وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

آر بی آئی نے غیر مجاز الیکٹرانک بینکاری لین دین سے متعلق فریم ورک کو مزید مضبوط کیا


آر بی آئی کی نظرِ ثانی شدہ ہدایات میں معاوضے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی فراڈ اینالیٹکس کو وسعت دی گئی ہے، اور میول اکاؤنٹس اور سائبر فراڈ کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مزید مستحکم کیا گیا ہے، ساتھ ہی مالیاتی خواندگی کی مہمات بھی شامل کی گئی ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 4:07PM by PIB Delhi

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے 2017 میں غیر مجاز الیکٹرانک بینکاری لین دین میں صارفین کی ذمہ داری کو محدود کرنے سے متعلق موجودہ ہدایات جاری کی تھیں۔ تاہم، بینکاری شعبے اور ادائیگی کے نظام میں ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، آر بی آئی نے اپنی موجودہ ہدایات کا ازسرِ نو جائزہ لیا ہے۔ نظر ثانی شدہ ہدایات، جن میں کم مالیت کے جعلی الیکٹرانک بینکاری لین دین کی صورت میں معاوضے کا نظام بھی شامل ہے، 06 مارچ 2026 کو عوامی/اسٹیک ہولڈروں کے مشورے کے لیے جاری کی گئی ہیں۔ یہ ہدایات درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں: https://www.rbi.org.in/Scripts/BS_PressReleaseDisplay.aspx?prid=62340

انڈین ڈیجیٹل پیمنٹ انٹیلیجنس کارپوریشن (آئی ڈی پی آئی سی) کو کمپنیز ایکٹ، 2013 کے تحت سیکشن 8 کمپنی کے طور پر 16.10.2025 کو قائم کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس کی مدد سے بھارت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں حقیقی وقت میں دھوکہ دہی کا پتہ لگانا، اس کی روک تھام کرنا اور اس کا تجزیہ کرنا ہے۔

حکومت مسلسل ریزرو بینک آف انڈیا اور دیگر متعلقہ ریگولیٹروں/ اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ملک بھر میں سائبر فراڈ میں فنڈ کی منتقلی اور لیئرنگ کے لیے میول اکاؤنٹس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے، آر بی آئی نے ”MuleHunter.AI“ متعارف کرایا ہے، جو مصنوعی ذہانت/ مشین لرننگ پر مبنی ایک حل ہے اور میول اکاؤنٹس کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ حل فی الحال 26 بینکوں میں فعال ہے اور اسے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ آر بی آئی نے بینکوں کو ہدایات بھی جاری کی ہیں جن میں سائبر فراڈ اور مشتبہ منی میول کی روک تھام اور نشاندہی کے لیے مضبوط نظام اور کنٹرول کے ذریعے بینکاری چینلوں کے غلط استعمال کو کم کرنے کے لیے مخصوص اقدامات بیان کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ، بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حقیقی وقت میں لین دین کی نگرانی کے لیے مضبوط سافٹ ویئر کی تعیناتی اور اس کے استعمال کو یقینی بنائیں، مشتبہ اور جعلی لین دین کے پیٹرن کی نشاندہی کے لیے اے آئی/ایم ایل ٹول کا استعمال کریں اور میول نیٹ ورک کی شناخت کے لیے نیٹ ورک اینالیٹکس سے فائدہ اٹھائیں۔

شہریوں، بالخصوص بزرگ شہریوں میں سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں دیگر کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:

 

  1. ریزرو بینک آف انڈیا نے 2017 سے سینٹر فار فنانشل لٹریسی پروجیکٹ شروع کیا ہے، جس کا مقصد مالیاتی خواندگی کے لیے کمیونٹی کی قیادت میں اختراعی اور شراکتی طریقہ کار کو فروغ دینا ہے۔ 31 مارچ 2025 تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 2,421 سی ایف ایل مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں ایک سی ایف ایل تین بلاک کا احاطہ کرتا ہے۔
  2. فنانشل لٹریسی ویک کا انعقاد 2016 سے ہر سال کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر کے شہریوں میں مالیاتی تعلیم کا پیغام عام کیا جا سکے۔
  • iii. آر بی آئی کی ملٹی میڈیا اور کثیر لسانی عوامی آگاہی مہم ”آر بی آئی کہتا ہے“ محفوظ بینکاری طریقوں سے متعلق شعور اجاگر کر کے مالیاتی خواندگی کو فروغ دیتی ہے۔
  • iv. سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا ”سیبی بنام اسکیم“ مہم چلاتا ہے، جس کے تحت ٹی وی، پرنٹ، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے مارکیٹ انفراسٹرکچر اداروں کے اشتراک سے فراڈ سے متعلق مسلسل آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ سیبی نے ”سارتھی“ موبائل ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جو شہریوں کے تحفظ کے لیے تعلیمی وسائل اور سرمایہ کاری سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔

وزارت خزانہ کے وزیر مملکت جناب پنکج چودھری نے آج راجیہ سبھا میں یہ معلومات فراہم کیں۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 4808


(ریلیز آئی ڈی: 2244742) وزیٹر کاؤنٹر : 13