زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان کی قیادت میں زرعی ترقی کو نئی رفتار دینے کے لیے شمالی علاقائی کانفرنس
شمالی بھارت کی زرعی قیادت 24 اپریل کو لکھنؤ میں یکجا ہوگی، کسانوں کی بہبود کے لیے مضبوط عملی منصوبہ تیار کیا جائے گا
کھیت سے منڈی تک جامع اصلاحات پر توجہ، کسانوں کی خوش حالی کے لیے نئے ماڈلز پر غور کیا جائے گا: جناب شیو راج سنگھ
جناب شیو راج سنگھ کی صدارت میں قرض، باغبانی، دالوں،تلہن، اور ڈیجیٹل زراعت پر اہم گفتگو ہوگی
مرکز، ریاستوں، سائنس دانوں، ایف پی اوز کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر وزرا، ترقی یافتہ زراعت کی سمت فیصلہ کن اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 APR 2026 6:44PM by PIB Delhi
زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان کی پہل پر 24 اپریل بروز جمعہ لکھنؤ میں منعقد ہونے والی شمالی علاقائی زرعی کانفرنس کسان مرکوز، نتیجہ خیز، اور مربوط زرعی ترقی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ شمالی ریاستوں سے وزرائے زراعت، سینئر حکام، سائنس دانوں، ترقی پسند کسانوں، کسان پیداوار تنظیموں، اسٹارٹ اپس، کرشی وگیان کیندروں، مالیاتی اداروں، اور خریداری ایجنسیوں کی شرکت کے ذریعے کھیتی باڑی، کسانوں کی آمدنی، ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ، اور زرعی بنیادی ڈھانچے سے متعلق امور پر ایک ٹھوس عملی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے آج نئی دہلی میں کرشی بھون میں سینئر حکام کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا اور ہدایات جاری کیں۔
مرکزی وزیر زراعت جناب شیو راج سنگھ چوہان کی قیادت میں شمالی علاقائی زرعی کانفرنس 24 اپریل کو لکھنؤ میں اس مقصد کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہے کہ زرعی شعبے کو مزید جدید، جامع، اور کسان دوست بنایا جائے۔ یہ کانفرنس ملک بھر میں منعقد ہونے والی زونل کانفرنسوں کی سلسلہ وار کڑی میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس کے بعد جنوب، شمال مشرق، مشرق، اور بالآخر قومی خریف کانفرنس منعقد ہوگی۔ شمالی خطے کی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے بشمول دہلی، چنڈی گڑھ، جموں و کشمیر، ہریانہ، ہماچل پردیش، لداخ، پنجاب، اتر پردیش، اور اتراکھنڈ اس میں شریک ہوں گے۔ یہ وسیع شرکت اس کی علامت ہے کہ مرکزی حکومت مشترکہ ذمہ داری اور مشترکہ حل کے ماڈل پر زرعی ترقی کو آگے بڑھا رہی ہے۔
پروگرام کا آغاز چراغ روشن کرنے، درخت لگانے، وندے ماترم، اور استقبالیہ سیشن سے ہوگا، جس کے بعد مرکزی وزیر زراعت جناب شیو راج سنگھ چوہان افتتاحی خطاب کریں گے، اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ بھی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ اس سے پالیسی، انتظامیہ، اور عمل درآمد کی سطح پر کانفرنس کو مضبوط سمت ملنے کی توقع ہے۔ کانفرنس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف رسمی جائزے ہی نہیں بلکہ اہم زرعی اسکیموں اور مستقبل کی حکمت عملیوں پر موضوعاتی تفصیلی مباحثے بھی شامل ہیں۔ پروگرام میں زرعی قرض، کسان کریڈٹ کارڈ، ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ، باغبانی کے امکانات، آتم نربھر بھارت کے تحت دالوں کا مشن، نیشنل ایڈیبل آئل-آئل سیڈز مشن، ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن، کسان رجسٹری، کھاد کی دستیابی، متوازن استعمال، اور بلیک مارکیٹنگ پر کنٹرول جیسے اہم امور شامل ہیں۔
مختلف ریاستوں کی کام یاب پہلوں کو بانٹنے پر بھی خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی گنے کے ساتھ بین فصل کاشت اور ڈائریکٹ سیڈنگ آف رائس، ہریانہ کے زمینی ریکارڈز اور ‘میری فصل میرا بیورا’، پنجاب کی دھان سے فصلوں کی تنوع کاری، اور ہماچل پردیش و اتراکھنڈ کی باغبانی میں بہترین عملی مثالیں کانفرنس میں پیش کی جائیں گی۔ کانفرنس کا انداز کثیر فریقی مکالمے کا ہے، جہاں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ آئی سی اے آر کے سائنس دان، زرعی جامعات کے نمائندے، کرشی وگیان کیندر کے ماہرین، ترقی پسند کسان، خواتین کسان پیداوار تنظیمیں، اسٹارٹ اپس، فلور ملرز، ایگری ٹیک کمپنیاں، ویلیو چین پارٹنرز، نبارڈ ، نافیڈ, این سی ایف، این ایس سی اور دیگر ادارے ایک پلیٹ فارم پر موجود ہوں گے۔ اس طرح یہ کانفرنس پالیسی سازی اور زمینی تجربات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کرے گی۔
جناب شیو راج سنگھ چوہان کے ساتھ مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت و کسان بہبود جناب رام ناتھ ٹھاکر اور جناب بھگیرتھ چودھری، زراعت کے سیکرٹری جناب اتیش چندرا، ایڈیشنل سیکرٹریز، جوائنٹ سیکرٹریز، زرعی کمشنر، آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منگی لال جٹ، اور مختلف شعبوں کے ممتاز سائنس دان اور ماہرین بھی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ اعلیٰ سطحی موجودگی کانفرنس کو نتیجہ خیز بنائے گی۔
دّلہن، تلہن، باغبانی، ڈیجیٹل زراعت، اور کھاد کے انتظام پر مرکوز اجلاسوں کے ساتھ ساتھ کسانوں اور ایف پی اوز کی شرکت واضح طور پر اس کی نشان دہی کرتی ہے کہ حکومت زرعی پالیسی کو کھیتوں، کسانوں، اور منڈیوں کی حقیقی ضروریات سے جوڑنا چاہتی ہے۔ خصوصاً خواتین کسان پیداوار تنظیموں اور ترقی پسند کسانوں کی موجودگی زرعی ترقی کو زیادہ جامع اور حوصلہ افزا جہت دیتی ہے۔ جناب شیو راج سنگھ چوہان کی یہ پہل اس تصور کو مضبوط کرتی ہے کہ زرعی شعبے میں ترقی صرف اسکیموں کے اعلان سے نہیں بلکہ ریاستوں کے ساتھ فعال رابطے، بہترین تجربات کے تبادلے، سائنسی رہنمائی، تکنیکی اختراع، اور کسانوں کی براہِ راست شمولیت سے ممکن ہے۔ لکھنؤ میں شمالی علاقائی کانفرنس اسی سوچ کی ایک زندہ مثال بننے جا رہی ہے، جہاں سے کسانوں کی بہبود، پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی، تنوع، ڈیجیٹل بااختیاری، اور دیہی خوش حالی کی سمت نئی قراردادیں سامنے آئیں گی۔
یہ کانفرنس آنے والی قومی خریف کانفرنس کی تیاریوں کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ یہ زونل کانفرنسوں کی یہ سلسلہ وار کڑی جے پور، لکھنؤ، وشاکھاپٹنم، گوہاٹی، اور بھوبنیشور کے بعد 28-29 مئی کو دہلی میں قومی خریف کانفرنس پر منتج ہوگی، جس سے علاقائی تجربات کو قومی زرعی حکمت عملی میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
جناب شیو راج سنگھ چوہان کی قیادت میں مرکزی حکومت کا واضح پیغام یہ ہے کہ کسانوں کی بہبود، زرعی منافع، تکنیکی جدیدیت، اور ریاستوں کے ساتھ مضبوط ساجھیداری وکست بھارت کے لیے زراعت کی بنیاد کو مستحکم کرے گی۔ لکھنؤ کانفرنس سے ابھرنے والی تجاویز اور عملی نکات آنے والے خریف سیزن کے لیے زرعی انتظامیہ میں نئی توانائی، وضاحت، اور سمت پیدا کریں گے۔
***
(ش ح – ع ا)
U. No. 6183
(ریلیز آئی ڈی: 2254667)
وزیٹر کاؤنٹر : 3