مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
وزیر مملکت برائے ٹیلی مواصلات ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے گزشتہ دہائی میں ہندوستان کے ٹیلی کام شعبے کی ترقی کے لیے حکومت اور صنعت کے باہمی تعاون کو سراہا
مالی سال 25 میں ٹیلی کام شعبے کی آمدنی 3.72 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی؛ وزیر مملکت نے ایف ڈی آئی میں اضافے اور پی ایل آئی کی کامیابی کو مقامی مینوفیکچرنگ کے استحکام کا سبب قرار دیا
دنیا کے سب سے بڑے دیہی براڈ بینڈ منصوبے کے تحت 2.6 لاکھ سے زائد گرام پنچایتوں کو منسلک کیا جائے گا: ڈاکٹر پیماسانی
‘چکشو’ سے ادارہ جاتی انٹیلیجنس تک: وزیر مملکت نے شہریوں کو جعلسازی اور مالی دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے کثیر سطحی حکمت عملی کو پیش کیا
ہندوستان کی ڈیجیٹل تبدیلی: وزیر مملکت ڈاکٹر پیماسانی نے 6 جی، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجیز سے تقویت یافتہ مستقبل کا خاکہ پیش کیا
وزیرمملکت ڈاکٹر پیماسانی نے ٹیلی کام آپریٹرز سے اپیل کی کہ وہ عالمی تحقیق و ترقی کے معیارات کے مطابق کام کرتے ہوئے ہندوستان کے 6جی وژن کی قیادت کریں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 APR 2026 1:33PM by PIB Delhi
وزیر مملکت برائے ٹیلی مواصلات و دیہی ترقی ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے آج دہلی میں سی او اے آئی ڈیجی کوم سمٹ 2026 کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ اس سمٹ کا موضوع: ’انڈیا کا ٹیک ایڈ: ڈیجیٹل مستقبل کو تیز کرنا اور تشکیل دینا‘ تھا ۔ وزیر موصوف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے ایک طویل سفر طے کیا ہے اور ٹیلی کام شعبے میں آنے والی تبدیلیاں انقلابی نوعیت کی رہی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیکنالوجی رکی ہوئی نہیں ہے اور 6جی، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی اگلی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں، جو بیک وقت حوصلہ افزا بھی ہے اور اور چیلنجنگ بھی۔ انہوں نے اشتراک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط ٹیلی کام شعبہ حکومت اور صنعت دونوں کے باہمی تعاون سے ہی تشکیل پاتا ہے۔

ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر، وزیر مملکت برائے ٹیلی مواصلات و دیہی ترقی نے سی او اے آئی ڈیجی کوم سمٹ 2026 کا افتتاح کرنے کے ساتھ خطاب بھی کیا
اپنے خطاب میں ڈاکٹرپیما سانی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ٹیلی کام پالیسی کے تقریباً ہر بڑے پہلو کو ازسر نو ترتیب دیا ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشنز ایکٹ، 2023 گزشتہ 140 برسوں میں ہندوستان کے ٹیلی کام قانون کی پہلی جامع ازسرنو تشکیل ہے،جس میں واضح اجازت نامے کا فریم ورک، مضبوط صارف تحفظ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے دفعات فراہم کرتا ہے۔2021 کے اصلاحاتی پیکج نے مالی استحکام کے لیے پیش گوئی کی صلاحیت کو بحال کیا، جس کے تحت اے جی آر کو معقول بنایا گیا، ماضی کے واجبات پر چار سال کی مہلت دی گئی، بینک گارنٹیوں کا خاتمہ کیا گیا اور ایکویٹی میں تبدیلی کا راستہ فراہم کیا گیا۔گتی شکتی سنچار پورٹل کے ذریعے’ رائٹ آف وے اصلاحات‘ کے تحت فیسوں کو معقول بنایا گیا اور منظوری کے عمل کو ہموار کیا گیا، جس سے مدت میں نمایاں کمی آئی۔اسپیکٹرم کی تنظیم نو نیشنل فریکوئنسی ایلوکیشن پلان 2025 کے ذریعے کی گئی ہے اور نیلامی سے متعلق قابل پیش گوئی مقررہ مدت مقرر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت نیٹ دنیا کا سب سے بڑا دیہی براڈ بینڈ پروگرام ہے، جس کا مقصد 2.6 لاکھ سے زائد گرام پنچایتوں کو منسلک کرنا ہے اور اس میں طویل مدتی آپریشن اور دیکھ بھال کے انتظامات بھی شامل ہیں۔ شہریوں کے تحفظ کے لیے سنچار ساتھی، ڈیجیٹل انٹیلیجنس پلیٹ فارم، چکشو اور اے ایس ٹی آر پر مشتمل ایک جامع نظام بھی بڑے پیمانے پر قائم کیا گیا ہے، جو ٹیلی کام شعبے کی تاریخ میں فراہم کی جانے والی سب سے مکمل پالیسی معاونت کا ڈھانچہ ہے۔
صنعت کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ 5 جی کا نفاذ تقریباً 22 ماہ میں مکمل کیا گیا، جس میں 5.1 لاکھ سے زائد بیس اسٹیشنز اور 400 ملین سے زیادہ صارفین شامل ہیں۔ ہندوستان میں صارفین کی تعداد 1.22 ارب سے زائد ہے، دنیا میں کم ترین ٹیرف میں شمار ہوتی ہے اور فی صارف ڈیٹا استعمال کے لحاظ سے بھی نمایاں طور پر بلند ہے۔ مالی سال 25 میں شعبے کی مجموعی آمدنی 10.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.72 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ جون 2025 تک 2.4 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اس شعبے میں عالمی سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے سی او اے آئی ڈیجی کوم سمٹ 2026 کے دوران ٹرائی ، سی او اے آئی ، صنعت کے نمائندوں اور دیگر شرکاء کے معزز اراکین سے تبادلۂ خیال کیا۔
مینوفیکچرنگ کے حوالے سے وزیر مملکت نے ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات کے لیے پی ایل آئی اسکیم میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا، جس کا مجموعی بجٹ 12,195 کروڑ روپے ہے۔ اس اسکیم کے تحت 42 کمپنیوں کو منظوری دی گئی ہے، مجموعی فروخت 65,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور برآمدات 12,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ نے مقامی تحقیق و ترقی کو فروغ دیتے ہوئے 542 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کی معاونت کی ہے۔
جعلسازی اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے خلاف اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سنچار ساتھی، اے ایس ٹی آر کے ذریعے 88 لاکھ سے زائد جعلی کنیکشنز کو منقطع، چکشو کی شکایات میں اضافہ اور ڈیجیٹل انٹیلیجنس پلیٹ فارم میں 1,200 سے زائد اداروں کی شمولیت کا ذکر کیا۔ مالیاتی دھوکہ دہی کے خطرے کا اشارے کے ذریعہ تقریباً 2,300 کروڑ روپے کے نقصانات کو روکنے میں مدد ملی ہے، جبکہ حال ہی میں ڈی او ٹی اور سیبی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطرات کی نوعیت تیزی سے زیادہ پیچیدہ ہو رہی ہے، اس لیے مضبوط کے وائی سی نظام، کالنگ نیم پریزنٹیشن کا نفاذ، جعلی بین الاقوامی کالز کی فلٹرنگ اور انٹیلیجنس شیئرنگ میں مزید بہتری ناگزیر ہے۔
تحقیق اور ترقی (آر اینڈ ڈی) کے حوالے سے وزیر مملکت نے کہا کہ اگرچہ ٹیلی کام شعبے نے مالی سال 25 میں 3.72 لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، لیکن ہندوستانی آپریٹرز اپنی آمدنی کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ آر اینڈ ڈی پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ عالمی بڑی کمپنیاں 15 سے 25 فیصد تک خرچ کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان کے 6 جی وژن کے لیے صنعت کی جانب سے تحقیق و ترقی میں زیادہ شمولیت ضروری ہے۔
وزیر نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ ہندوستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں پالیسی سپورٹ، بنیادی ڈھانچہ، ہنر مند افرادی قوت اور پیمانہ موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجود مواقع کے مطابق بلند عزائم اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔
*******
ش ح۔م ع ن۔م الف
U: 6262
(ریلیز آئی ڈی: 2255316)
وزیٹر کاؤنٹر : 7