زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مرکز مکمل طور پر چوکس: مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے خریف تیاریوں کا جائزہ لیا
’’کسانوں کی فلاح ہمارے لیے اولین ترجیح ہے، حکومت ممکنہ ایل نینو اثرات کے لیے تیار ہے‘‘ : جناب شیوراج سنگھ چوہان
مانسون پیش گوئی کے درمیان وزارتِ زراعت کی تیاری، جناب شیوراج سنگھ نے پانی، بیج اور دیگر امور پر ہدایات جاری کیں
مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت میں بہتر آبی ذخیرہ اور بروقت تیاریوں کے ذریعے خریف فصل پر اثرات کم کرنے کی حکمتِ عملی تیار
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 APR 2026 5:37PM by PIB Delhi
دہلی
زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال اور آنے والے خریف سیزن کی تیاریوں کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیا۔ انہوں نے زرعی سکریٹری اور متعلقہ سینئر افسران کو ہدایت دی کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری انتظامات پیشگی طور پر یقینی بنائے جائیں۔
اجلاس میں موسم کی پیش گوئی، پانی کی دستیابی، فصلوں کی صورتحال، بیج اور دیگر زرعی وسائل کی فراہمی، ریاستوں کی تیاریوں اور ممکنہ خراب موسمی حالات سے نمٹنے کے لائحہ عمل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
جائزہ اجلاس کے دوران جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت ممکنہ ایل نینو کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ بھارتی محکمہء موسمیات (آئی ایم ڈی) نے سال 2026 میں معمول سے کم جنوب مغربی مانسون کی پیش گوئی کی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں موسمی بارش اوسط طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے تقریباً 92 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ مانسون کے دوران ایل نینو کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی اور تازہ ترین جائزہ مئی 2026 کے آخری ہفتے میں جاری کیا جائے گا۔
جائزہ اجلاس کے دوران مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ موسمی پیش گوئیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مرکزی حکومت مکمل تیاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور کسانوں کو کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں، بہتر آبی انتظام، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، آبپاشی کی سہولیات میں توسیع اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زرعی اقدامات کے ذریعے ممکنہ چیلنجوں کے اثرات کو مؤثر طریقے سے قابو کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ اس وقت ملک کے ذخائر میں پانی کی سطح تسلی بخش ہے اور مجموعی ذخیرہ معمول سے بہتر ہے۔ دستیاب اندازوں کے مطابق آبی ذخائر میں پانی کی مقدار اس مدت کے لیے معمول کے 127.01 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو خریف سیزن کے دوران آبپاشی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور نمی کی کمی کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرے گی۔ اس بنیاد پر اجلاس میں یہ جائزہ لیا گیا کہ ممکنہ ایل نینو اثرات کے باوجود زرعی شعبے پر اس کے اثرات ماضی کے مقابلے میں نسبتاً محدود رہنے کا امکان ہے۔ خاص طور پر بہتر آبی دستیابی، مائیکرو آبپاشی، سائنسی رہنمائی، فصلوں کے تنوع اور بروقت اقدامات کی بدولت کاشتکاری پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور لچکدار ہو چکی ہے۔
جائزے کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ 2000 سے 2016 کے درمیان ایل نینو کے اثرات زرعی پیداوار پر زیادہ نمایاں تھے، کیونکہ اس وقت بارش پر انحصار زیادہ تھا اور موسمی خطرات سے نمٹنے کے انتظامات محدود تھے۔ حالیہ برسوں میں تکنیکی ترقی، بہتر زرعی نظم و نسق، پانی کے تحفظ، آبپاشی کے نیٹ ورک کی توسیع اور بہتر بیجوں کے استعمال نے فصلوں کی پیداوار میں زیادہ استحکام پیدا کیا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بعض فصلیں، خصوصاً دھان، نسبتاً زیادہ مستحکم رہتی ہیں، جبکہ دیگر فصلوں کے لیے بھی موزوں انتظامی اقدامات تیار کیے جا رہے ہیں۔ مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ حکومت کا زور اس بات پر ہے کہ کسانوں کو علاقہ اور فصل کے مطابق بروقت مشورے، بیج، وسائل اور متبادل فراہم کیے جائیں۔
جناب چوہان نے افسران کو ہدایت دی کہ تمام ریاستیں کسی بھی ممکنہ خراب موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور ضلع سطح تک ہنگامی منصوبے فعال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بیج، کھاد اور دیگر ضروری زرعی وسائل کی دستیابی کے ساتھ ساتھ متبادل فصلوں، تاخیر سے بوائی کی حکمت عملی اور خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی جائے تاکہ کسانوں کو عملی اور فوری حل فراہم کیے جا سکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خریف اور ربیع دونوں سیزن کے لیے بیجوں کی دستیابی ضرورت سے زیادہ ہے اور ہنگامی حالات کے لیے قومی بیج ریزرو کے انتظامات بھی مکمل ہیں، تاکہ کسی بھی متاثرہ علاقے میں فوری طور پر متبادل بیج فراہم کیے جا سکیں۔
جناب چوہان نے واضح کیا کہ کسانوں کو درپیش ممکنہ مشکلات سے بچانے کے لیے ایک مؤثر نگرانی کا نظام فعال ہے اور صورتحال کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ریاستوں کے ساتھ مسلسل رابطہ، فصل اور موسم کی نگرانی، ضلعی زرعی ہنگامی منصوبوں کی تازہ کاری اور بحران سے نمٹنے کے ادارہ جاتی انتظامات کے ذریعے بروقت فیصلے یقینی بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد صرف ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانا نہیں بلکہ پیشگی اقدامات کے ذریعے کسانوں کا اعتماد برقرار رکھنا، زرعی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا اور خریف سیزن کو بغیر رکاوٹ آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ بہتر آبی انتظام، تکنیکی ترقی، جدید زرعی طریقوں اور بروقت تیاریوں کے ذریعے ممکنہ چیلنجوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
ماضی کے مقابلے سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اب حالات بہتر ہیں؛ 2016 سے پہلے ایل نینو کے اثرات محدود بنیادی ڈھانچے کے باعث زیادہ شدید ہوتے تھے، جبکہ موجودہ دور میں توسیع شدہ آبپاشی نظام، موسمیاتی لحاظ سے موزوں بیج اور مؤثر نگرانی کے باعث ان اثرات کو کافی حد تک قابو میں رکھنے کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے درمیان مسلسل ہم آہنگی، فصل و موسم کی نگرانی اور مؤثر ادارہ جاتی نظام کسانوں کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے خریف سیزن کی روانی کو یقینی بناتے ہیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :6022 )
(ریلیز آئی ڈی: 2253358)
وزیٹر کاؤنٹر : 5