الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اوڈیشہ میں بھارت کے پہلے جدید 3ڈی سیمی کنڈکٹر پیکیجنگ یونٹ کا سنگِ بنیاد، مصنوعی ذہانت، 5جی اور دفاعی ٹیکنالوجی کو بڑا فروغ

اوڈیشہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اس ویژن کو تقویت دینے کے لیے تیار ہے جس کے تحت بھارت کو سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس مال سازی میں خود کفیل بنانا ہے: وزیرِ اعلیٰ موہن چرن ماجھی

اوڈیشہ تیزی سے ترقی کرنے والے آئی ٹی اور سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں الیکٹرانکس مال سازی کو مضبوط فروغ حاصل ہے: مرکزی وزیر اشونی ویشنو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 APR 2026 5:02PM by PIB Delhi

بھارت کی سیمی کنڈکٹر خواہشات کے لیے ایک فیصلہ کن لمحے اور اوڈیشہ کے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر ابھرنے کے تناظر میں آج بھوبنیشور کے انفَو ویلی میں ملک کے پہلے جدید 3 ڈی چِپ پیکیجنگ یونٹ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ یہ منصوبہ بھارت کے اندرونی سیمی کنڈکٹر نظام کو مضبوط بنانے اور اعلیٰ درجے کی الیکٹرانکس مال سازی میں آتم نربھر بھارت کے ویژن کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/IMG-20260419-WA00053WZX.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/IMG-20260419-WA000617JO.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/20260419_152819B5EQ.jpg

ہیٹروجینیئس انٹیگریشن پیکیجنگ سلوشنز منصوبے کا سنگِ بنیاد جو 3ڈی گلاس سلوشنز کے تحت فروغ دیا جا رہا ہے، وزیرِ اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی اور مرکزی وزیر برائے ریلوے، الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور اطلاعات و نشریات جناب اشونی ویشنو کی موجودگی میں رکھا گیا۔ اس منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی اوڈیشہ دنیا کی جدید ترین چِپ پیکیجنگ ٹیکنالوجیز میں سے ایک کا مرکز بننے کے لیے تیار ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/IMG-20260419-WA0010LK8K.jpg

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی نے اس منصوبے کو اوڈیشہ اور ملک کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں پہلی بار جدید 3ڈی گلاس سلوشنز سیمی کنڈکٹر منصوبہ قائم کیا جا رہا ہے، جو ریاست کے لیے انتہائی باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی ٹیکنالوجی رہنما جیسے انٹیل، لاک ہیڈ مارٹن اور اپلائیڈ میٹیریلز جدید ترین پیکیجنگ ٹیکنالوجیز سے وابستہ ہیں اور اوڈیشہ میں ان کی دلچسپی ریاست کی بڑھتی ہوئی صنعتی قوت کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست میں تیار ہونے والی مصنوعات آئندہ نسل کے شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، اعلیٰ کارکردگی کی کمپیوٹنگ، دفاعی الیکٹرانکس، ٹیلی کمیونیکیشن اور جدید ڈیجیٹل نظاموں کو تقویت دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا: ’’اوڈیشہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس ویژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پوری طرح تیار ہے جس کے تحت بھارت کو سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں خود کفیل بنانا ہے۔‘‘

جناب ماجھی نے بتایا کہ کمپنی اس منصوبے میں تقریباً 2000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور توقع ہے کہ یہ سہولت سالانہ 70,000 گلاس پینلز، 50 ملین اسمبل شدہ یونٹس اور تقریباً 13,000 جدید 3ڈی ایچ آئی ماڈیولز تیار کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوڈیشہ ملک کی واحد ریاست کے طور پر ابھرا ہے جہاں بھارت کا پہلا کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن یونٹ اور پہلا 3ڈی گلاس سبسٹریٹ پیکیجنگ مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اوڈیشہ میں تیزی سے فروغ پاتے سیمی کنڈکٹر نظام کے باعث انجینئرنگ گریجویٹس، ڈپلومہ ہولڈرز اور آئی ٹی آئی طلبہ کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے ریاست کو وسائل پر مبنی معیشت سے ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے مرکز میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/IMG-20260419-WA00095JV3.jpg

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے اس اہم اقدام پر اوڈیشہ کے عوام کو مبارکباد دی اور ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں بھارت کا سیمی کنڈکٹر شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس میں اوڈیشہ ایک اہم کردار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

جناب ویشنو نے کہا کہ اوڈیشہ، جو روایتی طور پر معدنیات، دھاتوں اور توانائی کے شعبوں میں اپنی مضبوطی کے لیے جانا جاتا ہے، اب الیکٹرانکس، آئی ٹی اور سیمی کنڈکٹر جیسے جدید شعبوں میں بھی مستقل طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو اپنی نوعیت کے سب سے جدید مینوفیکچرنگ اقدامات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا۔

ملک میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب ویشنو نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں اس شعبے کی پیداوار میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’بھارت اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور 2025 میں موبائل فون کی برآمدات میں بھی سرِفہرست رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت اوڈیشہ کے لیے دو سیمی کنڈکٹر منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ مزید تین الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ انٹیل سمیت کئی عالمی کمپنیوں کے ساتھ ریاست میں مستقبل کی سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جناب ویشنو نے کہا کہ اوڈیشہ میں اس وقت 90,000 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جو ریلوے رابطہ کاری میں بے مثال توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کو 10,928 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریلوے بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت 59 اسٹیشنوں کی ازسرِ نو تعمیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ بندی کے تحت اوڈیشہ کے تمام 30 اضلاع کو ریلوے رابطے میں لایا جا رہا ہے، جس کے ساتھ بالاسور سے برہام پور تک مجوزہ چار لائنوں پر مشتمل ساحلی ریلوے راہداریاں جیسے اہم منصوبے بھی شامل ہیں۔

جناب ویشنو نے زور دیا کہ یہ انقلابی اقدامات علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنائیں گے، اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے اور اوڈیشہ کو قومی مال برداری اور مسافروں کے نیٹ ورک کے ساتھ مزید قریب سے جوڑیں گے۔

حکومت کے ویژن کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوڈیشہ میں ریلوے انفراسٹرکچر کو رفتار، تحفظ اور مسافروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل بہتر بنایا جائے گا تاکہ ریاست کے تمام علاقوں میں متوازن اور ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ریاستی وزیر برائے الیکٹرانکس و آئی ٹی، ڈاکٹر مکیش مہالنگ نے کہا کہ اوڈیشہ تیزی سے سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت دو منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں آج افتتاح کیا جانے والا جدید 3ڈی گلاس یونٹ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جی سی سی اور سیمی کنڈکٹر پالیسیز 2025 جدت کو فروغ دیں گی اور سرمایہ کاری کو راغب کریں گی۔ مہارت کی ترقی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ طلبہ کو وظیفہ فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ صنعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلیک سوان سمٹ 2026 جیسے اقدامات اور مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری روزگار کے مواقع پیدا کرے گی اور اوڈیشہ کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں قیادت فراہم کرے گی۔

یہ منصوبہ 3ڈی گلاس سلوشنز اِنک (امریکہ) اپنی مکمل ملکیتی بھارتی ذیلی کمپنی ہیٹروجینیئس انٹیگریشن پیکیجنگ سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ آئی پی ایس پی ایل) کے ذریعے ضلع کھوردھا کے انفَو ویلی میں نافذ کر رہا ہے۔ یہ ایک گرین فیلڈ، عمودی طور پر مربوط جدید پیکیجنگ اور ایمبیڈڈ گلاس سبسٹریٹ اے ٹی ایم پی سہولت ہے۔

اس منصوبے کی کل سرمایہ کاری 1,943.53 کروڑ روپے ہے، جس میں مرکزی حکومت کی منظور شدہ مالی معاونت 799 کروڑ روپے اور ریاستی حکومت کی تقریباً 399.5 کروڑ روپے کی اضافی مدد شامل ہے۔

یہ سہولت تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں جیسے ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، 5G/6G مواصلات، آٹوموٹیو ریڈار، دفاعی الیکٹرانکس، ایرو اسپیس ایپلی کیشنز اور فوٹونکس کی ضروریات پوری کرے گی۔ تجارتی پیداوار کے آغاز کی توقع اگست 2028 تک ہے، جبکہ مکمل پیمانے پر پیداوار اگست 2030 تک شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس تقریب میں کئی معزز شخصیات نے شرکت کی، جن میں حکومتِ ہند کی وزارتِ الیکٹرانکس و آئی ٹی کے سیکریٹری جناب ایس کرشنن، اوڈیشہ کی چیف سیکریٹری محترمہ انو گرگ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (صنعت) جناب ہیمنت شرما، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (الیکٹرانکس و آئی ٹی) جناب وشال کمار دیو اور 3ڈی گلاس سلوشنز کے چیئرمین و سی ای او جناب بابو منداوا شامل تھے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6042

 


(ریلیز آئی ڈی: 2253570) وزیٹر کاؤنٹر : 15