وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان میں ماہی پروری اسٹارٹ اپس کا ماحولیاتی نظام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 2:42PM by PIB Delhi

ہندوستان کے اقتصادی منظرنامے میں ماہی پروری کا شعبہ میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے، قومی خوراک کی سلامتی میں حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ساحلی، اندرون ملک اور دیہی معاشرےمیں لاکھوں افراد کے روزگار کو سہارا دیتا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ روایتی طور پر پیداوار پر مبنی شعبہ جدید خیالات اور کاروباری صلاحیت کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگا ہے، جس سے ایک بڑھتا ہوا ماہی پروری  کااسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ابھر رہا ہے۔

سال2015 سے حکومت نے مختلف اقدامات اور اسکیموں کے ذریعے ماہی پروری اورآبی زراعت میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے 39,272 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس تیز رفتار توسیع نے 300 سے زائد ماہی پروری اسٹارٹ اپس کو ترقی پانے کا موقع ملا ہے، جو بلاک چین، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے تخلیقی اور تجارتی طور پر قابل عمل حل تیار کر رہے ہیں جو پیداوار میں اضافہ  کرنے کے ساتھ نگرانی کو یقینی بناتے ہیں اور ویلیو چین کی کارکردگی  میں بہتری لاتے ہیں۔ ماہی پروری کے ویلیو چین کے چیلنجز کو جدید تکنیک کے ذریعے حل کرنے کے لیے چند مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جو پائیدار ذرائع سے غذائیت بخش اور سستی آبی زرعی خوراک تیار کرنے، اے آئی پر مبنی درست کاشت کے ذریعے آبی زراعت کو بڑھانے، مضبوط اور سمندری خوراک کی جامع سپلائی چین قائم کرنے، سمندری خوراک کی صنعت میں ضائع کو کم کرنے اور قدر کو زیادہ سے زیادہ کرنے اور پائیدار ماہی پروری  کے لیے روایتی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ضم کرنے پر مرکوز ہیں۔

 

ٹیکنالوجی کے انضمام سے ہندوستان میں ماہی پروری اسٹارٹ اپس کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جو ویلیو چین میں کارکردگی، پائیداری اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنا رہا ہے۔ اسٹارٹ اپس پانی کے معیار کی نگرانی، تالاب کی صحت کے انتظام اور حقیقی وقت کے ماحولیاتی تجزیات کے لیےآئی او ٹی حل کو مربوط کر رہے ہیں، جس سے ان پٹ کے اخراجات کم ہوتے ہیں اورآبی زراعت میں بہتری ممکن ہوتی ہے۔ اے آئی اور مشین لرننگ کےآلہ بیماری کی پیش گوئی، بایوماس کا تخمینہ، خوراک  میں اصلاح اور فیصلے میں مدد فراہم کرنے والے نظام کے لیے بڑھتی ہوئی سطح پر استعمال ہو رہے ہیں، جو کسانوں کو خطرات کا انتظام کرنے اور پیداوار بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ری سرکیولیٹری ایکوی کلچر سسٹمز (آر اے ایس)، بایوفلاک ٹیکنالوجی اور سینسر پر مبنی فارمنگ مینجمنٹ سسٹمز میں جدت نے کم پانی، اعلیٰ کثافت اور ماحول کنٹرول شدہ فارمنگ ممکن بنائی ہے، جو وسائل کی کمی والے علاقوں میں بھی پیداوار کومدد کرتی ہے۔ پیداوار کے بعد کے مرحلے میں حکومت ہندو اسٹارٹ اپس کو کولڈ چین لاجسٹکس، سولر پاورڈ چِلنگ یونٹس، اسمارٹ آئس پروڈکشن سسٹمز اور اے آئی پر مبنی کوالٹی گریڈنگ میں ترقی کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ ضائع کو کم کرنے کے ساتھ برآمد کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ ابھرتے ہوئے شعبے جیسے سی ویڈ فارمنگ ٹیکنالوجیز، جینیاتی بہتری کےآلہ،ماحولیات پر کم اثر انداز ہونے والا ماہی گیری کے آلات اور سیٹلائٹ پر مبنی جہاز ٹریکنگ اور مشاورتی نظام مزید تخلیقی اثرات کو بڑھا رہے ہیں۔مجموعی طور پر یہ ٹیکنالوجی پر مبنی حل ہندوستان میں ایک زیادہ موثر، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ماہی پروری  کےشعبے کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔

ہندوستان کے ماہی پروری کے شعبے میں نگرانی، فیصلہ سازی اور فارم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ اسٹارٹ اپس اور تحقیقی گروپس ڈرونز کا استعمال تالاب کی تیز نقشہ سازی، پانی کے معیار کا جائزہ، بایوماس کا تخمینہ اور مسائل جیسے الگی بلسوم یا کم آکسیجن والے علاقوں کی ابتدائی شناخت کے لیے کر رہے ہیں۔ ساحلی اور سمندری علاقوں میں ڈرونز ساحلی نگرانی، ماہی گیری کی سرگرمیوں کی  نگرانی اور مچھلی کے ذخائر کی نقل و حرکت کے جائزے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ حکومت ہند کے محکمہ ماہی پروری نے  آئی سی اے آر-سی آئی ایف آر آئی کو مچھلی کی نقل وحمل کی براہ راست  نگرانی  کےلیےڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ تفویض کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت، آئی سی اے آرسنٹرل انلینڈ فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کولکتہ ایک خصوصی ڈرون ڈیزائن کر رہا ہے جو 100 کلوگرام تک زندہ مچھلی کا بوجھ 10 کلومیٹر تک لے جا سکے، جو آبی زراعت میں کم فاصلے کی تیز اور مؤثر نقل و حمل کے لیے نئے مواقع کھول رہا ہے۔

اس شعبے کے چیلنجز کے حل میں اسٹارٹ اپس کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے ماہی پروری اور آبی زراعت میں جدت کو فروغ دینے کے لیے ہدفی اقدامات کیے ہیں۔ کاروباری افراد کو یکجا کرنے اور انہیں شعبے کے مواقع سے زیادہ فعال طور پر مشغول کرنے کے لیے، محکمہ ماہی پروری نے فشریز اسٹارٹ اپ کانکلیو کی ایک سیریز کا انعقاد کیا۔ یہ تقریبات ابھرتے ہوئے حل پیش کرنے، تعاون کو فروغ دینے اور ماہی پروری کی ویلیو چین میں جدت کو مضبوط کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

اسی سلسلے میں فشریز اسٹارٹ اپ گرینڈ چیلنج کا آغاز کیا گیا تاکہ وہ اسٹارٹ اپس شناخت کیے جائیں جو پیداوار، پائیداری اور مارکیٹ تک رسائی سے متعلق حل فراہم کرتے ہیں، جس میں ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ ٹولز سے لے کر سمندری خوراک کی سپلائی چین میں جدت تک تجاویز مدعو کی گئیں۔ منتخب اسٹارٹ اپس کو گرانٹس، رہنمائی اورنشوونما میں رہنمائی فراہم کی گئی، جبکہ محکمہ ماہی پروری کے فیلڈ انسٹی ٹیوٹس پائلٹ نفاذ، صنعت کے رابطے اور سرمایہ کاروں کے مشغولیت میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ پہلے مرحلے کے مثبت ردعمل سے حوصلہ پاتے ہوئے دوسرا اسٹارٹ اپ ’گرینڈ چیلنج‘ شروع کیا گیا تاکہ جدت کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، جس کے تحت منتخب اسٹارٹ اپس کو محکمہ ماہی پروری کے فیلڈ انسٹی ٹیوٹس اور آئی سی اے آر سمیت ماہی پروری  کےتحقیقی اداروں اور نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ(ماہی پروری کے فروغ کا بورڈ) کے ذریعے ابتدائی فنڈنگ اورترقی میں فراہم کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ م’متسیہ منٹھن ‘ایک متوازی علمی لیکچر سیریز ہے جو ماہی پروری کےشعبے میں جدت کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ ماہی پروری  کے ذریعہ سے منعقد کی جاتی ہے۔ یہ خصوصی سیریز ماہرین، محققین اور پریکٹیشنرز کو یکجا کرتی ہے تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، پائیدار عملی طریقے اور شعبے کی ترجیحات پر غور کیا جا سکے۔ یہ پلیٹ فارم منظم علمی اشتراک کو ممکن بناتا ہے، شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی حمایت کرتا ہے اور یقینی بناتا ہے کہ سائنس، صنعت، اور اسٹارٹ اپس سے حاصل شدہ بصیرتیں شعبے کی ترقی کے لیے عملی حکمت عملیوں میں منتقل ہوں۔ محکمہ ماہی پروری نے اس سلسلے میں 11 اجلاس منعقد کیے ہیں۔

 

ماہی پروری کے محکمے نے ماہی پروری کے اسٹارٹ اپس کے ذریعے کاروباری ماڈل تیار کرنے کے لیے سرپرستی اور تربیت فراہم کرنے کے لیے پانچ ماہی گیری بزنس انکیوبیشن(ترقیاتی) مراکز یعنی ایل آئی این اے سی-این سی ڈی سی فشریز بزنس انکیوبیشن سینٹر (ایل ایل ایف آئی سی) گوہاٹی بائیوٹیک پارک ، آسام ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹینشن مینجمنٹ (ایم اے این جی ای) حیدرآباد ، آئی سی اے آر-سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز ایجوکیشن (سی آئی ایف ای) ممبئی اور آئی سی اے آر-سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز ٹیکنالوجی (سی آئی ایف ٹی) کوچی کے قیام میں بھی مدد کی ہے ۔

 

یہ سبھی اقدامات  مل کرایک زیادہ متحرک اور مستقبل کے لیے تیار ماہی پروری کے لیے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی تشکیل کر رہے ہیں، جہاں جدت، ٹیکنالوجی اور پالیسی معاونت مل کر اس شعبے کو جدید بنانے میں  اپنا کردار ادا کرہی ہیں۔ مضبوط ادارہ جاتی حمایت، بڑھتی ہوئی کاروباری شرکت اور مستحکم سرکاری عزم کے ساتھ ہندوستان اپنے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی، پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے اچھی طرح سے تیار ہے۔

***

 

Urdu-5015

(ش ح۔م ع ن۔ش ب ن)

 


(ریلیز آئی ڈی: 2246199) وزیٹر کاؤنٹر : 13