ریلوے کی وزارت
مضبوط پٹریاں، بہتر دیکھ بھال اور جدید نگرانی کے نظام ریلوے سفر کو زیادہ محفوظ بنا رہے ہیں اور ملک بھر میں مسافروں کا اعتماد بڑھا رہے ہیں
نظامی اصلاحات کے تحت، ’’حفاظت محض تکنیکی پیمانہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا معاملہ ہے‘‘: اشونی ویشنو
ریل پٹریوں میں دراڑوں میں 92 فیصد کمی، ویلڈنگ کی خرابیوں میں 93 فیصد تک کمی
زیادہ وزنی 60 کلوگرام ریل، طویل ویلڈڈ پینلز اور جدید خامیوں کی نشاندہی کے نظام کے استعمال سے پٹری سے اترنے کے خطرات میں نمایاں کمی
کم حدِ نگاہ میں بھی 30,000 جی پی ایس پر مبنی کہرے سے حفاظت کے آلات کی مؤثر کارکردگی اور بر وقت ڈیجیٹل نگرانی سے عوامی اعتماد میں اضافہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 APR 2026 6:24PM by PIB Delhi
ہر روز بھارتی ریلوے دنیا کے سب سے بڑے اور پیچیدہ ریلوے نیٹ ورکس میں سے ایک پر دو کروڑ سے زائد مسافروں کو سفر کراتی ہے، جہاں روزانہ 25 ہزار سے زیادہ ٹرینیں چلتی ہیں اور 14 ہزار سے زائد مسافر خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ کئی دہائیوں تک ریلوے سے متعلق عوامی گفتگو کا مرکز توسیع اور رابطہ کاری رہا، تاہم 2014 کے بعد پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کے تحت حفاظت کو تمام کارروائیوں کا مرکزی نقطہ بنا دیا گیا۔ اس کے نتائج اب ٹھوس اعداد و شمار میں واضح نظر آ رہے ہیں، جو ایک ہمہ جہت—ساختی، تکنیکی اور مالی—تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
مرکزی وزیر ریلوے جناب اشونی ویشنو نے ایک قومی اخبار میں ایک مضمون میں کہا کہ عالمی سطح پر ریلوے کی حفاظت کا اندازہ فی ارب مسافر-کلومیٹر حادثات یا اموات کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے، جس سے مختلف نظاموں کا موازنہ ممکن ہوتا ہے۔ جناب ویشنو نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی پہلی مدتِ حکومت کے دوران واضح پیغام دیا گیا تھا: ’’سب سے پہلے حفاظت‘‘۔ اور 2014 کے بعد سے بھارتی ریلوے نے اپنی حفاظتی نظام میں جامع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے بڑے پیمانے پر اصلاحات کو آگے بڑھایا ہے۔
مرکزی وزیر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یورپی یونین، جسے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے، میں ریلوے مسافروں کے لیے موت کا خطرہ تقریباً 0.09 فی ارب مسافر-کلومیٹر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریل سفر سڑک کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور ہوائی سفر کے برابر ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ہندوستان کی کہانی برابری کے دعووں سے نہیں بلکہ تبدیلی کی رفتار اور نیت سے سمجھی جانی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’کنسیکوینشل ایکسیڈنٹ انڈیکس‘‘ اب 0.01 تک آ چکا ہے، جو بڑے اور پیچیدہ ریلوے نظاموں کے عالمی اوسط کے مقابلے میں بہتر ہے۔
ایک دہائی کا موازنہ: ساختی تبدیلی
اشونی ویشنو نے اسے نظامی تبدیلی کا سب سے واضح ثبوت قرار دیتے ہوئے گزشتہ دہائی کے مقابلے میں ٹرین حادثات کے اعداد و شمار پیش کیے۔ 2014-15 میں جہاں 135 بڑے حادثات ریکارڈ ہوئے تھے، وہ 2025-26 میں کم ہو کر صرف 16 رہ گئے، یعنی تقریباً 89 فیصد کمی۔ اسی طرح کنسیکوینشل ایکسیڈنٹ انڈیکس 0.11 سے کم ہو کر 0.01 ہو گیا، جو تقریباً 91 فیصد بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب ریلوے آپریشنز—ٹرینوں کی تعداد، مسافروں اور فاصلوں—میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو ہندوستانی ریلوے کو عالمی سطح پر نمایاں مقام پر لے جا رہا ہے۔
وزیرموصوف نے زور دیا کہ اصل اہمیت بچائی گئی انسانی جانوں کی ہے، اور اموات میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ نظام اب حادثات کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے پہلے سے روکنے کے اصول پر کام کر رہا ہے۔
مالی عزم: حفاظت پر غیر متزلزل سرمایہ کاری
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی صرف ارادوں سے نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر مالی سرمایہ کاری سے ممکن ہوئی ہے۔ حفاظتی اخراجات 2013-14 میں 39,200 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 1,17,693 کروڑ روپے اور 2026-27 کے لیے 1,20,389 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ تین گنا سے زیادہ اضافہ ہے، جس سے پٹریوں، سگنلنگ، رولنگ اسٹاک اور حفاظتی نظام کی مسلسل بہتری ممکن ہوئی۔
کَوَچ: مقامی ٹیکنالوجی کی کامیابی
حفاظتی اقدامات میں ’’کَوَچ‘‘ ایک اہم سنگ میل ہے، جو ہندوستان میں تیار کردہ خودکار ٹرین پروٹیکشن نظام ہے۔ یہ سگنل میں خرابی یا رفتار حد سے تجاوز کی صورت میں خودکار مداخلت کرتا ہے۔ کَوَچ 4.0 کو دہلی-ممبئی اور دہلی-ہاوڑہ جیسے مصروف روٹس پر 1,452 کلومیٹر تک نافذ کیا جا چکا ہے۔
بغیر محافظ ریلوے کراسنگ کا خاتمہ
وزیرموصوف نے بتایا کہ براڈ گیج نیٹ ورک پر بغیر محافظ لیول کراسنگز کا مکمل خاتمہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ جنوری 2019 تک تمام ایسی کراسنگز ختم کر دی گئیں، جس کے لیے ملک بھر میں 14,000 سے زائد اوور برج اور انڈر پاس تعمیر کیے گئے۔
کوچز اور پٹریاں: ہر جز میں حفاظت
2014 سے 2025 کے درمیان 42,600 سے زائد ایل ایچ بی کوچز تیار کیے گئے، جو تصادم کے وقت مسافروں کو بہتر تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ 2004-2014 میں صرف 2,300 کوچز بنے تھے۔ اسی طرح 1,674 انجن تیار کیے گئے اور 2025-26 میں مزید 6,677 ایل ایچ بی کوچز شامل کیے گئے۔
پٹریوں کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے، جہاں 60 کلوگرام ریل، طویل ویلڈڈ پینلز اور جدید جانچ نظام کے باعث ریل دراڑوں میں 92 فیصد اور ویلڈ خرابیوں میں 93 فیصد کمی آئی، جس سے پٹری سے اترنے کے خطرات کم ہوئے۔
جی پی ایس اور ڈیجیٹل نظام
کم حدِ نگاہ کے دوران مدد کے لیے جی پی ایس پر مبنی کہرے سے حفاظت کے آلات کی تعداد 90 سے بڑھ کر تقریباً 30,000 ہو گئی ہے، جو سگنلز اور کراسنگز کی بروقت اطلاع دیتے ہیں۔ اسی طرح تقریباً 4,000 ریلوے اسٹیشن ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، جس سے بر وقت نگرانی ممکن ہوئی ہے۔
انسانی عنصر: عملے کی فلاح بھی حفاظت
وزیرموصوف نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی چوکسی بھی ضروری ہے، اسی لیے عملے کے لیے بہتر آرام گاہیں، منظم ڈیوٹی اوقات اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج حفاظت صرف نظاموں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے بھی مضبوط ہوتی ہے جو ان پر اعتماد کرتے ہیں۔‘‘
کامیابی کا اصل پیمانہ
آخر میں وزیرموصوف نے کہا کہ ریلوے کی حفاظت اکثر خبروں میں نہیں آتی، کیونکہ حادثہ نہ ہونا خبر نہیں بنتا، لیکن یہی خاموشی اصل کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں حادثات اور اموات میں مسلسل کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریلوے میں ایک مضبوط اور پائیدار حفاظتی نظام قائم ہو چکا ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 5986 )
(ریلیز آئی ڈی: 2253139)
وزیٹر کاؤنٹر : 7