الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور آئی ٹی قواعد کے تحت لازم احتیاطی تقاضوں کی پابندی پر زور دیتے ہوئے متعدد ایڈوائزریز جاری کی ہیں
مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات (ایس جی آئی)، بشمول ڈیپ فیکس اور اے آئی سے تیار کردہ مواد سے پیدا ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنایا گیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 3:55PM by PIB Delhi
حکومتِ ہندوستان کی پالیسیاں ملک کے صارفین کے لیے ایک کھلا، محفوظ، قابلِ اعتماد اور جوابدہ سائبر اسپیس یقینی بنانے کے مقصد سے ترتیب دی گئی ہیں۔ حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خصوصاً سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات اور نقصانات سے بخوبی آگاہ ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 مل کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر قانونی مواد سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
ایڈوائزریز اور معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی)
حکومت نے سوشل میڈیا سمیت مختلف انٹرمیڈیئریز کو متعدد ایڈوائزریز جاری کی ہیں، جن میں آئی ٹی ایکٹ اور آئی ٹی رولز کے تحت لازم احتیاطی تقاضوں کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- 26.12.2023 کی ایڈوائزری میں انٹرمیڈیئریز کو آئی ٹی رولز کے تحت لازم احتیاطی تقاضوں کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
- 15.03.2024 کی ایڈوائزری میں متن، آڈیو اور ویڈیو مواد کی مصنوعی تخلیق یا ترمیم سے متعلق خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے قانونی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا۔
- 11.11.2025 کو غیر رضامندانہ نجی تصاویر (این سی آئی آئی) کے آن لائن پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایس او پی جاری کیا گیا، جس میں متاثرین، پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے واضح رہنما اصول فراہم کیے گئے۔
- 29.12.2025 کی ایڈوائزری میں فحش، غیر اخلاقی اور غیر قانونی مواد کی اشاعت و ترسیل کو روکنے کی ہدایت دی گئی۔
- 09.02.2026 کی ایڈوائزری میں مذہبی یا دیگر حساس معلومات کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا گیا۔
- 16.03.2026 کی ایڈوائزری میں مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات کے ذریعے گمراہ کن، توہین آمیز یا ہتک آمیز مواد کے پھیلاؤ سے متعلق ہدایات دی گئیں۔
مصنوعی مواد (ایس جی آئی) سے متعلق ضابطہ جاتی اصلاحات
10 فروری 2026 کو حکومت نے آئی ٹی رولز میں ترمیم کر کے مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات (ایس جی آئی)، بشمول ڈیپ فیکس اور اے آئی سے تیار کردہ مواد سے پیدا ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
- انٹرمیڈیئریز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو غیر قانونی اے آئی مواد کی تخلیق اور پھیلاؤ روکنے کے لیے مناسب تکنیکی اقدامات اپنانے ہوں گے۔
- قابلِ اجازت اے آئی مواد کے لیے واضح لیبلنگ اور قابلِ سراغ میٹا ڈیٹا فراہم کرنا ضروری ہوگا تاکہ صارفین اسے آسانی سے شناخت کر سکیں۔
- صارفین کی جوابدہی اور پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے، بشمول صارفین کو قانونی نتائج سے آگاہ کرنا۔
- رہنما اصولوں میں بچوں کے استحصال، غیر رضامندانہ نجی تصاویر، جعلسازی اور دیگر نقصان دہ مواد کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔
- انٹرمیڈیئریز کو خودکار ٹولز یا دیگر مناسب طریقوں کے ذریعے غیر قانونی مصنوعی مواد کی تخلیق اور ترسیل روکنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
- عدالت یا مجاز حکومتی ادارے کے حکم کے بعد ایسے مواد کو 3 گھنٹے کے اندر ہٹانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان اقدامات کے ذریعے حکومت نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ذمہ داری، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کی سمت اہم پیش رفت کی ہے۔
یہ معلومات 25.03.2026 کو لوک سبھا میں الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے پیش کیں۔
************
ش ح ۔ ا م ۔ م ص
(U :4939 )
(ریلیز آئی ڈی: 2245418)
وزیٹر کاؤنٹر : 19