وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت، آر بی آئی اور این پی سی آئی کی مربوط کوششیں، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں ترقی کو رفتار دے رہی ہیں


یوپی آئی دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ریٹیل پیمنٹ سسٹم بن گیا ہے، جس کا تعاون مالی سال 25-2024 میں ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 81 فیصد ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAR 2026 4:31PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج لوک سبھا میں بتایاکہ گزشتہ چند سالوں میں حکومت، ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی)  اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی)  کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چار مالی سالوں کے دوران کل ریٹیل ڈیجیٹل پیمنٹ ٹرانزیکشنز اور ان کی شرح نمو درج ذیل ہیں:

 

مالی سال

ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگی

فیصد میں نمو

حجم

(کروڑ میں)

قدر

(لاکھ کروڑ میں)

حجم

قدر

مالی سال 22-2021

7176.90

457.44

-

-

مالی سال 23-2022

11369.56

587.39

58.42 فیصد

28.41 فیصد

مالی سال 24-2023

16416.02

719.37

44.39 فیصد

22.47فیصد

 مالی سال 25-2024

22167.90

849.12

35.04فیصد

18.04 فیصد

 

کل ریٹیل ڈیجیٹل پیمنٹ ٹرانزیکشنز میں یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی)) کا حصہ 81 فیصد  ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ریٹیل پیمنٹ سسٹم بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل پیمنٹ میں علاقائی یا آبادیاتی طبقوں کے حساب سے مخصوص ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ یو پی آئی سمیت ریٹیل ڈیجیٹل پیمنٹ میں اضافہ کئی عوامل سے ہوا ہے، جیسے:اسمارٹ فون کی رسائی،آدھار سے مربوط تصدیق  ، ای -کے وائی سی ،وسیع مالی شمولیت،شہری اور دیہی علاقوں میں مرچنٹ قبولیت کے انفراسٹرکچر کی توسیع۔ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر نے انٹرا-آپریبلٹی کو سپورٹ کیا اور آن بورڈنگ کے عمل کو آسان بنایا، جس سے مختلف صارف گروپس میں زیادہ قبولیت میں مدد ملی۔مزید برآں، اقدامات جیسے ڈیجیٹل پیمنٹ کے فروغ کے لیے انسینٹیو اسکیم اور پیمنٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ ( پی آئی ڈی ایف)نے ڈیجیٹل پیمنٹ کی مسلسل توسیع میں سہولت فراہم کی ہے۔

ڈیجیٹل پیمنٹ میں اضافے کے نتیجے میں کچھ چیلنجز سامنے آئے ہیں، جیسے: سائبر سیکورٹی کے خطرات،ڈیجیٹل  قبولیت میں رکاوٹیں،آگاہی اور خواندگی کی کمی،نیٹ ورک کے مسائل،تاہم، مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش کے حوالے سے کوئی مخصوص چیلنج رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل مالی دھوکہ دہی سے نمٹنے کے لیے حکومت، آر بی آئی اور  این پی سی آئی کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں شامل ہیں: صارف کے موبائل نمبر اور ڈیوائس کے درمیان ڈیوائس بائنڈنگ، پی آئی این کے ذریعے ذو فیکٹر تصدیق، روزانہ کی لین دین کی حدیں اور بعض استعمال کے معاملات پر پابندیاں۔ این پی سی آئی تمام بینکوں کو ایم ایل؍ اے آئی پر مبنی فراڈ مانیٹرنگ حل فراہم کرتا ہے تاکہ الرٹس جنریٹ کی جائیں اور مشتبہ لین دین کو مسترد کیا جا سکے۔ آر بی آئی اور بینک سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے مختصر ایس ایم ایس ، ریڈیو مہمات اور دیگر تشہیری مواد کے ذریعے آگاہی مہمات بھی چلا رہے ہیں۔

مزید برآں، شہریوں کو سائبر واقعات  سمیت  مالی دھوکہ دہی کی رپورٹنگ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (www.cybercrime.gov.in) اور نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر’’1930‘‘ لانچ کیا ہے۔اسی طرح، محکمہ ٹیلی مواصلات ( ڈی او ٹی )  نے ڈیجیٹل انٹیلیجنس پلیٹ فارم (ڈی آئی پی ) اور ’’چکشو‘‘ سہولت متعارف کرائی ہے، جو شہریوں کو کال، ایس ایم ایس یا وہاٹس ایپ  کے ذریعے موصول ہونے والی مشتبہ دھوکہ دہی سے متعلق مواصلاتی  رپورٹ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

دیہی اور دور دراز علاقوں میں پیمنٹ انفراسٹرکچر کی تنصیب کو سپورٹ کرنے کے لیے پی آئی ڈی ایف کو آر بی آئی نے قائم کیا۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً 5.80 کروڑ ڈیجیٹل ٹچ پوائنٹس اور تقریباً 56.86 کروڑ  کیو آرکوڈز لگائے گئے ہیں۔

کم کنیکٹیویٹی والے علاقوں میں صارفین کو سہولت فراہم کرنے اور فیچر فون صارفین کے لیے ، این پی سی آئی نے یو پی آئی 123 پی اے وائی (انٹرایکٹو وائس رسپانس (آئی وی آر) اور آواز پر مبنی ادائیگیوں کے ذریعے ادائیگیوں کو فعال کرنا) اور ہیلو یو پی آئی (بات چیت کی ادائیگیوں کو فعال کرنا) کا آغاز کیا ہے ۔

مزید برآں، مالی آگاہی و خواندگی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے محفوظ استعمال کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ 31 مارچ 2025 تک ملک بھر میں کل 2421 مالی خواندگی سے متعلق سینٹرز (سی ایف ایل) قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں ہر سی ایف ایل تین بلاکس کو کور کرتا ہے۔ مالی خواندگی ہفتہ 2016 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں میں مالی تعلیم کی ترسیل کی جا سکے۔

****

ش ح۔ ع ح۔  ش ت  

U NO :-4158


(ریلیز آئی ڈی: 2240803) وزیٹر کاؤنٹر : 9