صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دوا(جی ایل پی-1)  کی سپلائی چین پر ریگولیٹری نگرانی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 10:02AM by PIB Delhi

بھارت کے ڈرگز کنٹرولر نے وزن کم کرنے والی دوا (جی ایل پی-1) کی سپلائی چین میں ادویات سازی کے اخلاقی طور طریقوں کو یقینی بنانے کے لیے، اس دوا کی غیر مجاز فروخت اور تشہیر کے خلاف ریگولیٹری نگرانی سخت کر دی ہے۔

بھارتی مارکیٹ میں جی ایل پی-1 پر مبنی وزن کم کرنے والی ادویات کے متعدد جینرک ورژن  کے حالیہ تعارف کے ساتھ، ریٹیل فارمیسیوں، آن لائن پلیٹ فارمز، ہول سیلرز اور ویلنس کلینکس کے ذریعے ان کی بلا روک ٹوک دستیابی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ادویات، جب مناسب طبی نگرانی کے بغیر استعمال کی جاتی ہیں، تو شدید مضر اثرات اور متعلقہ صحت کے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے، بھارت کے ڈرگز کنٹرولر نے ریاستی ریگولیٹرز کے تعاون سے فارماسیوٹیکل سپلائی چین میں ممکنہ بددیانتی کو روکنے اور غیر مجاز فروخت اور استعمال کے سدِباب کے لیے سلسلہ وار طے شدہ اقدامات کا آغاز کیا ہے۔

مؤرخہ10 مارچ 2026 کو تمام مینوفیکچررز کے لیے ایک جامع ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، جس میں سروگیٹ اشتہارات  اور بالواسطہ تشہیر کی ہر اس شکل پر واضح طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو صارفین کو گمراہ کر سکتی ہو یا آف لیبل  استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہو۔

حالیہ ہفتوں میں، نفاذ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس دوران 49 اداروں کے آڈٹ اور معائنے کیے گئے، جن میں آن لائن فارمیسی گودام، دواؤں کے ہول سیلرز، ریٹیلرز، اور فٹنس و سلمنگ کلینکس شامل ہیں۔ یہ معائنے ملک کے متعدد خطوں میں کیے گئے جن کا محور غیر مجاز فروخت، نسخے کے غلط طریقۂ کار اور گمراہ کن مارکیٹنگ سے متعلق خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ مزید برآں، خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو نوٹس بھی بھیجے گئے ہیں۔

ریگولیٹر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مریضوں کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔ طبی نگرانی کے بغیر وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال صحت کی شدید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی ادویات صرف مستند طبی ماہرین کی رہنمائی میں ہی استعمال کریں۔

یہاں اس بات کا اعادہ کرنا ضروری ہے کہ بھارت میں اس دوا کی منظوری ان شرائط کے ساتھ دی گئی ہے کہ اسے صرف اینڈو کرائنولوجسٹ اور انٹرنل میڈیسن کے ماہرین اور بعض مخصوص علامات کے لیے صرف ماہرینِ امراضِ قلب  ہی تجویز کر سکتے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں ریگولیٹری نگرانی میں مزید سختی لائی جائے گی اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں لائسنسوں کی منسوخی، جرمانے اور متعلقہ قوانین کے تحت قانونی چارہ جوئی شامل ہے۔

*****

ش ح۔ ک ح۔ش ا

U NO: 4749


(ریلیز آئی ڈی: 2244291) وزیٹر کاؤنٹر : 33