خلا ء کا محکمہ
پارلیمانی سوال: ہندوستان میں سیٹلائٹ لانچ سہولیات کی ترقی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAR 2026 4:00PM by PIB Delhi
اس وقت آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز میں دو لانچ پیڈ، یعنی فرسٹ لانچ پیڈ (ایف ایل پی) اور سیکنڈ لانچ پیڈ (ایس ایل پی) فعال ہیں۔ ایف ایل پی سے پی ایس ایل وی اور ایس ایس ایل وی کی لانچنگ کی جاتی ہے، جبکہ ایس ایل پی سے پی ایس ایل وی، جی ایس ایل وی اور ایل وی ایم 3 کی لانچنگ انجام دی جاتی ہے۔ حکومت ہند نے سال 2025 میں اسی مرکز میں تیسرے لانچ پیڈ (ٹی ایل پی) کے قیام کو منظوری دی ہے، جو اسرو کے اگلی نسل کے لانچ وہیکلز کے لئے استعمال ہوگا۔ اس کی تکمیل کا ہدف 2029-30 تک مقرر کیا گیا ہے۔
سن سنکرونس پولر مدار (ایس ایس پی او) میں چھوٹے سیٹلائٹس کی لانچنگ کے لئے، جو عموماً زمینی مشاہدے کے لئے استعمال ہوتے ہیں، تمل ناڈو کے کلاسی کرپٹنم میں ایس ایس ایل وی لانچ کمپلیکس (ایس ایل سی) کے طور پر دوسرا لانچ مقام قائم کیا جا رہا ہے، جس کے 2026-27 کے دوران فعال ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران لانچ پیڈ اور متعلقہ سہولیات کے قیام یا توسیع کے لئے منظور، جاری اور استعمال شدہ فنڈز کی تفصیلات ضمیمہ-اوّل میں دی گئی ہیں۔
2026-27 کے دوران ایف ایل پی سے پی ایس ایل وی اور ایس ایس ایل وی کے تین تین مشن، جو زیادہ تر زمینی مشاہدے کے سیٹلائٹس پر مشتمل ہوں گے، لانچ کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ اسی مدت میں ایس ایل پی سے جی ایس ایل وی اور ایل وی ایم 3 کے دو دو مشن، جو زیادہ تر مواصلاتی اور نیویگیشن سیٹلائٹس کے لئے ہوں گے، لانچ کئے جائیں گے۔
ٹی ایل پی سے اگلی نسل کے لانچ وہیکل (این جی ایل وی) کی پہلی ترقیاتی پرواز 2031-32 کے دوران متوقع ہے، جبکہ کلاسی کرپٹنم سے ایس ایس ایل وی کی لانچنگ 2027-28 میں شروع ہونے کی امید ہے۔ فی الحال محکمہ خلاء کے پاس ملک میں کسی اور لانچ سائٹ کے قیام کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
جون 2020 میں حکومت ہند کی جانب سے اعلان کردہ خلائی شعبے کی اصلاحات کے تحت لانچ بنیادی ڈھانچے سمیت مکمل خلائی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی کے تحت غیر سرکاری اداروں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے، اجازت دینے اور نگرانی کے لئے انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (ان-اسپیس) قائم کیا گیا ہے۔ خلائی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی بھی اجازت دی گئی ہے، جیسا کہ 16 اپریل 2024 کے گزٹ نوٹیفکیشن میں درج ہے۔
ان-اسپیس نے بھارتی خلائی پالیسی 2023 کے نفاذ کے لئے رہنما اصول، ضوابط اور طریقہ کار جاری کئے ہیں، جن میں خلائی سرگرمیوں کی منظوری کے لئے شفافیت، جوابدہی، قومی سلامتی اور محفوظ و پائیدار آپریشنز کو یقینی بنانے کے معیارات شامل ہیں۔ خلائی شعبے میں ایف ڈی آئی کے لئے خودکار اور حکومتی راستوں کے تحت رہنما ہدایات اور معیاری عملی طریقہ کار بھی جاری کئے جا چکے ہیں۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی علوم، وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی و خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔
***********
ش ح ۔ م د۔ م ص
(U : 4369 )
(ریلیز آئی ڈی: 2242115)
وزیٹر کاؤنٹر : 8