وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم جناب نریندر مودی کا ٹی وی 9 نیٹ ورک سمٹ سے خطاب


آج ہندوستان ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے؛ ہندوستان اب چیلنجوں کا ڈٹ کر سامنا کرتا ہے: وزیر اعظم

خلیج سے لے کر گلوبل ویسٹ تک اور گلوبل ساؤتھ سے لے کر پڑوسی ممالک تک،  ہندوستان سب کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے: وزیر اعظم

جس کا جائزہ لیا جاتا ہے، اس میں بہتری آتی ہے اور بالآخر وہ تبدیل بھی ہو جاتا ہے: وزیر اعظم

یہ نیا  ہندوستان ہے، جو اپنی ترقی کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہا: وزیراعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 MAR 2026 9:28PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ’انڈیا اینڈ دی ورلڈ‘ کے موضوع پر منعقدہ ٹی وی 9 سمٹ سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے دنیا کی غیر معمولی اور نہایت سنگین صورتحال کے درمیان خیالات کے تبادلے کے لیے ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم فراہم کرنے پر ٹی وی 9 نیٹ ورک کی تعریف کی۔ جناب مودی نے کہاکہ ’’آج دنیا جن سنگین حالات سے گزر رہی ہے، وہ غیر معمولی اور نہایت تشویشناک ہیں اور ان حالات کے درمیان ٹی وی 9 نیٹ ورک نے خیالات کے تبادلے کے لیے ایک نہایت اہم پلیٹ فارم  فراہم کیا ہے۔

تنازعات میں گھری دنیا کے درمیان  ہندوستان کی پوزیشن پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 2014 سے پہلے کے حالات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستان ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے باوجود 140 کروڑ ہندوستانی متحد رہے، جس کی بدولت ہندوستان نے ہر مشکل پر قابو پایا۔ جناب مودی نے کہاکہ’’28 فروری کے بعد ان 23 دنوں میں ہندوستان نے تعلقات بنانے، فیصلہ سازی اور بحران کے انتظام کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘

منقسم عالمی نظام کے درمیان ہندوستان کی سفارتی رسائی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نے خلیج سے لے کر گلوبل ویسٹ تک اور گلوبل ساؤتھ سے لے کر پڑوسی ممالک تک بے مثال روابط قائم کیے ہیں اور خود کو سب کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر قائم کیا ہے۔  ہندوستان کے جھکاؤ کے سوال پرجناب مودی نے واضح اور دوٹوک جواب دیا: ’’ہم ہندوستان کے ساتھ ہیں،ہندوستان کے مفادات کے ساتھ ہیں، امن کے ساتھ ہیں اور مکالمے کے ساتھ ہیں۔‘‘

اس بحران کے وقت ،جب عالمی سپلائی چینز ڈگمگا رہی ہیں، وزیر اعظم نے ہندوستان کی جانب سے پیش کیے گئے تنوع اور لچک کے ماڈل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چاہے توانائی ہو، کھاد ہو یا ضروری اشیاء، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں کہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ جناب مودی نے کہاکہ  ہندوستان نے تنوع اور لچک کا ماڈل پیش کیا ہے اور ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں کہ ہمارے شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

مغربی ایشیا کے تنازعہ کے  ہندوستان پر پڑنے والےاثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آج لوک سبھا میں دیے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ جغرافیائی طور پر ہندوستان کی سرحدوں سے دور ہے، لیکن آج کی باہم مربوط دنیا میں کوئی بھی ملک جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ جناب مودی نے کہاکہ یہ ضبط اور حساسیت کا وقت ہے؛ جب شہری متحد ہو کر کسی بحران کا سامنا کرتے ہیں تو نتائج ہمیشہ بامعنی ہوتے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ دنیا میں جاری ہلچل کے باوجود ہندوستان نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے، 28 فروری کے بعد کے 23 دنوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے دہلی میٹرو ریل کے اہم کوریڈور کے افتتاح، سلچر ہائی اسپیڈ کوریڈور اور کوٹا کے نئے ہوائی اڈے کاسنگ بنیاد اور مدورائی ہوائی اڈے کو بین الاقوامی درجہ دینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے 100 پلگ اینڈ پلے صنعتی پارکس کی منظوری، 1,500 میگاواٹ نئی صلاحیت کے اضافے کے لیے چھوٹے پن بجلی ترقیاتی منصوبے کی منظوری، جل جیون مشن کو 2028 تک توسیع دینے، پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت 18,000 کروڑ روپے سے زائد رقم کی براہ راست منتقلی اور ایم ایس ایم ایز و برآمد کنندگان کے لیے 500 کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج کے اعلان کا بھی حوالہ دیا۔ جناب مودی نے کہاکہ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وکست بھارت  کی تعمیر کے لیے ملک کتنی تیزی سے کام کر رہا ہے۔

مینجمنٹ کے اصولوں کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم نے معروف کہاوت ’جس کا جائزہ لیا جاتا ہے، اسے بہتر طور پر منظم کیا جاتا ہے‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جس کا جائزہ لیا جاتا ہے، اس میں بہتری بھی آتی ہے اور بالآخر وہ تبدیل بھی ہو جاتا ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ شاہراہوں کی تعمیر کی رفتار 11سے12 کلومیٹر یومیہ سے بڑھ کر تقریباً 30 کلومیٹر فی دن ہو گئی ہے؛ بندرگاہوں پر جہازوں کا ٹرن اراؤنڈ وقت 5–6 دن سے کم ہو کر 2 دن سے بھی کم رہ گیا ہے؛ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس کی تعداد 400–500 سے بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے؛ ایم بی بی ایس نشستیں 50 تا55 ہزار سے بڑھ کر 1.25 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہیں؛ بینک کھاتوں کی تعداد 25 کروڑ سے بڑھ کر 80 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے (جن میں 55 کروڑ جن دھن کھاتے شامل ہیں) اور ہوائی اڈوں کی تعداد 70 سے کم تھی جو بڑھ کر 160 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ’آج  ہندوستان فاسٹ ٹریک پر ہے، آج عزم کامیابیوں میں بدل رہے ہیں۔‘

وزیر اعظم نے جاری انقلابی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آسام، جو کبھی گولیوں کی آواز سے متاثر تھا، آج وہاں سیمی کنڈکٹر یونٹ قائم ہو رہا ہے؛ اوڈیشہ میں سیمی کنڈکٹر سے لے کر پیٹروکیمیکلز تک مختلف شعبوں میں ترقی ہو رہی ہے؛ بہار میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 5 سے زیادہ نئے پل تعمیر کیے گئے ہیں اور اتر پردیش موبائل فون مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ہندوستان ماضی کے ترقیاتی عدم توازن کو مستقبل کے مواقع میں تبدیل کر رہا ہے۔

مغربی بنگال کا ذکرتے ہوئے وزیر اعظم نے اسے ثقافت، تعلیم، صنعت اور تجارت کے ایک تاریخی مرکز کے طور پر تسلیم کیا اور ریاست کی ترقی کے لیے گزشتہ 11 برسوں میں مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا ذکر کیا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ قومی مفاد کو جماعت  کےمفاد سے بالاتر رکھا جائے، کیونکہ سیاست سے اوپر ملک اور اس کی ترقی ہوتی ہے۔

آج شہیددیوس کے تاریخی موقع پر—جس دن شہید بھگت سنگھ، شہید راج گرو اور شہید سکھ دیو نے اعلیٰ ترین قربانی پیش کی—اور آج ہی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کا یوم پیدائش بھی ہے۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے ان عظیم ہستیوں سے رہنمائی اور تحریک حاصل کرنے کی بات کہی، جنہوں نے ملک کو ہمیشہ ذاتی مفاد سے بالاتررکھا۔انہوں نے اس بات پر مکمل یقین کا اظہار کیا کہ ٹی وی 9 سمٹ ہندوستان کی خود اعتمادی اور  ہندوستانیوں کے لیے دنیا کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گی۔ جناب مودی نے کہاکہ ملکی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی یہی تحریک ہندوستان کووکست اور آتم نربھر بنائے گی۔

***

ش ح ۔ م ع ن۔ م ش

U. No.4745


(ریلیز آئی ڈی: 2244339) وزیٹر کاؤنٹر : 5