ذریعے طے نہیں کیا جائے گا ۔  انہوں نے کہا کہ اب زرعی منصوبہ بندی کو علاقائی ضروریات، موسمی حالات، پانی کی دستیابی اور مقامی فصلوں کی صورتحال کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔

لکھنؤ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خریف اور ربیع فصلوں کی حکمتِ عملی، دالوں اور تیل دار بیجوں میں خود کفالت، زراعت میں تنوع، چھوٹے کسانوں کے لیے مربوط کاشتکاری، کسان کریڈٹ کارڈ، فارمر آئی ڈی، قدرتی کاشتکاری، کھاد سبسڈی، آلو کے کسانوں کو ریلیف اور جعلی زرعی اشیاء کے خلاف سخت قوانین کی تیاری پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستیں مل کر زراعت کو زیادہ منافع بخش، پائیدار اور کسان دوست بنانے کے لیے ایک مضبوط روڈ میپ تیار کریں گی۔

لکھنؤ میں منعقدہ شمالی خطے کی  زرعی کانفرنس کو مرکزی حکومت نے علاقائی ہم آہنگی کے ایک وسیع پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں موسم، آبی وسائل، زمین کی نوعیت اور فصلوں کے انداز ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے ایک ہی قومی کانفرنس تمام زرعی حقائق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔

اسی سوچ کے تحت ملک کو پانچ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور پانچ علاقائی زرعی کانفرنسوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لکھنؤ میں ہونے والی یہ کانفرنس اس سلسلے کا دوسرا مرحلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کے پاس زرعی ترقی کے لیے مختلف اسکیمیں، افسران، تحقیقی ادارے اور مضبوط سائنسی صلاحیت موجود ہے، لیکن زراعت ایک ریاستی موضوع ہے، اس لیے اسکیموں کا مؤثر نفاذ ریاستی حکومتوں کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اسی وجہ سے خریف اور ربیع سیزن کے لیے مکمل روڈ میپ ریاستوں کے ساتھ مل کر تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ کسانوں کی آمدنی، پیداوار اور منڈیوں سے متعلق اہم مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ اب گفتگو کا دائرہ صرف خریف اور ربیع فصلوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ زراعت میں تنوع کیسے لایا جائے، اسے زیادہ منافع بخش کیسے بنایا جائے، بھارت دالوں اور تیل دار بیجوں میں خود کفیل کیسے بنے، اور باغبانی و پروسیسنگ کو کیسے فروغ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اناج کی پیداوار میں نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور گندم و دھان کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ملک چاول کی پیداوار میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے، جبکہ بہتر گندم پیداوار کے باعث حکومت نے 50 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی برآمد کی بھی اجازت دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اناج کی پیداوار میں کامیابیوں کے باوجود دالوں اور تیل دار بیجوں میں خود کفالت انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ 140 کروڑ بھارتیوں کے لیے وافر مقدار میں خوراک اور غذائیت سے بھرپور اجناس کی فراہمی یقینی بنائے۔ اسی لیے زرعی پالیسی کے تین بڑے اہداف قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنانا، کسانوں کی آمدنی اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، اور عوام کو غذائیت سے بھرپور اناج فراہم کرنا مقرر کیے گئے ہیں ۔

شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ حکومت کی حکمتِ عملی چھ بڑے ستونوں پر مبنی ہے۔ ان میں پیداوار میں اضافہ، کاشتکاری کی لاگت میں کمی، کسانوں کو ان کی محنت کی مکمل قیمت دلانا، نقصان کی صورت میں معاوضے کی ضمانت، زراعت میں تنوع کو فروغ دینا اور کھیتی کو منڈیوں سے جوڑنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں صرف گندم اور دھان پر مبنی زراعت کافی نہیں ہوگی، اس لیے دالیں، تیل دار بیج، باغبانی، پھل و سبزیاں، فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کو مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے چھوٹے کسانوں کی صورتحال کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش جیسے صوبوں میں بڑی تعداد میں کسانوں کے پاس کم زمین ہے۔ ایسے حالات میں محدود زمین سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے زرعی ماڈلز ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مربوط کاشتکاری نظام جیسے بین الفصلی کاشت، اناج کے ساتھ پھل و سبزیاں، مویشی پالنا، ماہی پروری، شہد کی مکھیوں کی افزائش اور درختوں پر مبنی کاشتکاری چھوٹے کسانوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ایسے کئی ماڈلز تیار کیے ہیں جنہیں ریاستوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر نے کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں کسان اب بھی سستے رسمی زرعی قرض تک مکمل رسائی نہیں رکھتے، اس لیے ایک خصوصی مہم شروع کی جائے گی تاکہ ہر اہل کسان کو کسان کریڈٹ کارڈ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسان کو کم شرح سود پر بروقت قرض ملے تو وہ بہتر بیج، کھاد، مشینری اور دیگر وسائل استعمال کر سکے گا، جس سے پیداوار اور آمدنی دونوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے فارمر آئی ڈی کو زرعی نظم و نسق میں ایک بڑی اصلاح قرار دیا۔ ان کے مطابق فارمر آئی ڈی بننے کے بعد زمین کا ریکارڈ، کھسرہ نمبر، مویشیوں کی معلومات اور دیگر ضروری تفصیلات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی۔ اس سے کسانوں کو مختلف اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے بار بار دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ سرکاری فوائد تیزی، شفافیت اور ہدفی انداز میں فراہم کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں فارمر آئی ڈیز پہلے ہی بنائی جا چکی ہیں اور باقی عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاستوں کے تعاون سے ‘لیب ٹو لینڈ’ کے تصور کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وِکست کرشی سنکلپ ابھیان کے تحت سائنسدانوں اور افسران کی ٹیمیں گاؤں گاؤں جائیں گی، کسانوں سے ملاقات کریں گی اور جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی، بہتر بیج اور سائنسی طریقوں کے بارے میں آگاہ کریں گی تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک لیبارٹری کی معلومات کھیتوں تک نہیں پہنچتی، کسانوں کو تحقیق کا حقیقی فائدہ نہیں مل سکتا۔

اتر پردیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہر صورتحال میں ریاستی حکومتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آلو کی قیمتوں میں کمی کے بعد کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ایم آئی ایس اسکیم کے تحت 20 لاکھ میٹرک ٹن آلو کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اتر پردیش میں ایک بین الاقوامی پروسیسنگ مرکز قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ آلو کی پیداوار، تحقیق، پروسیسنگ اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے، جس سے کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی اور نئی مواقع پیدا ہوں گے۔

باغبانی کے فروغ کے لیے انہوں نے کہا کہ ملک میں نو کلین پلانٹ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد کسانوں کو اعلیٰ معیار، بیماری سے پاک اور زیادہ پیداوار دینے والا پودا فراہم کرنا ہے تاکہ باغبانی کے شعبے کو نئی رفتار ملے۔ انہوں نے کہا کہ دال مشن، تیل دار بیج مشن، معیاری بیجوں کی دستیابی، باغبانی کی توسیع اور زرعی تنوع اس کانفرنس کے اہم نکات میں شامل ہیں۔

کھاد کی قیمتوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ کسانوں پر نہیں پڑنے دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ کابینہ میٹنگ، جس کی صدارت وزیر اعظم نریندر مودی نے کی، اس میں 41 ہزار کروڑ روپے کی اضافی منظوری دی گئی تاکہ کسانوں کو یوریا 266 روپے فی بوری اور ڈی اے پی 1350 روپے فی بوری کے حساب سے دستیاب رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی مہنگائی کا اثر حکومت خود برداشت کر رہی ہے تاکہ کسانوں پر لاگت کا بوجھ نہ بڑھے۔

ملاوٹ، جعلی بیج، جعلی زرعی ادویات اور زرعی اشیاء کے معیار کے معاملے پر انہوں نے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف فصلوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ پھلوں، سبزیوں اور دیگر غذائی اشیاء میں ملاوٹ اور کیمیکلز کے غیر متوازن استعمال سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے حکومت جہاں قدرتی کاشتکاری کو فروغ دے رہی ہے، وہیں جعلی اور ملاوٹی زرعی مصنوعات کے خلاف مہم بھی چلا رہی ہے۔

قدرتی کاشتکاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کیمیائی کھادوں کے غیر متوازن استعمال سے زمین کی صحت متاثر ہوتی ہے اور انسانی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی حکومت نے نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ شروع کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ قدرتی کاشتکاری شروع کرنے والے کسانوں کو ابتدائی سالوں میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے فی ہیکٹر مالی مدد کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ کسان اس تبدیلی کے دوران خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ قوانین جعلی بیج اور زرعی ادویات سے نمٹنے کے لیے کافی سخت نہیں ہیں۔ پرانے قوانین کے تحت کئی معاملات میں معمولی جرمانے عائد ہوتے ہیں جو مؤثر روک تھام نہیں کر پاتے۔ اسی لیے حکومت سیڈز ایکٹ اور پیسٹی سائیڈز ایکٹ میں سخت ترامیم لانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ کسانوں کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔

پریس کانفرنس کے دوران جب شمالی بھارت کے لیے کسی خصوصی زرعی کوریڈور یا برآمدی حکمتِ عملی کے بارے میں سوال کیا گیا تو مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے الگ الگ حکمتِ عملیاں تیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی بھارت کے پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی پیداوار کے لیے بہتر منڈیوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششیں کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ لکھنؤ میں منعقدہ شمالی علاقائی زرعی کانفرنس کو مرکزی حکومت پالیسی اور عملی دونوں سطحوں پر نہایت اہم سمجھتی ہے۔ اس کانفرنس سے سامنے آنے والی سفارشات نہ صرف آئندہ خریف اور ربیع سیزن کی تیاریوں کی رہنمائی کریں گی بلکہ کسانوں کی آمدنی، فصلوں کی تنوع کاری، غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار زراعت جیسے شعبوں میں آئندہ اقدامات بھی طے کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ وسیع تر مقصد واضح ہےکہ زراعت کو علاقائی نوعیت کے مطابق،، سائنس پر مبنی، منڈی سے منسلک اور منافع بخش بنانا ہے، جبکہ ہر پالیسی فیصلے کے مرکز میں کسان کو رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں زراعت کو صرف فصل اگانے تک محدود نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اسے ایک مربوط معاشی سرگرمی کے طور پر فروغ دینا ہوگا جو پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، برآمدات، ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی پائیداری سے جڑی ہو۔اس تناظر میں کسان کی خوشحالی کو پالیسی کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ ہر کسان، خاص طور پر چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسان، جدید نظام، بہتر منڈی تک رسائی، کم لاگت، زیادہ پیداوار اور مضبوط ادارہ جاتی معاونت سے فائدہ اٹھا سکے۔

انہوں نے کہا کہ لکھنؤ میں منعقدہ یہ کانفرنس زرعی منصوبہ بندی میں ایک عملی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ یعنی عمومی طریقۂ کار سے ہٹ کر علاقائی بنیادوں پر حل، علیحدہ اسکیموں کے بجائے مربوط حکمتِ عملی، اور صرف پیداوار کے بجائے آمدنی، غذائیت اور پائیداری کو ساتھ لے کر چلنا۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستوں، سائنس دانوں، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز )کے ساتھ ایسے مشاورتی عمل کے ذریعے حکومت ایک ایسا مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ زرعی نظام تشکیل دینا چاہتی ہے جو غذائی تحفظ کو یقینی بنائے، دیہی معیشت بہتر کرے اور بھارت کی زرعی معیشت کو مضبوط بنائے۔

****

ش ح۔ش آ۔ش ب ن

 (U: 6279)


(ریلیز آئی ڈی: 2255376) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati