ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم او ای ایف سی سی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف-انڈیا نے ارتھ آور کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر آگاہی مہم کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAR 2026 7:06PM by PIB Delhi

ڈبلیو ڈبلیو ایف انڈیا نے وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے اشتراک سے ہفتہ کے روز گوالیار میں ارتھ آور کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر آگاہی اور عوامی رسائی کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا، جس کے تحت ملک بھر میں ”زمین کے لیے ایک گھنٹہ دیں“ کا پیغام دیا گیا۔

یہ سرگرمیاں ڈبلیو ڈبلیو ایف-انڈیا کے ماحولیاتی معلومات، آگاہی، صلاحیت سازی اور روزگار پروگرام کے تحت ارتھ آور کی ملک گیر تقریبات کے حصے کے طور پر منعقد کی گئیں۔ اس پروگرام میں محترمہ نمیتا پرساد، جوائنٹ سیکریٹری، ایم او ای ایف سی سی اور محترمہ لپیکا رائے، جوائنٹ ڈائریکٹر، کی موجودگی میں انعقاد ہوا، جبکہ ”نیچر کنزرویٹر کم ایکو ٹورزم گائیڈ“ کے عنوان سے گرین اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام (جی ایس ڈی پی) کے تربیت یافتہ افراد نے بھی شرکت کی۔

گوالیار کے دی سندھیا اسکول میں ارتھ آور سے متعلق آگاہی مہم اور نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی اور پائیدار طرز زندگی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دیا گیا۔ اس اقدام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ٹریول مینجمنٹ، گوالیار میں بھی پروگرام منعقد کیا گیا، جہاں ڈاکٹر چندر شیکھر بروا، اسسٹنٹ پروفیسر (سیاحت مطالعہ) اور چیئرمین و پلیسمنٹ آفیسر – ایم بی اے (ٹورزم اینڈ ٹریول مینجمنٹ) موجود تھے۔ اس موقع پر رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک علامتی طور پر روشنیاں بند کی گئیں تاکہ توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی اقدامات کے پیغام کو اجاگر کیا جا سکے۔

 

 

ڈاکٹر جی اریندرن، ڈائریکٹر – ٹیک فار کنزرویشن، ڈبلیو ڈبلیو ایف انڈیا اور ای آئی اے سی پی کوآرڈینیٹر کی موجودگی نے اس اقدام کو مزید مضبوط بنایا، جنہوں نے ماحولیاتی تحفظ میں نوجوانوں کی شمولیت اور صلاحیت سازی کی اہمیت پر زور دیا۔ گرین اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے طلبا نے 15 سے زائد ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں سے فعال طور پر ارتھ آور کے دوران پیغامات عام کیے اور پائیدار طرز زندگی کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔

ملک بھر میں جی ایس ڈی پی طلبا نے متحدہ قومی سطح پر لائٹیں بند کرنے کی مہم میں حصہ لیا، جس کے ذریعے انہوں نے مشن لائف (لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ) اور توانائی بچاؤ کے پیغام کو فروغ دینے کے اپنے عزم کی تجدید کی اور ذمہ دارانہ عادات اپنانے اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے پر زور دیا۔ ملک بھر میں نمایاں یادگاریں، تاریخی مقامات اور سرکاری عمارتیں بھی اس مہم میں شامل ہوئیں، جہاں رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک علامتی طور پر روشنیاں بند کی گئیں۔

ارتھ آور، جو دنیا کی سب سے بڑی عوامی ماحولیاتی تحریک ہے، اس سال اپنی 20ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ 2007 میں آغاز کے بعد سے یہ 190 سے زائد ممالک میں ایک عالمی مہم بن چکی ہے۔ بھارت میں یہ محض علامتی ”لائٹیں بند کرنے“ تک محدود نہیں رہی بلکہ لوگوں کو زمین کے لیے ایک گھنٹہ وقف کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جس میں صفائی مہمات، شجرکاری، حیاتیاتی تنوع کی واک، سائیکلنگ مہمات اور پائیداری سے متعلق ورکشاپ جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں میں پرجوش شرکت دیکھنے میں آئی اور اس نے ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

**********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 5080


(ریلیز آئی ڈی: 2246561) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: Gujarati , English , हिन्दी