زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پی ایم-کسان: مرکز نے آغاز سے لے کر اب تک 22 قسطوں میں 4.27 لاکھ کروڑ روپے تقسیم کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 6:16PM by PIB Delhi
پی ایم-کسان اسکیم ایک مرکزی شعبہ جاتی منصوبہ ہے جو فروری 2019 میں وزیر اعظم نے چھوٹے اور درمیانے کسانوں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا۔ اس اسکیم کے تحت ہر کسان کو سالانہ 6,000 روپے کی مالی مدد دی جاتی ہے جو تین مساوی قسطوں میں، کسانوں کے آدھار سے منسلک بینک اکاؤنٹس میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر )ڈی بی ٹی )کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔ اب تک حکومت ہند نے اس اسکیم کے آغاز سے 22 قسطوں میں 4.27 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کسانوں کو فراہم کیے ہیں۔
انیس نومبر 2025 کو پی ایم-کسان اسکیم کی 21 ویں قسط کے اجرا کے دوران 9.35 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ پہنچا ۔
پی ایم-کسان اسکیم کے متعدد اثرات کی تشخیص کی گئی ہے جو کسانوں کی آمدنی اور دیہی معیشت پر اس کے اثرات کو اجاگر کرتی ہے ۔ ان کے نتائج حسب ذیل ہیں:
۱۔ایک آزاد مطالعہ جو انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے 2019 میں کیا، اس میں تجزیہ کیا گیا کہ پی ایم-کسان اسکیم کے تحت فراہم کیے گئے فنڈز نے دیہی معیشت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، کسانوں کی کریڈٹ کی کمی کو کم کیا، اور زرعی وسائل میں سرمایہ کاری کو بڑھایا۔ مزید برآں، ان فنڈز نے کسانوں کی خطرہ مول لینے کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جس سے وہ زیادہ پیداوار دینے والی مگر رسکی سرمایہ کاری کرنے کے قابل ہوئے۔
زرعی اور کسان فلاح و بہبود کے محکمہ نے کسان کال سینٹرز (کے سی سی) کے ذریعے ایک جامع فیڈ بیک نظام بھی نافذ کیا ہے، اور اس کے سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ 93 فیصد سے زیادہ کسان اسکیم کے فوائد کو زرعی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
۳۔نیتی آیوگ کے ڈیولپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوئیشن آفس(ڈی ایم ای او) نے پی ایم-کسان اسکیم پر ایک اثراتی جائزہ مطالعہ کیا۔ مطالعے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اسکیم اپنے بنیادی مقصد یعنی زمین رکھنے والے کسانوں کو براہِ راست مالی مدد فراہم کرنا کامیابی کے ساتھ پورا کر رہی ہے، جس سے ان کی اقتصادی استحکام اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فائدہ اٹھانے والے 92 فیصد سے زائد کسانوں نے مالی مدد کو ضروری زرعی وسائل جیسے بیج، کھاد، اور کیڑے مار ادویات پر استعمال کیا، جو بڑھتے ہوئے اخراجات اور موسمیاتی غیر یقینی صورتحال میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ تقریباً 85 فیصد فائدہ اٹھانے والے کسانوں نے زرعی آمدنی میں اضافہ رپورٹ کیا اور فصل ناکامی یا طبی ہنگامی حالات میں غیر رسمی قرض پر انحصار میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔یہ مطالعہ اسکیم کی غربت میں کمی، غذائی تحفظ، صنفی مساوات، اور ادارہ جاتی شفافیت سے متعلق بھارت کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
پی ایم-کسان پورٹل پر کسانوں کے لیے ایک مخصوص فارمرز کارنر فراہم کیا گیا ہے، جہاں مختلف سہولیات دستیاب ہیں جیسے کہ اپنا فائدہ اٹھانے والے کا اسٹیس اور قسط کی ادائیگی کی تفصیلات دیکھنا۔ پورٹل پر ایک اضافی فعالیت (فنکشنلٹی )بھی فراہم کی گئی ہے جسے اپنا اسٹیٹس جانیں کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے کسان اپنی اہلیت اور ادائیگی کی صورتحال چیک کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، کسان اپنے مقامی کامن سروس سینٹر کا دورہ کر کے بھی اپنا فائدہ اٹھانے والے کا اسٹیٹس اور قسط کی ادائیگی کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، اسکیم کے وسیع فائدہ اٹھانے والے بیس کو مدنظر رکھتے ہوئے، فائدہ اٹھانے والوں کے عام سوالات اور شکایات کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے ایک وائس بیسڈ پی ایم-کسان اے آئی چیٹ بوٹ (کسان ای-مترا) تیار کیا گیا۔ یہ چیٹ بوٹ کسانوں کے سوالات کے جوابات تیز، درست اور واضح انداز میں 24 گھنٹے فراہم کرتا ہے اور ان کی مقامی زبانوں میں دستیاب ہے، جس سے نظام زیادہ قابل رسائی اور صارف دوست بن گیا ہے۔ یہ تمام پلیٹ فارمز جیسے ویب، موبائل وغیرہ پر دستیاب ہے۔کسان ای-مترا چیٹ بوٹ فی الحال 11 زبانوں انگریزی، ہندی، اوڈیا، تمل، بنگالی، ملیالم، گجراتی، پنجابی، کنڑ، تیلگو، اور مراٹھی میں کام کرتا ہے۔ اب تک 53 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے 95 لاکھ سے زائد سوالات کے جوابات دیے جا چکے ہیں۔ یہ چیٹ بوٹ کسان کے فائدہ اٹھانے والے کا اسٹیٹس اور قسط کی ادائیگی کی تفصیلات کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتا ہے۔
پی ایم-کسان اسکیم میں رجسٹریشن کے لیے آدھار نمبر لازمی ہے اور اسکیم کے تمام فائدہ اٹھانے والے آدھار کے ذریعے تصدیق شدہ ہیں۔ مزید یہ کہ تمام ادائیگیاں آدھار پر مبنی ادائیگی کے ذریعے براہِ راست ایسے بینک اکاؤنٹس میں کی جاتی ہیں جو فائدہ اٹھانے والوں کے آدھار سے منسلک ہوں۔ محکمہ باقاعدگی سے ریاستوں/مرکزی علاقوں، کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی )اور انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک (آئی پی پی بی )کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے آدھار سیڈنگ ڈرائیوزمنعقد کرتا ہے تاکہ بینک اکاؤنٹس کی آدھار سے منسلک کاری کو آسان بنایا جا سکے۔
یہ معلومات زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی ۔
***
)ش ح۔ش آ)
UN No: 4821
(ریلیز آئی ڈی: 2244735)
وزیٹر کاؤنٹر : 12