وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع کی صدارت میں آئی جی او ایم نے مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال کے  تناظر میں بھارت کی تیاریوں کا جائزہ لیا

تیاری، ہم آہنگی اور پائیداریت کو بڑھانے پر ہی توجہ مرکوز رہنی چاہیے: جناب راج ناتھ سنگھ

حکومت، ایل پی جی، پٹرول، ڈیزل اور کھاد کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنا رہی ہے اور ضروری اشیاء کی فراہمی کو آسان بنا رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 APR 2026 9:25PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں وزراء کے غیر رسمی گروپ (آئی جی او ایم) نے 08 اپریل 2026 کو کرتویہ بھون-2 ، نئی دہلی میں منعقدہ اپنی تیسری میٹنگ کے دوران مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ہندوستان کی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔  اس میٹنگ میں خزانہ اور کارپوریٹ امور  کی مرکزی وزیرمحترمہ نرملا سیتا رمن، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر ، زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کی وزارت کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان ، تجارت و صنعت کے مرکزی جناب پیوش گوئل،  کیمیکلز اور کھاد کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا ، پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری، امور صارفین، خوراک اور سرکاری نظامِ تقسیم کے وزیر جناب پرہلاد جوشی، ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر جناب اشونی وشنو، پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو ، شہری ہوا بازی  کے مرکزی وزیر جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو  اور  سائنس و ٹیکنالوجی وزارت کے وزیر مملکت  (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ شامل تھے۔

اپنے خطاب میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری، ہم آہنگی اور پائیداریت  کو بڑھانے پر مسلسل توجہ مرکوز رکھیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے کہا کہ حکومت ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنا رہی ہے، کسانوں کے لیے کھاد فراہم کر رہی ہے اور ملک میں ضروری اشیاء کی فراہمی کو آسان بنا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت شہریوں کو تنازع کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔

https://x.com/rajnathsingh/status/2041851021878780245?s=46

آئی جی او ایم کو بتایا گیا کہ بھارت نے گزشتہ 40 دنوں میں آبنائے ہرمز سے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ جہازوں کو محفوظ طریقے سے نکالا ہے۔ کل 8 ایل پی جی جہاز کامیابی سے اس آبنائے ہرمزسے گزرے، جن میں تقریباً 340 ٹی ایم ایل پی جی تھی، جو بھارت کی تقریباً 11 دن کی درآمدی ضروریات کے برابر ہے۔  اس سے ملک کی توانائی سلامتی اور سپلائی کے استحکام کو مضبوطی ملی ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مراکز پر کسی کمی کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور پورے ملک میں گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی ترسیل مسلسل جاری ہے۔

نقل مکانی کرنے والے مزدوروں  سمیت کمزرور طبقات کی مدد کے لیے، 7 اپریل کو ترجیحی شعبے کے لیے مقرر 20 فیصد حصے کے علاوہ، 5 کلوگرام کے مفت ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں (پی ایس یو) کے ریٹیل پمپ آؤٹ لیٹس عوامی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آٹو ایل پی جی کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، نجی آپریٹرز کو اپنی خریداری سے متعلق مشکلات کے باعث سپلائی میں کچھ مسائل کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری آؤٹ لیٹس پر بھیڑ بڑھ گئی ہے۔

مورخہ8 اپریل کو ایک اہم فیصلہ لیا گیا، جس کے تحت صنعتی شعبے کو ایل پی جی کی فراہمی کو مزید آسان بنانے کے لیے ایندھن کی کل مانگ کا 70 فیصد حصہ غیر گھریلو تھوک صارفین کے لیے مختص کیا گیا۔ اس میں فارما، خوراک، پولیمر، زراعت، پیکیجنگ، پینٹ، اسٹیل اور دفاعی سازوسامان جیسے اہم شعبوں کو ترجیح دی گئی۔ اس اقدام سے توقع ہے کہ سپلائی چین میں رکاوٹیں نہیں آئیں گی، ضروری اشیاء کی قلت نہیں ہوگی اور موجودہ عالمی بحران کے باوجود صنعتی سرگرمیاں بغیر رکاوٹ جاری رہیں گی۔

جہاں بھی ممکن ہے، پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کو بھرپور طریقے سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ ایل پی جی پر انحصار کم کرنے کے لیے شروع کیے گئے پی این جی کنکشن مہم کے نتیجے میں بیداری میں اضافہ ہوا ہے، جس سے 3.16 لاکھ نئے پی این جی کنکشن شامل کیے گئے، جو مارچ 2025 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔ اس مہم کے نتیجے میں16,700 سے زائد ایل پی جی کنکشن بھی واپس کیے گئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ لوگ تیزی سے پی این جی اپنا رہے ہیں۔

آئی جی او ایم کو جنگ بندی کے تناظر میں توانائی کی قیمتوں میں نرمی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ وزراء کو بتایا گیا کہ اہم شعبہ جاتی اشاریوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی اور ضرورت کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

آئی جی او ایم کو خوراک اور سرکار نظامِ تقسیم کے محکمہ کی جانب سے کیے گئے مؤثر اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

خوراک کے تحفظ کی تیاری

چاول اور گندم کے وافر بفر اسٹاک دستیاب ہیں، جس سے پی ڈی ایس اور کسی بھی ہنگامی ضرورت کے لیے مناسب فراہمی یقینی بنتی ہے۔ قومی غذائی تحفظ سے متعلق قانون ،کمزور طبقات کے لیے غذائی اجناس کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنارہا ہے۔

بازار سے متعلق پہل : اوپن مارکیٹ سیل اسکیم (گھریلو) – او ایم ایس ایس (ڈی)

حکومت غذائی اجناس کی قیمتوں پر نظر رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر او ایم ایس ایس (ڈی) کے ذریعے بازار میں مداخلت کرتی ہے۔

فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کھلے بازار میں اضافی گندم اور چاول کی سپلائی کرکے فراہمی میں اضافہ، قیمتوں کو مستحکم اور مہنگائی کو قابو میں رکھتا ہے۔ ایسے اقدامات کے لیے ایف سی آئی کے پاس وافر ذخیرہ دستیاب ہے۔ یہ اسکیم ریاستی حکومتوں کو اضافی ضرورت کے لیے رعایتی قیمتوں پر چاول فراہم کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔

خریداری: ربیع مارکیٹنگ سیزن (آر ایم ایس 27-2026)

ایم ایس پی کے تحت گندم کی خریداری شروع ہو چکی ہے، جو بنیادی طور پر ریاستی حکومت کی ایجنسیوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ محکمہ ریاستوں کے ساتھ تال میل قائم رکھتے ہوئے تیاریوں کا باقاعدہ جائزہ لے رہا ہے۔ خریداری کے لیے مناسب پیکیجنگ اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

غذائی اجناس کی پیکیجنگ

آر ایم ایس27-2026 کے دوران پیکیجنگ اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کیے گئے ہیں۔ محکمہ، وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس اور محکمہ کیمیکلز و پیٹروکیمیکلز کے ساتھ مشاورت میں پیکیجنگ کے ذرائع میں تنوع لا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ کمی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خوردنی تیل کی صورتحال

عالمی غیریقینی صورتحال کے باوجود، خوردنی تیلوں کی گھریلو دستیابی تسلی بخش بنی ہوئی ہے۔ اہم شراکت دار ممالک (انڈونیشیا، ملائیشیا، ارجنٹائن اور برازیل) سے درآمدات مسلسل جاری ہیں۔ سرسوں کی پیداوار میں بہتری سے گھریلو سپلائی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ مجموعی سپلائی مستحکم ہے؛ حکومت اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کرے گی۔

چینی کا شعبہ:

چینی کا مناسب بفر اسٹاک دستیاب ہے۔ سال 26-2025 میں چینی کی پیداوار مناسب رہنے کی توقع ہے۔ 15.80 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی ہے، جن میں سے اب تک 3.73 ایل ایم ٹی چینی برآمد کی جا چکی ہے۔ برآمدات بنیادی طور پر سری لنکا، مغربی ایشیا اور مشرقی افریقہ کو کی جا رہی ہیں۔ خوردہ قیمتیں مستحکم ہیں اور گزشتہ تین برسوں میں مہنگائی کی شرح کم (تقریباً 3 فیصد) رہی ہے۔

وزراء کو بتایا گیا کہ محکمہ امورِ صارفین ملک بھر کے 578 مراکز سے حاصل ہونے والی 40 غذائی اشیاء کی روزانہ قیمتوں پر نظر رکھ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد قیمتوں میں کسی بھی غیر معمولی اتار چڑھاؤ پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔ اب تک قیمتوں میں کوئی غیر معمولی اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا اور بیشتر اشیاء کی قیمتیں مستحکم ہیں؛ صرف خوردنی تیلوں کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

سرسوں کے تیل کی گھریلو پیداوار میں تقریباً 5 فیصد اضافے کی توقع ہے، جس سے درآمدات پر انحصار کسی حد تک کم ہوگا۔ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے بفر اسٹاک کے لیے پیاز کی خریداری جلد شروع کی جائے گی، جس سے منڈی کی قیمتوں کو مستحکم بنانے میں مددملے گا۔  این اے ایف ای ڈی اور این سی سی ایف نے خریداری کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مالی سال 26-2025 کے دوران پیاز کی برآمد 15.40 ایل ایم ٹی رہی، جو گزشتہ سال سے زیادہ ہے اور اس سال مزید بہتری کی توقع ہے۔

 

*******

 

 

  

 

(ش ح  ۔ع ح ۔ ش ت)

U.No. 5599


(ریلیز آئی ڈی: 2250357) وزیٹر کاؤنٹر : 13