تعاون کی وزارت
وارانسی نیشنل ورکشاپ میں کوآپریٹو بینکاری کے تنوع، وائٹ ریوولوشن 2.0 اور ٹیکنالوجی پر مبنی توسیع پر توجہ
ریاستوں کو فنڈز کے بہتر استعمال اور کوآپریٹو اسکیموں کے نفاذ میں تیزی لانے کی ہدایت
’بھارت ٹیکسی‘ سخت مقابلے کے باوجود وسعت اختیار کر رہی ہے، سافٹ لانچ جاری، آئندہ برسوں میں قومی سطح پر توسیع کا منصوبہ
این سی ڈی سی کی جانب سے ایف پی اوز، ماہی پروری اور ابھرتے کوآپریٹو شعبوں کے لیے مالی معاونت میں توسیع کا خاکہ پیش
کوآپریٹوز کے درمیان تعاون سے مربوط ویلیو چینز اور دیہی معیشت کو فروغ دینے پر زور
ٹیکنالوجی کے استعمال، صلاحیت سازی اور باہمی تعاون کو کلیدی محرکات قرار دیا گیا
کوآپریٹو بینکوں کو ٹیکنالوجی اپنانے اور کاروباری تنوع بڑھانے کی ہدایت تاکہ کریڈٹ فراہمی مضبوط ہو
ریاستوں کی بہترین مثالوں میں ضلعی سطح کی جدت اور قابلِ توسیع کوآپریٹو ماڈلز نمایاں
’سہکار سمواد‘ کے ذریعے کوآپریٹوز اور اداروں کے درمیان زمینی تجربات کا تبادلہ ممکن ہوا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 APR 2026 6:41PM by PIB Delhi
امداد باہمی کی وزارت کے زیر اہتمام 9 اور 10 اپریل 2026 کو اتر پردیش کے شہر وارانسی میں منعقدہ ساتویں نیشنل ریویو کانفرنس میں کوآپریٹو شعبے میں اصلاحات کو گہرا کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں—خصوصاً بینکاری، ڈیری، مالیاتی نظام اور ابھرتے ہوئے کوآپریٹو ماڈلز—میں مؤثر نفاذ کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پالیسی اقدامات کو زمینی سطح پر قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے اور عملی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔
کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امداد باہمی کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر آشیش کمار بھوٹانی نے کہا کہ اصلاحات کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا انحصار فیلڈ سطح پر مؤثر عمل درآمد، شراکت داروں کے درمیان بہتر تال میل اور وسائل کے بروقت استعمال پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعض شعبوں میں سست رفتاری کو دیکھتے ہوئے نفاذ کو مزید تیز کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن اور توسیع کے حوالے سے جاری مراحل کو بروقت مکمل کرنے اور مستقبل کی توسیع کے لیے رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی مضبوط نگرانی، جوابدہی اور کارکردگی پر مبنی جائزے کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مسلسل تربیت اور صلاحیت سازی کو بھی ضروری قرار دیا تاکہ نظام طویل عرصے تک مؤثر رہ سکے۔
کوآپریٹو شعبے میں اناج ذخیرہ کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے وقت بندی کے ساتھ نفاذ، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور زمین کی دستیابی جیسے مسائل کے حل کے لیے اختراعی اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیری اور ماہی پروری سمیت مختلف شعبوں میں کوآپریٹو دائرہ کار بڑھانے، خامیوں کی نشاندہی اور ہدفی اقدامات کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
انہوں نے کہا کہ پی اے سی ایس کو کثیر خدماتی مراکز میں تبدیل کیا جائے تاکہ وہ اضافی آمدنی کے ذرائع اختیار کر کے گاؤں کی سطح پر مزید خدمات فراہم کر سکیں۔
کوآپریٹو بینکاری کے حوالے سے انہوں نے سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے، محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اپنانے اور کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مختلف شعبوں کو بروقت مالی معاونت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز کے حوالے سے انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ مارکیٹنگ، برانڈنگ اور معیاری خدمات سے متعلق دستیاب پلیٹ فارمز سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ڈیری شعبے میں انہوں نے کسانوں کی شمولیت بڑھانے اور اقداری چین کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ فوائد نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔
ڈیجیٹل کوآپریٹو اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے ’بھارت ٹیکسی‘ پلیٹ فارم کا حوالہ دیا اور کہا کہ نجی اداروں کے مقابلے کے باوجود یہ پلیٹ فارم تیزی سے پھیل رہا ہے۔ لکھنؤ، ممبئی اور ناسک جیسے شہروں میں اس کا ابتدائی آغاز ہو چکا ہے اور آئندہ برسوں میں قومی سطح پر توسیع کا منصوبہ ہے۔
کانفرنس میں آئندہ اصلاحات کے لیے اہم ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں فنڈز کے مؤثر استعمال، کوآپریٹو بینکاری نظام کی مضبوطی، این سی ڈی سی کے ذریعے مالی معاونت میں اضافہ، اداروں کے درمیان تعاون اور ڈیری و متعلقہ شعبوں کے منصوبوں کے نفاذ کو تیز کرنا شامل ہے۔
کانفرنس میں ضلع مرکزی کوآپریٹو بینک ، ریاستی کوآپریٹو بینک اور شہری کوآپریٹو بینک کی جدید کاری اور کاروباری تنوع پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال، کریڈٹ فراہمی میں بہتری اور سائبر سکیورٹی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
این سی ڈی سی کے خصوصی اجلاس میں کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز ، ماہی پروری، شوگر، فوڈ پروسیسنگ اور گہرے سمندری شعبوں میں مالی معاونت کے مواقع پر روشنی ڈالی گئی۔
’’کوآپریٹوز کے درمیان تعاون‘‘کے موضوع پر گفتگو میں پی اے سی ایس، ڈیری کوآپریٹوز، فیڈریشنز اور بینکوں کے درمیان بہتر رابطے کے ذریعے مؤثر ویلیو چین بنانے پر زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں ’وائٹ ریوولوشن 2.0‘ کے تحت دودھ کی پیداوار اور ڈیری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ریاستی سطح کے بہترین ماڈلز، خصوصاً اتر پردیش کے ’سہکار سے سمردھی‘ فریم ورک کو پیش کرتے ہوئے ضلعی سطح کی کامیاب مثالیں اور قابلِ توسیع ماڈلز اجاگر کیے گئے۔ ’سہکار سمواد‘ سیشن کے ذریعے مختلف اداروں کے درمیان تجربات اور چیلنجوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
میڈیا اور کمیونیکیشن حکمت عملی سے متعلق سیشن میں کوآپریٹو شعبے کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے، عوامی رابطہ بڑھانے اور ’’پرفارم اینڈ انفارم‘‘ اپروچ اپنانے پر زور دیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر مرکز، ریاستوں اور کوآپریٹو اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اصلاحات کو تیز کیا جائے گا، نفاذ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا اور کوآپریٹو اقدامات کے ثمرات کو دیہی معیشت اور عوام تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 5698)
(ریلیز آئی ڈی: 2250985)
وزیٹر کاؤنٹر : 13