ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ناگویا ضابطہء کار کے تحت تعمیلی سرٹیفکیٹس جاری کرنے میں ہندوستان عالمی رہنما بن کر ابھرا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 MAR 2026 8:53AM by PIB Delhi

ہندوستان نے ناگویا ضابطہء کار برائے رسائی و فوائد کی تقسیم (اے بی ایس) کے تحت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تعمیلی سرٹیفکیٹس (آئی آر سی سیز) جاری کرنے میں عالمی سطح پر قیادت حاصل کر لی ہے، اور دنیا بھر میں جاری کیے گئے کل سرٹیفکیٹس میں اس کا حصہ 56 فیصد سے زائد ہے۔ اے بی ایس کلیئرنگ ہاؤس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے عالمی مجموعی 6,311 میں سے 3,561 آئی آر سی سیز جاری کیے ہیں، جس سے یہ پروٹوکول کے نفاذ میں دیگر تمام ممالک سے کافی آگے ہے۔

142 ممالک جو اے بی ایس کلیئرنگ ہاؤس پر رجسٹرڈ ہیں—جو شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینے والا ایک عالمی پلیٹ فارم ہے—ان میں سے اب تک صرف 34 ممالک نے آئی آر سی سیز جاری کیے ہیں۔ ہندوستان کے بعد فرانس (964)، اسپین (320)، ارجنٹینا (257)، پاناما (156) اور کینیا (144) کا نمبر آتا ہے۔ یہ امر حیاتیاتی وسائل اور متعلقہ روایتی علم کے منصفانہ اور شفاف استعمال کے لیے ہندوستان کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ناگویا پروٹوکول کے تحت، وہ ممالک جو جینیاتی وسائل اور اس سے متعلق روایتی علم تک رسائی فراہم کرتے ہیں، انہیں آئی آر سی سیز جاری کرنا لازم ہوتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹس اس بات کا باضابطہ ثبوت ہوتے ہیں کہ پیشگی باخبر رضامندی (پریئر انفارمڈ کنسنٹ) حاصل کی گئی ہے اور وسائل کے صارفین اور فراہم کنندگان کے درمیان باہمی طور پر طے شدہ شرائط (میوچوئلی اگریڈ ٹرمز) قائم کی گئی ہیں۔ اس کے بعد ان کی تفصیلات اے بی ایس کلیئرنگ ہاؤس پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

 

آئی آر سی سیز جینیاتی وسائل کے استعمال کی نگرانی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، چاہے وہ تحقیق و اختراع ہو یا بعد میں تجارتی استعمال، اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ فوائد فراہم کرنے والے ملک کے ساتھ منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔

ہندوستان کی نمایاں پوزیشن اس کے اے بی ایس فریم ورک کے مؤثر نفاذ کی عکاسی کرتی ہے، جو حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق مرکزی سطح پر نیشنل بایوڈائیورسٹی اتھارٹی، ریاستی سطح پر اسٹیٹ بایوڈائیورسٹی بورڈز/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی بایوڈائیورسٹی کونسلز اور مقامی سطح پر بایوڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ آسان طریقہ کار اور مضبوط ادارہ جاتی نظام نے درخواستوں کی مؤثر جانچ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کو یقینی بنایا ہے۔

یہ کامیابی عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق میں ہندوستان کے فعال کردار کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ یہ اقدامات حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال سے متعلق بین الاقوامی اہداف سے ہم آہنگ ہیں اور عالمی ماحولیاتی معاہدوں کے نفاذ میں ہندوستان کی حیثیت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

 

************

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  5164  )


(ریلیز آئی ڈی: 2247252) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati