زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
سکریٹری ( ڈی اے آر ای) اور ڈی جی , آئی سی اے آر نے آئی سی اے آر-آئی آئی ڈبلیو بی آر کرنال میں جاری تحقیقی و ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا
ملک مکمل طور پر تیار اور رواں برس زیادہ پیداوار کی توقع ہے، جس سے نہ صرف اندرون ملک غذائی تحفظ یقینی ہوگا بلکہ موجودہ عالمی صورتحال میں دیگر ممالک کی مدد کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہے گی:ڈاکٹر ایم ایل جاٹ
آئی سی اے آر خوراک اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے تحفظاتی زراعت اور ماحولیاتی طور پر مضبوط گندم کی تحقیق کو فروغ دے رہا ہے
کرنال میں آئی سی اے آر کی سائنس پر مبنی اختراعات سے پانی کی بچت، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت میں مدد ملی
ہندوستان نے آئی سی اے آر کے آب و ہوا کے موافق گندم ، بی این آئی اور بائیو فورٹیفکیشن اقدامات کے ذریعے آتم نربھر زراعت کو مضبوط کیا
آئی سی اے آر کی تحقیق سے پیداواری صلاحیت، زمین کی زرخیزی اور پائیداری میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو 'وکست بھارت @2047' کے ہدف میں معاون ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 APR 2026 4:53PM by PIB Delhi
’آتم نربھر بھارت‘کی سمت میں ایک اہم قدم اور’وکست بھارت @2047‘کے وژن کے تحت انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ(آئی سی اے آر) تحفظاتی زراعت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمتی صلاحیت والی گندم اور جو کے نظام میں انقلابی تحقیق کی قیادت کر رہا ہے، تاکہ قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے، خود انحصاری کو فروغ دیا جائے، ماحولیاتی لچک بڑھائی جا سکے اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری ڈاکٹر ایم ایل جاٹ اورآئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل نے آج 'آئی سی اے آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف وہيٹ اینڈ بارلے ریسرچ(آئی آئی ڈبلیو بی آر) اور ’آئی سی اے آر-سینٹرل سوائل سیلینٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی ایس ایس آر آئی)، کرنال کا دورہ کیا تاکہ وہاں جاری تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی ایک میڈیا ٹیم بھی اس دورے میں ان کے ہمراہ تھی۔
دورے کے دوران ڈاکٹرجاٹ نے ان اہم تحقیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، جس کا مقصد پیداواری صلاحیت کو بڑھانا، کاشتکاری کے اخراجات کو کم کرنا اور ہند-گنگا کے میدانی علاقوں (Indo-Gangetic Plains) میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی اور وسائل کے موثر استعمال پر مبنی زرعی طریقوں کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ڈاکٹر جاٹ نے گندم کی پیداوار میں ہندوستان کی تیاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک مکمل طور پر تیار ہے اور اس سال زیادہ پیداوار کی توقع ہے، جس سے نہ صرف ملکی غذائی تحفظ یقینی ہوگا بلکہ موجودہ عالمی حالات میں دیگر ممالک کی مدد کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ آئی سی اے آر کی توجہ ایسی فصلوں کی اقسام تیار کرنے پر مرکوز ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ غذائیت سے بھرپور ہوں، تاکہ کسانوں کی آمدنی اور عوامی صحت میں بہتری لاتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ’حیاتیاتی نائٹروجن کی روک تھام‘(بی این ٓئی) جیسی ایجادات کے ذریعے پیداواری صلاحیت کو متاثر کیے بغیر کھاد کے استعمال میں 25 فیصد تک کمی لائی جا رہی ہے، جس سے کسانوں اور ماحول دونوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
سبز انقلاب کے بعد غذائی عدم تحفظ سے نکل کر اضافی پیداوار کے مرحلے میں داخل ہونے والا ہندوستان کا زرعی شعبہ اب زمینی پانی کی کمی، فصلوں کی باقیات (پرالی) جلانے، زمین کی زرخیزی میں کمی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور موسمیاتی خطرات جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ازسرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔ ان میں سے کچھ منصوبےسی آئی ایم ایم وائی ٹی، بی آئی ایس اے، جے آئی آر سی اے ایس کے تعاون سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ان ترجیحات کو پورا کرنے کے لیے آئی سی اے آر نے’انٹرنیشنل میز اینڈ وہیٹ امپروومنٹ سینٹر(سی آئی ایم ایم وائی ٹی) کے تعاون سے 2009 سے سی ایس ایس آر آئی، کرنال میں ایک طویل مدتی اور نظام پر مبنی تحقیقی پلیٹ فارم کی قیادت کی ہے۔ اس کی توجہ مقامی ضروریات کے مطابق ڈھلتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے اور وسائل کے موثر استعمال پر مبنی فصل کے نظاموں، بالخصوص مکئی اور گندم کی پیداواری نظام پر مرکوز ہے۔
تحفظاتی زراعت کے اس پلیٹ فارم نے نمایاں نتائج فراہم کیے ہیں، جن میں آبپاشی کے پانی میں 85 فیصد تک بچت، کھاد کے استعمال میں 28 فیصد کمی، ایندھن کی کھپت میں 51 فیصد بچت اور فصلوں کی باقیات (پرالی) جلانے کے واقعات میں 95 فیصد تک کمی شامل ہے۔ اس نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 46 فیصد کمی، نظام کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں 33 فیصد تک اضافے اور گھریلو آمدنی کو تقریباً دوگنا کرنے میں بھی مدد دی ہے۔ اس طرح یہ بیرونی مداخلتوں اور غیر مستحکم عالمی منڈیوں پر انحصار کم کرتے ہوئے قومی غذائی اور غذائیت کے تحفظ کو مضبوط بنا رہا ہے۔
اس اقدام نے مضبوط ماحولیاتی فوائد بھی ظاہر کیے ہیں، جہاں 15 سالوں کے دوران مٹی میں خوردبینی اجسام اور نامیاتی کاربن کی سطح دوگنی ہوگئی ہے، جس سے زمین کی صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت میں بہتری آئی ہے۔ یہ پلیٹ فارم بین الاقوامی تعاون کے ایک مرکز کے طور پر ابھرا ہے، جس کی تحقیق نیچر اور'سائنس‘ جیسے 50 سے زائد عالمی معیار کے جریدوں میں شائع ہوئی ہے۔ ان تحقیقی نتائج سے فصلوں کے تنوع، پانی کے تحفظ، باقیات کے انتظام اور مشینی زراعت کے حوالے سے پالیسیاں بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
دورے کے دوران ڈاکٹر جاٹ نے’انڈین وہيٹ رسٹ ریسرچ اینڈ سرویلنس پروگرام‘ (ہندوستانی گندم کی کنگی کی بیماری کی تحقیق اور نگرانی کا پروگرام) کا بھی جائزہ لیا۔ یہ پروگرام مربوط نگرانی، فوری تشخیص اور بروقت مشوروں کے ذریعے گندم کی فصل کو کنگی کے امراض (زرد، بھوری اور کالی کنگی) سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طویل مدتی نگرانی سے روپڑ (پنجاب) اور یمنا نگر (ہریانہ) جیسے علاقوں میں زرد کنگی کے پیدا ہونے کے متوقع نمونوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جس سے قبل از وقت خبردار کرنے کے نظام کو تقویت ملی ہے۔ 30 سے زائد اداروں اور کرشی وگیان کیندروں کا ملک گیر نیٹ ورک تقریباً ایک کروڑ ہیکٹر رقبے پر نگرانی میں مدد فراہم کرتا ہے، جہاں سالانہ گندم کی 1,000 سے زائد جدید اقسام کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت جانچی جاتی ہے۔
حیاتیاتی نائٹروجن کی روک تھام (بی این آئی) پر مبنی گندم کی ترقی میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد نائٹروجن کے ضیا کو کم کر کے اس کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں نسل کشی (بریڈنگ) اور جینومکس پر مبنی تحقیق جاری ہے، جس میں گندم کی 19 امید افزا اقسام کا تجربہ نائٹروجن کی تجویز کردہ مقدار سے 30 فیصد کم پر کیا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر اسے کاشت کے 25 فیصد رقبے پر اپنایا جائے، تو سالانہ تقریباً 2,000 کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر جات نے مزید پری-بریڈنگ(افزائش سے قبل ) پروگراموں کا جائزہ لیا جو جنگل سے تعلق رکھنے والے اقسام جیسے ’ایگیلپس ، بشمول ایگیلپس ٹوسچی(Aegilops tauschii) کو استعمال کرتے ہوئے خشکی، گرمی، نمکیات اور بیماریوں کے خلاف برداشت کی خصوصیات متعارف کروانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ کوششیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے قابل موسمیاتی مضبوط گندم کی اقسام تیار کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
غذائی تحفظ کے حوالے سے، آئی سی اے آر نے لوہے، جست (زنک) اور پروٹین سے بھرپور گندم کی 55 حیاتیاتی افزودہ اقسام جاری کی ہیں۔ اب گندم کی کاشت کے تقریباً 45 فیصد رقبے پر یہی غذائیت سے بھرپور اقسام اگائی جا رہی ہیں، جو کسانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاس ہیں۔
دورے کے دوران ڈاکٹر جاٹ نے تحفظاتی زراعت کے طریقوں جیسے کہ’زیرو ٹلیج‘ (بغیر ہل چلائے کاشت)، فصلوں کی باقیات کو زمین میں برقرار رکھنے اور مشینی بوائی کی ٹیکنالوجیز کا بھی جائزہ لیا۔ ان طریقوں سے نظام کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں 6 سے 10 فیصد تک بہتری دیکھی گئی ہے، جبکہ زمین میں نامیاتی کاربن کی مقدار میں نمایاں اضافے کے ساتھ ساتھ ایندھن اور وقت کی مد میں 70 سے 75 فیصد تک بچت حاصل ہوئی ہے۔
آئی آئی ڈبلیو بی آر میں جو کی تحقیق اور ترقی کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مضبوط اور وسائل کے مؤثر استعمال والی فصل کے طور پر اس کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ کم پانی اور کھاد کی ضرورت کے ساتھ، خوراک، چارہ، اور صنعتی شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے جو پائیدار زراعت کا ایک اہم ستون بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر اس کے زیادہ غذائی ریشہ کے مواد اور صحت پر مرکوز غذائی مصنوعات میں کردار کی بناء پر کافی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔
سائنسی جدت کو زمینی سطح پر نفاذ کے ساتھ یکجا کر کے آسی اے آڑ کسانوں کو بااختیار بناتا رہتا ہے، دیہی معیشتوں کو مضبوط کرتا ہے اور خواتین اور نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے، جس سے ہندوستان کی مضبوط، خود انحصار اور پائیدار زراعت کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔
*********
(ش ح۔ م ع ن ۔ص ج)
UR-5578
(ریلیز آئی ڈی: 2250219)
وزیٹر کاؤنٹر : 31