وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
مویشی پروری اور ڈیری کے محکمہ کی طرف سے ریاستوں کے لیے کیپیٹل انویسٹمنٹ (ایس اے ایس سی آئی) کے لیے خصوصی امداد، مصنوعی تولید، ٹیکہ کاری اور بھارت پشو دھن پورٹل پر ایک اہم قومی اجلاس/ورکشاپ کا انعقاد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 APR 2026 2:38PM by PIB Delhi
مؤرخہ17 اپریل 2026 کونئی دہلی کے کرشی بھون میں حکومت ہند کے حیوانات اور ڈیری کے محکمے(ڈی اے ایچ ڈی) کے سیکرٹری جناب نریش پال گنگوار کی صدارت میں لائیو اسٹاک سیکٹر اصلاحات کے لیے ریاستوں کو خصوصی امداد برائے کیپیٹل انویسٹمنٹ (ایس اے ایس سی آئی)، مصنوعی تولید (اے آئی)، ٹیکہ کاری اور بھارت پشو دھن پورٹل سے متعلق اہم مسائل پر ایک جائزہ اجلاس/ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مویشی پروری کے محکموں کے اعلیٰ افسران اور معززین نےسرگرمی سے شرکت کی۔
اجلاس/ورکشاپ کا مقصد مندرجہ ذیل امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا: (i) لائیو اسٹاک سیکٹر اصلاحات پر ریاستوں کے لیے کیپیٹل انویسٹمنٹ (ایس اے ایس سی آئی) سے متعلق مسائل، (ii) ٹیکہ کاری سے متعلق ایس او پیز (ایس او پی) اور دیگر مسائل، (iii) مصنوعی تولید سے متعلق ایس او پیز اور دیگر مسائل اور (iv) این ڈی ایل ایم – بھارت پشو دھن پورٹل سے متعلق مسائل۔ چیئرپرسن نے ایس اے ایس سی آئی کے تحت اسکیم کے مقاصد کا خاکہ پیش کیا اور شرکاء کو مراعات حاصل کرنے کے لیے درکار شرائط اور اہداف کے بارے میں آگاہ کیا۔ مزید برآں، چیئرپرسن نے اعلیٰ افسران کو مشورہ دیا کہ وہ ایس اے ایس سی آئی کی پیشگی شرائط پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ قائم کریں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تجاویز ریاست کے لائیو اسٹاک ڈویلپمنٹ پلان سے مطابقت رکھتی ہوں۔

اپنے افتتاحی کلمات میں، مویشی پروری اور ڈیری کے محکمے (ڈی اے ایچ ڈی)، حکومت ہند کے سیکرٹری جناب نریش پال گنگوار نے مطلع کیا کہ زیادہ تر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مویشی پروری کےمحکمے نے ڈی اے ایچ ڈی کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق یکساں اقدامات کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لائیو اسٹاک سیکٹر میں اصلاحات کے لیےایس اے ایس سی آئی کا مقصد واضح آپریشنل فریم ورک کے ذریعے ترغیبی کیپیٹل انویسٹمنٹ کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ نفاذ میں تیزی لائیں، بروقت بجٹ کی منظوری کے لیے محکمۂ خزانہ کے ساتھ رابطہ کریں، دعوے وقت پر جمع کرائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مالی سال کے آغاز سے ہی فنڈز صرف مویشی پروری کی سرگرمیوں پر خرچ ہوں۔ انہوں نے مرکز اور ریاستوں کے مابین ہم آہنگی، بروقت رپورٹنگ، بہتر سروس ڈلیوری کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال اور ورکشاپ کے ایکشن پوائنٹس کی باقاعدہ نگرانی پر بھی زور دیا۔
اس ورکشاپ کے دوران، مویشی پروری اور ڈیری کے محکمے (ڈی اے ایچ ڈی) کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ ورشا جوشی کی جانب سے تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی اورٹیکہ کاری اور مصنوعی تولید (اے آئی) کے لیے معیاری ضابطہ عمل (ایس او پی) کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ مسائل پر غور و خوض کیا گیا۔ مزید برآں، نیشنل ڈیجیٹل لائیو اسٹاک مشن (این ڈی ایل ایم) – بھارت پشو دھن پورٹل سے متعلق معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ڈیٹا کے ہموار انضمام کو حاصل کرنے، ٹیکہ کاری اور اے آئی ریکارڈز کو ریئل ٹائم میں اپ لوڈ کرنے کو ممکن بنانے اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے خدمات کی موثر فراہمی کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ آر جی ایم کے تحت، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا گیا کہ وہ ہر گرام پنچایت میں میتری ورکرز کو تعینات کریں اور تجاویز پیش کریں، جبکہ ڈی اے ایچ ڈی مصنوعی تولید کا دائرہ کار غیر مویشی انواع تک پھیلائے گا اور جینیاتی بہتری کے لیے بھیڑوں میں آئی وی ایف کو فروغ دے گا۔
اس جائزے کے دوران، این ایل ایم-ای ڈی پی (این ایل ایم-ای ڈی پی) کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور دوسری قسط کے لیے مقررہ مدت کے اندر ضروری معلومات جمع کرانے کی ہدایات دی گئیں۔ ایل ایچ ڈی سی پی کے تحت، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا گیا کہ وہ این اے ڈی سی پی، ایم وی یوز، اور اے ایس سی اے ڈی کے لیے ایکشن پلان میں تیزی لائیں۔ اجلاس میں لائیو اسٹاک انشورنس، دیہی ترقی کے محکموں کے ساتھ چارہ منصوبہ بندی، انفلوئنزا کی تیاری، ایف ایم ڈی سے پاک زونز اور ضلعی تشخیصی لیبارٹریوں کو مضبوط بنانے کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کا اختتام ایک بات چیت پر مبنی سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا، جس کے دوران حیوانات اور ڈیری کے محکمے (ڈی اے ایچ ڈی) کے افسران نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔ شرکاء نے اصلاحات اور اسکیموں پر بروقت عمل درآمد، مرکز اور ریاستوں کے مابین ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور حیوانات و لائیو اسٹاک کے شعبے میں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے اپنے عزم کا اجتماعی طور پر اعادہ کیا۔
اس ورکشاپ میں ایڈیشنل سکریٹری (ایل ایچ) جناب راما شنکر سنہا، اینیمل ہسبنڈری کمشنر ڈاکٹر نوینہ بی مہیشورپا، جوائنٹ سکریٹری (این ایل ایم) ڈاکٹر متھو کمارسوامی بی اور ڈی اے ایچ ڈی کے شماریاتی مشیر جناب جگت ہزاریکا بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مویشی پروری کے محکموں کے ایڈیشنل چیف سکریٹریز/پرنسپل سکریٹریز/سکریٹریز، ڈائریکٹوریٹ آف اینیمل ہسبنڈری اینڈ ویٹرنری سروسز کے ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔
*****
ش ح۔ ک ح-ج
U.No. 5963
(ریلیز آئی ڈی: 2252995)
وزیٹر کاؤنٹر : 14