وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں جاری جنگ پر راجیہ سبھا سے خطاب کیا
دنیا بھر کے کئی جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں ہندوستانی عملے کے افراد بھی شامل ہیں،یہ بھی ہندوستان کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
ایسی نازک صورتحال میں ضروری ہے کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے پوری دنیا تک امن اور بات چیت کی ایک متحد آواز پہنچے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں، ان کے جان و مال اور روزگار کا تحفظ بھی ہندوستان کے لیے ایک بڑی تشویش ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
مغربی ایشیا میں یہ جنگ شروع ہوئے تین ہفتوں سے زیادہ ہو چکے ہیں، اس جنگ نے پوری دنیا میں توانائی کا سنگین بحران پیدا کر دیا ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
آبنائے ہرمز جیسی بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں تجارتی جہازوں پر حملے اور رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
ہندوستان نے شہریوں، شہری بنیادی ڈھانچےاور توانائی و نقل و حمل سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
جنگ کے آغاز سے اب تک میں نے مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کے سربراہان مملکت سے فون پر دو مرتبہ بات چیت کی ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
ہم تمام خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، ہم ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
ہمارا مقصد بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن بحال کرنا ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
ہم نے ان سے کشیدگی کو کم کرنےاور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں بھی بات چیت کی ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
ہندوستان جنگ کی اس صورتحال میں بھی سفارت کاری کے ذریعے ہندوستانی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے: وزیر اعظم جناب نریندر مودی
جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت انتہائی مشکل ہو گئی ہے، لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود ہماری حکومت بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے آگے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے: وزیر اعظم جناب نریند
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 3:37PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے تناظر میں حکومت کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ جنگ، جو تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، اس نے توانائی کا ایک سنگین عالمی بحران پیدا کر دیا ہے جس کےہندوستان پرگہرے اثرات باعث تشویش ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ جنگ ہندوستان کے تجارتی راستوں میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے اور پٹرول، ڈیزل، گیس اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی معمول کی فراہمی کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں، اس لیے ان کی سلامتی اور روزگار ہندوستان کے لیے نہایت اہم تشو یش کا باعث ہے۔
وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر سوار بڑی تعداد میں ہندوستانی عملے کے افراد کے پھنسے ہونے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسی نازک صورتحال میں ضروری ہے کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ کے اس معزز ایوان بالا سے پوری دنیا کو امن اور بات چیت کی ایک متحد آواز پہنچے۔‘‘
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ محاذ آرائی کے آغاز کے بعد ہندوستان نے بھرپور سفارتی رابطہ کاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ فون پر دو مرتبہ بات چیت کی ہے اور ہندوستان تمام خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، نیز ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بھی رابطہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی ہے اور کشیدگی کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امور پر خاص طور پر بات چیت کی گئی ہے۔ ہندوستان کے مضبوط مؤقف پر زور دیتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ تجارتی جہازوں پر حملے اور آبنائے ہرمز جیسی بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں اور ہندوستان نے شہریوں، شہری بنیادی ڈھانچے، اور توانائی و نقل و حمل سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی واضح طور پر مخالفت کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’اس جنگ میں انسانی جان کو لاحق کوئی بھی خطرہ انسانیت کے مفاد کے خلاف ہےاور اس لیے بھارت کی مسلسل کوشش یہی ہے کہ تمام فریقین کو جلد از جلد پرامن حل کی طرف راغب کیا جائے۔‘‘
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ بحران کے دوران ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کے تحفظ کو حکومت کی اولین اور غیر متزلزل ترجیح حاصل ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 3,75,000 سے زائد ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت ہندوستان واپس لایا جا چکا ہے، جن میں صرف ایران سے 1,000 سے زیادہ افراد شامل ہیں اور ان میں 700 سے زائد نوجوان میڈیکل طلبہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک نے اپنی سرزمین پر موجود ہندوستانی شہریوں کی مکمل حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم حملوں کے باعث ہندوستانی جانوں کے ضیاع اور زخمی ہونے پر وزیراعظم نے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت اس بحران کے دوران مکمل حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ متاثرہ کنبوں کو تمام ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے اور زخمیوں کے لیے بہترین ممکنہ طبی علاج کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے آبنائے ہرمز کی کلیدی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی بڑی تجارتی گزر گاہوں خاص طور پر خام تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل کے لیے اہم ہے ۔ وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ جنگ کے آغاز کے بعد اس آبی گزر گاہ سے جہازوں کی نقل و حمل انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ تاہم نامساعد حالات کے باوجود حکومت نے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جہاں سے بھی ممکن ہو ہندوستان تک تیل اور گیس کی فراہمی جاری رہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ملک ان تمام کوششوں کے نتائج دیکھ رہا ہے؛ گزشتہ چند دنوں میں دنیا کے مختلف ممالک سے خام تیل اور ایل پی جی لے کر آنے والے جہاز ہندوستان پہنچے ہیں اور اس سمت میں ہماری کوششیں آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہیں گی۔‘‘
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے طویل مدتی خطرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت کی کوشش ہے کہ تیل، گیس یا کھاد سمیت ہر ضروری اشیاء لے جانے والے جہاز بحفاظت ہندوستان پہنچیں، لیکن اس جنگ کے باعث پیدا ہونے والی عالمی رکاوٹوں کا اگر طویل عرصے تک سلسلہ برقرار رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہندوستان گزشتہ کئی برسوں سے جو پائیداری پیدا کرنے کے اقدامات کر رہا ہے، ان میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
ہندوستان کی گزشتہ ایک دہائی کی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہر بحران کسی ملک کے عزم اور اس کی کوششوں کا امتحان لیتا ہے، اور پچھلے گیارہ برسوں میں ایسے مستقل اور دور اندیش فیصلے کیے گئے ہیں جن سے ملک ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے۔ وزیراعظم نے توانائی کی درآمدات میں تنوع کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جہاں پہلے خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کے لیے 27 ممالک سے درآمدات ہوتی تھیں، اب یہ تعداد بڑھ کر 41 ممالک تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ہندوستان نے بحران کے ایسے حالات کے لیے خام تیل کے ذخائر کی تعمیر کو ترجیح دی ہے اور آئل کمپنیوں کے پاس پٹرول اور ڈیزل کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں 53 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 65 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ذخائر کی تعمیرپر کام جاری ہے، اور ساتھ ہی ملک کی ریفائننگ صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ہندوستان کے پاس خام تیل کے مناسب ذخائر اور مسلسل و بلا تعطل فراہمی کے مضبوط انتظامات موجود ہیں۔
حکومت کی اس حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہ کسی ایک ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار کم کیا جائے، وزیراعظم نے گھریلو گیس کی فراہمی کے لیے ایل پی جی کے ساتھ ساتھ پائپڈ نیچرل گیس(پی این جی )پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں پی این جی کنکشنز کے حوالے سے غیر معمولی کام ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں اس کوشش کو مزید تیز کیا گیا ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ساتھ ہی ایل پی جی کی ملکی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہندوستان کے خود انحصاری کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ حکومت کی گزشتہ کئی برسوں کی مسلسل کوشش یہ رہی ہے کہ ہر شعبے میں دیگر ممالک پر انحصار کو کم سے کم کیا جائے۔ جناب مودی نے نشاندہی کی کہ اس وقت ہندوستان کا 90 فیصد سے زیادہ تیل غیر ملکی پرچم بردار جہازوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جو کسی بھی عالمی بحران کے دوران ملک پر اس کے اثرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے تقریباً 70,000 کروڑ روپے کی لاگت سے ہندوستان میں تیار شدہ جہازوں کی تعمیر کا ایک مشن شروع کیا ہے، جبکہ جہاز سازی، جہاز شکنی اور مرمت و اوورہالنگ کی صلاحیتوں کو بھی تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ہندوستان کے دفاعی شعبے کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے، جہاں اب ملک اپنی زیادہ تر ضروری اسلحہ سازی اندرون ملک کر رہا ہے، اسی طرح جان بچانے والی ادویات کے لیے ملکی اے پی آئی نظام میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور نایاب معدنیات کی درآمد پر انحصار بھی کم کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ’’ہر اہم شعبے میں زیادہ سے زیادہ خود انحصاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہےاور اس سمت میں اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘‘
موجودہ بحران کے معاشی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعظم جناب مودی نے تسلیم کیا کہ اس جنگ نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے اور مغربی ایشیا میں ہونے والے نقصانات سے بحالی میں کافی وقت لگے گا۔ جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان پر منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیںاور ملک کی مضبوط معاشی بنیادیں اور حکومت کی چوبیس گھنٹے نگرانی اس صورتحال سے نمٹنے میں ایک مضبوط سہارا فراہم کر رہی ہیں۔ جناب مودی نے ایوان کو بتایا کہ درآمدات و برآمدات سے متعلق چیلنجز کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین وزارتی گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو باقاعدگی سے اجلاس کرتا ہے، جبکہ کووڈ19 کے دوران قائم کیے گئے ماڈل کی طرز پر سات نئے ایمپاورڈ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں تاکہ سپلائی چین، پٹرول-ڈیزل، کھاد، گیس اور مہنگائی جیسے امور پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ وزیر اعظم جناب مودی نے اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان مشترکہ اور مربوط کوششوں کے ذریعے ہم ان حالات سے بہتر طور پر نمٹ سکیں گے۔‘‘
زرعی شعبے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے وزیر اعظم جناب مودی نے ملک کو یقین دلایا کہ آنے والے بوائی کے موسم کے لیے کسانوں کو کھاد کی مناسب فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ملک کے کسانوں کو ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں کہ حکومت ہر چیلنج کے حل میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، اور یہ ہمارا غیر متزلزل عزم ہے کہ کسی بھی بحران کا بوجھ ان کے کندھوں پر نہ آئے۔‘‘
ایوان سے بحیثیت کونسل آف اسٹیٹس خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کہا کہ آنے والا وقت ملک کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا اور اس میں کامیابی کے لیے ریاستوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پی ایم غریب کلیان ان یوجنا کے فوائد مستفیدین تک بروقت پہنچیں ، کیونکہ بحرانوں کا سب سے زیادہ اثر غریبوں، مزدوروں اور نقل مکانی کرنے والے افراد پر پڑتا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مائیگرینٹ مزدوروں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے پیشگی اقدامات کریں اور خصوصی نگرانی کے نظام قائم کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں ذخیرہ اندوز ی اور کالا بازاری کرنے والے زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں، اس لیے جہاں کہیں بھی ایسی شکایات موصول ہوں، فوری کارروائی کی جائے۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ’’ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی ہر ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور میں تمام ریاستی حکومتوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس مقصد کے لیے خصوصی انتظامات کریں۔‘‘
امداد باہمی وفاقیت کے جذبے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب مودی نے تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ ہندوستان کی مضبوط ترقی کی رفتار کو کسی بھی بحران کے باوجود برقرار رکھا جائے اور ہر ضروری اقدام اور اصلاحات کو تیزی سے نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کووڈ19 کے دوران دکھائے گئے مثالی ’’ٹیم انڈیا‘‘جذبے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مرکز اور ریاستوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ہونے کے باوجود ٹیسٹنگ، ویکسینیشن اور ضروری اشیاء کی فراہمی میں باہمی تعاون سے کام کیا تھااور یہی جذبہ اب بھی ملک کی رہنمائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ’’تمام ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کی مشترکہ کوششوں سے ملک اس سنگین عالمی بحران کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکے گا، ہمیں اسی ٹیم انڈیا کے جذبے کو آگے بڑھانا ہوگا۔‘‘
اس چیلنج کی نوعیت کو منفرد قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ یہ بحران ایک مختلف نوعیت کا ہے اور اس کے حل بھی اسی مناسبت سے مختلف ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ہمیں ہر چیلنج کا مقابلہ صبر وتحمل اور پرسکون ذہن کے ساتھ کرنا چاہیے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر عزم کے اظہار کے ساتھ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے تسلیم کیا کہ صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے اور انہوں نے ہندوستانی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ کے منفی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم انہوں نے ملک کو پُرعزم یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ’’حکومت مستعد ہے، تیار ہے اور اپنی حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ہر فیصلہ کر رہی ہے۔ اس ملک کے عوام کی فلاح و بہبود ہمارے لیے سب سے مقدم ہے؛ یہی ہماری پہچان ہے اور یہی ہماری طاقت ہے۔‘‘
******
ش ح۔ ا ع خ۔ ش ب ن
U-NO. 4785
(ریلیز آئی ڈی: 2244587)
وزیٹر کاؤنٹر : 15