وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے نئی دہلی میں سی فوڈ ایکسپورٹرز میٹ 2026 کی صدارت کی، عالمی منڈی میں رسائی بڑھانے کے لیے حکمتِ عملی تیار
’’ہندستان قدر افضائی والے سمندری غذاؤں کی برآمدات میں اضافہ کرے گا اور خصوصی اقتصادی زون اور گہرے سمندروں سے بحری وسائل سے بھرپور استفادہ کرے گا‘‘
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 APR 2026 7:23AM by PIB Delhi
محکمۂ ماہی پروری، جو وزارتِ ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری کے تحت کام کرتا ہے، نے امبیڈکر بھون، نئی دہلی میں ’’سی فوڈ ایکسپورٹرز میٹ 2026‘‘ یعنی سمندری غذاؤں کے برآمد کنندگان کی میٹنگ کا انعقاد کیا۔ اس اجلاس کی رونمائی ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری نیز وزارتِ پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے کی۔ ان کے ساتھ وزیرِ مملکت، وزارتِ ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری اور وزارتِ پنچایتی راج پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل اور وزیرِ مملکت جناب جارج کورین (وزارتِ ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری نیز وزارتِ اقلیتی امور) بھی موجود تھے۔ اس اجلاس کا مقصد حکومت اور صنعت سے وابستہ فریقین کے درمیان باقاعدہ تبادلۂ خیال کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، نیز برآمد کنندگان سے موجودہ مسائل جیسے منڈی تک رسائی، قیمتوں کے دباؤ اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے بارے میں آراء حاصل کرنا تھا۔ اجلاس میں قدر میں اضافے، منڈیوں کے تنوع اور جزائر، خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) اور کھلے سمندر سے بحری برآمدات میں توسیع کے لیے ضروری اقدامات پر بھی غور و خوض کیا گیا۔
مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے سمندری غذائی اشیاء کی برآمدات میں اضافے کے لیے برآمد کنندگان کی کوششوں کو سراہا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت کی سمندری برآمدات میں مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ غیر امریکی منڈیوں میں بہتر کارکردگی رہی ہے۔
انہوں نے منڈیوں اور مصنوعات کے مسلسل تنوع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سخت ضابطہ جاتی پابندیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا، جن میں اینٹی بایوٹک پر پابندی کی پاسداری اور سراغ رسانی (ٹریس ایبلٹی) کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک کو ایکسس پاسز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس میں شراکتی سوسائٹیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ہمہ گیر ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے انڈمان و نکوبار جزائر، خصوصی اقتصادی زون اور کھلے سمندر سے حاصل ہونے والی اعلیٰ قدر کی اقسام، جیسے ٹونا مچھلی کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کیا اور کشتیوں پر بہتر دیکھ بھال، مضبوط کولڈ چین ڈھانچہ، بہتر پیکجنگ، قدر میں اضافہ اور متبادل منڈیوں کی تلاش پر زور دیا تاکہ فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے اور برآمدی نظام کو مستحکم بنایا جاسکے۔
برآمد کنندگان کو یہ بھی ترغیب دی گئی کہ وہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے برآمدی ہدف کے حصول کے لیے کوشش کریں اور کھلی منڈی کے اصول کو اپنائیں، جبکہ انہیں ای آئی سی، این سی ڈی سی، نابارڈ (این اے بی اے آر ڈی) اور وزارتِ خوراکی صنعتوں جیسے اداروں کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
انہوں نے انڈمان و نکوبار جزائر میں منعقدہ سرمایہ کار اجلاس کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری ہوئی ہے، خصوصاً سمندری پنجرہ پروری، موتی کی کاشت اور گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہازوں کے شعبوں میں۔
محترم وزیرِ مملکت برائے ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری نیز اقلیتی امورجناب جارج کورین نے کہا کہ بجٹ کے بعد منعقدہ ویبینار 2026 کے مطابق مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ ماہی پروری کے شعبے کو ایک اعلیٰ قدر اور زیادہ طلب والے شعبے کے طور پر قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے سمندری غذائی اشیاء کی برآمدات میں حوصلہ افزا اضافے کا ذکر کرتے ہوئے برآمد کنندگان کی مسلسل کاوشوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ برآمدات کی پائیدار ترقی کے لیے سخت ضابطہ جاتی پابندیوں، بشمول سراغ رسانی (ٹریس ایبلٹی) اور سرٹیفیکیشن کے ساتھ ساتھ لاجسٹکس کی مضبوطی اور قدر کے سلسلے (ویلیو چین) کی ترقی نہایت ضروری ہے۔
ڈاکٹر ابھلکش لکھی، مرکزی سکریٹری، محکمۂ ماہی پروری نے بتایا کہ منڈیوں کے تنوع کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے، جو ایم پی ای ڈی اے، ای آئی سی اور محکمۂ تجارت کے اشتراک سے تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 ممالک کے سفیروں کے ساتھ سفارتی روابط کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ منڈیوں کے تنوع کے ساتھ ساتھ مخصوص مصنوعات پر بھی توجہ دی جائے، خصوصاً تیار شدہ، فوری پکانے والی اور قدر میں اضافہ شدہ سمندری غذاؤں کے شعبوں میں۔ محکمہ برآمد کنندگان اور بیرونِ ملک بھارتی مشنز کے درمیان براہِ راست روابط کو فروغ دے گا تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ ایم پی ای ڈی اے کو ہدایت دی گئی کہ وہ برآمد کنندگان کی معاونت کے لیے صلاحیت سازی کے اقدامات کو مزید مضبوط کرے تاکہ ضابطہ جاتی پابندیوں کی پاسداری، مسابقت اور برآمدی تیاری میں بہتری لائی جا سکے۔
اجلاس میں شریک فریقین نے حکومتِ ہند کی جانب سے فعال تعاون کو سراہا اور سمندری برآمدات میں اضافے کے لیے اہم مسائل اور مواقع کی نشاندہی کی۔ ان میں کیچ سرٹیفیکیٹس کے اجرا کے طریقۂ کار کو آسان بنانے، انڈمان و نکوبار جزائر میں سمندری گھاس کاپافائکس کی کاشت کے لیے اجازت ناموں کی سہولت فراہم کرنے اور مچھلی کے چارے (فش میل) بنانے والوں کو سائنسی بنیادوں پر اعلیٰ معیار کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہدفی مدد فراہم کرنے کی ضرورت شامل ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مغربی ساحل پر اندرونی آبی ماہی پروری اور سمندری کاشت (میریکلچر) کی برآمدی صلاحیت کو مزید تلاش اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ شرکاء نے ان بڑے چیلنجز کی طرف بھی توجہ دلائی جو سمندری برآمدات کو متاثر کر رہے ہیں، جن میں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کی وجہ سے محدود منڈی تک رسائی، ضابطہ جاتی اخراجات کی زیادتی، قدر میں اضافہ شدہ پروسیسنگ کی صلاحیت میں کمی، کولڈ چین اور لاجسٹکس کے مسائل، اور سراغ رسانی و معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت شامل ہیں۔
اس اجلاس میں میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے)، نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی)، ایکسپورٹ انسپکشن کونسل، نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (این اے بی اے آر ڈی)، نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی)، نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ (این سی ای ایل)، وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز (ایم او ایف پی آئی) اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے افسران نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ برآمدی انجمنوں جیسے سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا، انڈین میرین اِنگریڈینٹس ایسوسی ایشن اور سی ویڈ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ صنعتی اداروں مثلاً سی6 انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، ساشیمی فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ، ایکواگری پروسیسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، اینیمکو پرائیویٹ لمیٹڈ اور اوشینک ہورائزن، نیز کوآپریٹو سوسائٹیز اور برآمد کنندگان نے بھی شرکت کی۔
اس پروگرام میں حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ساتھ اڈیشہ، گجرات، دادر و نگر حویلی و دمن و دیو، گوا، انڈمان و نکوبار جزائر اور لکشدیپ کے محکمۂ ماہی پروری کے سینئر عہدیداران نے بھی حصہ لیا۔
پس منظر
بھارت کی سمندری غذائی اشیاء کی برآمدات میں گزشتہ 11 برسوں کے دوران مسلسل مضبوط اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اوسطاً سالانہ 7 فیصد کی شرح سے بڑھی ہیں۔ اس عرصے میں میرین مصنوعات کی برآمدات دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جو 2013-14 میں 30,213 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 62,408 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جس میں جھینگا کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے، جن کی مالیت 43,334 کروڑ روپے رہی۔
بھارت کی سمندری برآمدات ایک وسیع اور متنوع دائرہ کار رکھتی ہیں، جہاں 350 سے زائد اقسام کی مصنوعات تقریباً 130 عالمی منڈیوں کو برآمد کی جاتی ہیں۔ امریکہ بدستور سب سے بڑی منڈی ہے، جو 2024-25 میں کل برآمدی مالیت کا 36.42 فیصد حصہ رکھتا ہے، اس کے بعد چین، یورپی یونین، جنوب مشرقی ایشیا، جاپان اور مشرقِ وسطیٰ کا نمبر آتا ہے، جبکہ دیگر منڈیاں مجموعی طور پر تقریباً 9 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔
چند مخصوص اشیاء پر انحصار کم کرنے اور عالمی منڈیوں میں بھارت کی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت برآمدی مصنوعات کے تنوع کو فروغ دے رہی ہے۔ پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت محکمۂ ماہی پروری قدر کے پورے سلسلے میں مختلف اقدامات کی حمایت کر رہا ہے، جن میں معیاری مچھلی کے بیج کی پیداوار، کھارے پانی کی آبی زراعت کی توسیع و تنوع، برآمدی اقسام کا فروغ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، بیماریوں کا انتظام، سراغ رسانی کے نظام اور صلاحیت سازی شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ فصل کے بعد کے بنیادی ڈھانچے، مؤثر کولڈ چین نیٹ ورکس، جدید ماہی گیری بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کو مضبوط بنانے کے لیے بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-5718
(ریلیز آئی ڈی: 2251086)
وزیٹر کاؤنٹر : 33