پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے ایس اے ایف کی ملاوٹ  والے ہوابازی کے ایندھن کو اے ٹی ایف کنٹرول آرڈر کے دائرہ کار میں لایا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 APR 2026 9:01PM by PIB Delhi

حکومت نے 17 اپریل 2026 کوجاری کردہ  نوٹیفکیشن کے ذریعے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) (مارکیٹنگ ریگولیشن) آرڈر، 2001 میں ترمیم کا اعلان کیا ہے۔ یہ ترمیم ایک انتظامی اقدام کے طور پر کی گئی ہے جس کے تحت پائیدار ایوی ایشن فیول(ایس ا ے ایف) آمیز ایوی ایشن فیول کو بھی اے ٹی ایف کنٹرول آرڈر کے دائرہ کار میں لایا گیا ہے۔

پائیدار ایوی ایشن فیول(ایس اے ایف)خصوصی طور پر تیار کردہ ایوی ایشن گریڈ ہائیڈروکاربن پر مشتمل ہوتا ہے، جو کیمیائی طور پر اے ٹی ایف سے مماثلت رکھتے ہیں اور ہوائی جہاز کے انجنوں کے لیے مکمل طور پر موافق  ہوتے ہیں۔ ایس اے ایف کی ملاوٹ سےایوی ایشن فیول کی بنیادی نوعیت، حفاظت یا کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ ہوابازی  کے لیے ایس اے ایف کی آمیزش بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے تسلیم شدہ سخت جانچ کے عمل سے گزرتی ہے، جو اے ایس ٹی ایم انٹرنیشنل کے معیار کے مطابق ہوتی ہے، اور اسی تجزیاتی عمل کے بعد ہی ایس اے ایف کو ہوا بازی میں استعمال کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن(آئی سی اے او) کے مطابق، پائیدار ایوی ایشن فیول(ایس اے ایف) قابلِ تجدید ایندھن ہے جو متبادل خام مال جیسے زرعی اجناس، حیاتیاتی باقیات اور فضلات سے حاصل کیا جاتا ہے، اور یہ گرین ہاؤس گیس (جی ایچ جی) کے اخراج میں نمایاں کمی کا باعث بنتا ہے۔

آئی سی اے او کی جانب سے بین الاقوامی ہوائی سفر سے ہونے والے گیس کے اخراج  کو کنٹرول کرنے کے لیے کاربن آف سیٹنگ اینڈ ریڈکشن اسکیم  فار انٹرنیشنل ایوی ایشن (سی او آر ایس آئی اے) نافذ کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کا لازمی مرحلہ 2027 سے شروع ہوگا، جس کے تحت بین الاقوامی پروازوں کو ایک مقررہ بنیادی سطح سے زیادہ ہونے والے اخراج کی تلافی  کرنی ہوگی۔ ایس اے ایف کا استعمال اس تلافی کی ضرورت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی عالمی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے بین الاقوامی پروازوں کے لیے اے ٹی ایف میں ایس اے ایف کے ملاوٹ کے عبوری اہداف بھی مقرر کیے ہیں، جن کے مطابق 2027 میں 1 فیصد، 2028 میں 2 فیصد اور 2030 میں 5 فیصد ایس اے ایف کی ملاوٹ کا ہدف متعین کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اے ٹی ایف کی تعریف صرف پیٹرولیم پر مبنی ایندھن تک محدود تھی جو بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز(بی آئی ایس) کی وضاحتوں پر پورا اترتا تھا۔ اس ترمیم کے ذریعے اس تعریف میں توسیع کی  گئی ہے تاکہ ریفائنریوں میں اے ٹی ایف کے ساتھ بیک وقت  پروسیس کیا گیا ایس اے ایف بھی اس میں شامل ہو سکے، جو آئی ایس 1571 کے مطابق ہو، اور وہ ایس اے ایف جو  آئی ایس17081 کے بھی  مطابق ہو اور اے ٹی ایف کے ساتھ ملا کر آئی ایس 1571 کے معیار پر پورا اترتا ہو۔

یہ ترمیم  ہندوستان  کو ایس اے ایف کی عالمی سپلائی چین کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔

سی او آر ایس آئی اے کے تحت مطلوبہ ایس اے ایف نہ صرف موجودہ بی آئی ایس کے سخت معیار کے مطابق اعلیٰ کوالٹی کی ضروریات پوری کرتا ہے (جو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہیں)، بلکہ اسے سی او آر ایس آئی اے کی جانب سے مقرر کردہ ماحولیاتی پائیداری کے معیار پر بھی پورا اترنا لازمی ہوتا ہے تاکہ اسے سی او آر ایس آئی اے کی اہلیت یافتہ  ایندھن (سی ای ایف)  قرار دیا جا سکے۔ اسی لیے اے ٹی ایف کنٹرول آرڈر میں کی جانے والی یہ ترمیم ایک ’’اختیاری/سہولیتی انتظامی شق ہے، جس کا مقصد ان اہداف کو عملی طور پر نافذ کرنا ہے۔

عالمی سطح پر بھی متعدد ممالک اسی طرح  کے اقدامات کر رہے ہیں۔ یورپی یونین اور برطانیہ نے  ایس اے ایف کی  ملاوٹ کے لازمی اہداف مقرر کیے ہیں۔ یورپی یونین میں یہ ہدف 2025 میں 2 فیصد، 2030 میں 6 فیصد اور 2050 تک 70 فیصد تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ برطانیہ میں یہ اہداف 2025 میں 2 فیصد، 2030 میں 10 فیصد اور 2040 میں 22 فیصد ہیں۔ امریکہ  ایس اے ایف کی پیداوار کو مختلف مراعات کے ذریعے فروغ دے رہا ہے۔ جاپان نے بھی 2030 تک 10 فیصد ایس اے ایف استعمال کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سنگاپور میں 2026 سے بین الاقوامی پروازوں کے لیے 1 فیصد ایس اے ایف لازمی ہوگا، جو 2030 تک بڑھ کر 3 سے 5 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

ہندوستان گرین فیول ٹرانزیشن کے لیے پابند عہد ہے، جس کا بنیادی مقصد کاربن کے اخراج میں کمی، پائیدار ایندھن جیسے ایس اے ایف کو فروغ دینا، گھریلو پیداوار کی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور ملک کو ابھرتے ہوئے عالمی صاف توانائی کے نظام میں ایک اہم ملک کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  م ش ع۔ع ن)

U. No. 6241


(ریلیز آئی ڈی: 2255162) وزیٹر کاؤنٹر : 10