PIB Headquarters
مرکزی بجٹ مالی سال 2026-27: بھارت کی خدمات کی برآمدات پر زور
بھارت کی خدمات کی برآمدی کارکردگی کو مضبوط بنانا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2026 9:34AM by PIB Delhi
کلیدی نکات
- اپریل تا جنوری مالی سال کے دوران خدمات کی برآمدات 348.4 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
- مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی (اپریل تا ستمبر) میں خدمات کی برآمدات جی ڈی پی کے 10 فیصد تک پہنچ گئیں۔
- سافٹ ویئر خدمات ہندوستان کی خدمات کی برآمدات میں سرفہرست ہیں، جبکہ کاروباری اور مشاورتی خدمات ترقی کے اہم محرک کے طور پر ابھر رہی ہیں۔
- مرکزی بجٹ 2026–27 میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے 2047 تک ٹیکس چھوٹ، ہندوستان میں واقع بنیادی ڈھانچے کے استعمال کے ذریعے عالمی کلائنٹس کو کلاؤڈ سروسز کی فراہمی، آئی ٹی سروسز کے لیے سیف ہاربر اصلاحات اور ایڈوانسڈ پرائسنگ ایگریمنٹس (اے پی اے)میں اصلاحات جیسے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔
- عالمی صلاحیت مراکز (جی سی سی)میں اضافہ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صلاحیتوں میں توسیع اور عالمی منڈی تک بہتر رسائی ہندوستان کی خدمات کی برآمدات کی ترقی کو آگے بڑھا رہی ہے۔
تعارف
ہندوستان کا خدماتی شعبہ معیشت کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے، جو ترقی، پیداواریت اور عالمی انضمام کو آگے بڑھانے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق، 2024 میں ہندوستان کی جی ڈی پی میں خدماتی شعبے کا حصہ بڑھ کر 49.9 فیصد ہو گیا، جو وبا سے پہلے کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 1.5 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ شرح عالمی اوسط اور زیادہ تر ترقی یافتہ معیشتوں سے بھی زیادہ ہے۔
اس توسیع کی بنیادی وجہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانا اور عالمی ویلیو چین میں ہندوستانی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا انضمام ہے، جس کے نتیجے میں پیداواریت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
مرکزی بجٹ 2026–27 آئی ٹی خدمات کے لیے ہدفی ٹیکس اصلاحات، کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے مراعات، آسان تعمیل کے نظام اور تجارتی سہولت کے اقدامات کے ذریعے اس شعبے کی رفتار کو مزید تقویت دیتا ہے۔ اس کا مقصد خدماتی تجارت میں ہندوستان کی عالمی مسابقت کو بڑھانا ہے۔
اس کے ساتھ ہی 2047 تک خدماتی شعبے میں عالمی سطح پر 10 فیصد حصہ داری حاصل کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وکست بھارت کے تحت ایک اعلیٰ سطحی قائمہ کمیٹی “ایجوکیشن ٹو امپاورمنٹ اینڈ انٹرپرائز” قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
یہ کمیٹی ان خدماتی ذیلی شعبوں کی نشاندہی کرے گی جن میں ترقی اور روزگار کے زیادہ امکانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بین شعبہ جاتی پالیسی اور ریگولیٹری مسائل، معیارات اور منظوری کے نظام کا جائزہ لے کر خدماتی برآمدات کو مزید فروغ دینے کے طریقے تجویز کرے گی۔
کمیٹی مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ملازمتوں اور مہارتوں پر اثرات کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم میں اے آئی کے انضمام، افرادی قوت کی اپ اسکلنگ اور ری اسکلنگ، اے آئی پر مبنی ملازمت کے مواقع، غیر رسمی کام کو باضابطہ بنانے اور عالمی ہنر مند افرادی قوت کو متوجہ کرنے جیسے اقدامات کی سفارش کرے گی۔
جیسے جیسے خدماتی شعبہ ترقی کر رہا ہے، خدمات کی تجارت ہندوستان کے بیرونی اقتصادی شعبے کی کارکردگی میں ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آئی ہے۔ بڑھتی ہوئی برآمدات بدلتے ہوئے عالمی حالات کے باوجود مجموعی تجارتی ترقی کو سہارا دے رہی ہیں۔
ہندوستان کی خدماتی برآمدات کی کارکردگی اور محرکات
ترقی اور حالیہ کارکردگی
ہندوستان کی خدماتی برآمدات نے مالی سال 2025–26 میں مضبوط رفتار برقرار رکھی ہے، جسے عالمی سطح پر ہندوستانی خدمات کی مسلسل مانگ کی حمایت حاصل ہے۔
اپریل تا جنوری 2025–26 کے دوران خدماتی برآمدات کا تخمینہ 348.4 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔

اقتصادی ترقی میں خدمات کے شعبے کا بڑھتا ہوا تعاون
جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کے باوجود خدمات کی برآمدات ہندوستان کے بیرونی شعبے کے لیے ایک اہم سہارا بن کر ابھری ہیں۔ اس سے بیرونی خطرات کو کم کرنے اور تجارتی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ خدمات کی برآمدات کی بڑھتی ہوئی اہمیت مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار سے واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔
جی ڈی پی میں بڑھتا ہوا حصہ
مالی سال 2023 تا مالی سال 2025 کے دوران ہندوستان کی خدماتی برآمدات کا جی ڈی پی میں اوسط حصہ 9.7 فیصد رہا، جو وبا سے پہلے کے عرصے میں 7.4 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ رجحان معاشی ترقی میں خدماتی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ مستحکم شراکت مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی (ایچ 1) میں مزید مضبوط ہوئی، جب جی ڈی پی میں خدماتی برآمدات کا حصہ بڑھ کر 10 فیصد ہو گیا۔ یہ ہندوستان کی خدمات پر مبنی ترقی کے راستے کی توسیع اور مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
لیبر مارکیٹ کے استحکام میں معاونت
خدمات کا شعبہ روزگار پیدا کرنے کے ایک بڑے ذریعہ کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔ یہ کل روزگار کا تقریباً 30 فیصدحصہ فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران، خاص طور پر کووڈ کے بعد کی بحالی کے دور میں، اس شعبے نے تقریباً 40 ملین نئی ملازمتیں پیدا کیں۔ اس سے لیبر مارکیٹ میں جھٹکوں کو جذب کرنے میں اس شعبے کے اہم کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔
خدمات کی برآمدات کے شعبہ جاتی محرکات
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)کے سروے کے مطابق، مالی سال 2025 میں سافٹ ویئر خدمات کی برآمدات میں سال بہ سال 7.3 فیصد اضافہ ہوا، جو ہندوستان کی ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں مسلسل ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس عرصے کے دوران ہندوستان کی مجموعی سافٹ ویئر خدماتی برآمدات میں کمپیوٹر خدمات کا حصہ دو تہائی سے زیادہ رہا، جبکہ بی پی او خدمات آئی ٹی ای ایس برآمدات کا ایک اہم جزو بنی رہیں۔
یہ مضبوط کارکردگی ہندوستان کے خدماتی شعبے کی وسیع تر لچک(طاقت) کی عکاسی کرتی ہے، جسے سافٹ ویئر، بی پی ایم، کنسلٹنگ اور فن ٹیک جیسے شعبوں کی مسلسل توسیع سے تقویت ملی ہے۔ یہ تمام شعبے مجموعی خدماتی برآمدات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل خدمات کی عالمی سطح پر مضبوط مانگ کے باعث سافٹ ویئر خدمات بدستور سب سے بڑا جزو بنی ہوئی ہیں۔ یہ خدماتی برآمدات کے کل حجم کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ ہیں۔ مالی سال 2023 تا مالی سال 2025 کے دوران ان کی اوسط سالانہ شرح نمو 13.5 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 2016 تا مالی سال 2020 کے دوران یہ شرح 4.7 فیصد تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں کاروباری خدمات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ہندوستان کے بیرونی شعبے کی مضبوطی میں اس شعبے کی شراکت مزید بڑھ گئی ہے۔ مالی سال 2023 تا مالی سال 2025 کے دوران پروفیشنل اور مینجمنٹ کنسلٹنگ خدمات دوسرے سب سے بڑے شعبے کے طور پر ابھریں، جن میں 25.9 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں ان کا حصہ مالی سال 2016 تا مالی سال 2020 میں 10.5 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2023 تا مالی سال 2025 میں 18.3 فیصد ہو گیا۔

مجموعی طور پر یہ شعبے خدماتی برآمدات کا 65 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں، جو سرحد پار اور علم پر مبنی سرگرمیوں میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مہارت کو ظاہر کرتے ہیں۔
بجٹ میں خدمات کے شعبے پر توجہ مرکوز: معیشت کے لیے ایک اہم قدم
ہندوستان نے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، آئی ٹی سے چلنے والی خدمات، نالج پروسیس آؤٹ سورسنگ (کے پی او) اور سافٹ ویئر سے متعلق کنٹریکٹ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) خدمات کے شعبوں میں خود کو عالمی سطح پر ایک نمایاں رہنما کے طور پر قائم کیا ہے۔ اس مضبوط عالمی مقام کو تسلیم کرتے ہوئے مرکزی بجٹ 2026–27 میں متعدد اصلاحات کی تجویز پیش کی گئی ہے، جن کا مقصد آئی ٹی اور آئی ٹی سے چلنے والی خدمات کے شعبے کی ترقی کو فروغ دینا اور اسے مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔
ڈیٹا سینٹر مراعات کے ذریعے کلاؤڈ سروسز کی برآمدات کو فروغ
مرکزی بجٹ کے اہم اقدامات میں سے ایک یہ ہے کہ ہندوستان میں قائم ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کے ذریعے کام کرنے والے عالمی کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والوں کو راغب کرنے کے لیے مراعات دی جائیں۔ اہم بنیادی ڈھانچے کو فعال بنانے اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ ہندوستان میں واقع بنیادی ڈھانچے کا استعمال کرتے ہوئے عالمی صارفین کو کلاؤڈ خدمات فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو 2047 تک ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔
اس کے علاوہ ہندوستان سے ڈیٹا سینٹر خدمات فراہم کرنے والے متعلقہ اداروں کو لاگت پر 15 فیصد کے سیف ہاربر مارجن کا فائدہ دینے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔
آئی ٹی خدمات کے لیے سیف ہاربر اصلاحات
تعمیل کے عمل کو آسان بنانے کے لیے مرکزی بجٹ میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سروسز، آئی ٹی فعال خدمات (آئی ٹی ایس)، نالج پروسیس آؤٹ سورسنگ خدمات اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سے متعلق آر اینڈ ڈی خدمات کو یکجا کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز کے ایک ہی زمرے کے تحت لایا جائے گا، جس کے لیے 15.5 فیصد کا مشترکہ سیف ہاربر مارجن مقرر کیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی آئی ٹی خدمات کے لیے سیف ہاربر کی حد 300 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2,000 کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
سیف ہاربر نظام کو ایک خودکار، اصول پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے ٹیکس افسر کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ ایک بار اس نظام کا انتخاب کرنے کے بعد آئی ٹی خدمات کی کمپنیوں کو پانچ مسلسل برسوں تک اپنی صوابدید کے مطابق انہی سیف ہاربر دفعات کے تحت کام جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
پیشگی قیمتوں کا معاہدہ (اے پی اے )اصلاحات
آئی ٹی خدمات کی کمپنیوں کے لیے جو ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹ (اے پی اے) کے عمل سے گزرنا چاہتی ہیں، بجٹ میں یکطرفہ اے پی اے کے عمل کو تیز کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ معاہدے دو سال کے اندر مکمل کیے جا سکیں۔ٹیکس دہندگان کی درخواست پر اس مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اے پی اے میں شامل اداروں کو ترمیم شدہ ریٹرن فائل کرنے کی سہولت ان کے متعلقہ یا وابستہ اداروں تک بھی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

یک طرفہ پیشگی قیمتوں کا معاہدہ (اے پی اے)
انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کے تحت یک طرفہ ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹ (یو اے پی اے)سے مراد ٹیکس دہندہ اور سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے ذریعے کسی مخصوص مدت کے لیے بین الاقوامی یا مخصوص گھریلو لین دین کی قیمت یا اس کے تعین کے طریقہ کار کو پہلے سے طے کر لیا جاتا ہے۔
خدمات کے شعبے کی حمایت کے لیے اضافی بجٹ اقدامات
مرکزی بجٹ 2026–27 میں ایسے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن کا مقصد مہارتوں کے فروغ کے ذریعے ہندوستان کے خدماتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ ان اقدامات میں روایتی طب، طبی سیاحت اور سیاحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی شامل ہے۔
ہنر مند نگہداشت فراہم کرنے والوں کی ترقی
ایک مضبوط نگہداشت کے ماحولیاتی نظامکے قیام کی تجویز دی گئی ہے جس میں جیریاٹرک (عمر رسیدہ افراد کی نگہداشت) اور متعلقہ خدمات شامل ہوں گی۔
کثیر مہارت رکھنے والے نگہداشت فراہم کرنے والوں کو تربیت دینے کے لیے این ایس کیو ایف (این ایس قیو ایف)سے منسلک مختلف پروگرام تیار کیے جائیں گے، جن میں بنیادی نگہداشت کے ساتھ ساتھ تندرستی، یوگا اور طبی و معاون آلات کے استعمال جیسی مہارتیں شامل ہوں گی۔
آئندہ سال کے دوران 1.5 لاکھ نگہداشت فراہم کرنے والوں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ہندوستان کی نگہداشت معیشت کو مضبوط بنانا
تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی، متوقع عمر میں اضافہ اور دائمی بیماریوں میں اضافے کی وجہ سے نگہداشت فراہم کرنے والوں کی عالمی مانگ بڑھ رہی ہے۔
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق اگر دیکھ بھال کی خدمات میں موجود بڑے خلا کو پُر کیا جائے تو دنیا بھر میں تقریباً 300 ملین نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اس پس منظر میں، بجٹ 2026–27 میں جیریاٹرک اور متعلقہ نگہداشت خدمات کے فروغ سے توقع کی جا رہی ہے کہ ہندوستان میں تربیت یافتہ نگہداشت فراہم کرنے والے پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھے گی اور وہ عالمی مانگ کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔
آیوش
ہندوستان آیوش کی عالمی رسائی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ بجٹ 2026–27 میں کیے گئے اقدامات سے توقع ہے کہ طب کی ان روایتی شاخوں کو عالمی سطح پر مزید قبولیت اور پہچان ملے گی، بالکل اسی طرح جیسے یوگا کو عالمی شناخت حاصل ہو چکی ہے۔
اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے:
- 3 نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کا قیام
- جام نگر میں قائم ڈبلیو ایچ او گلوبل ٹریڈیشنل میڈیسن سینٹر کی اپ گریڈیشن تاکہ روایتی ادویات کے حوالے سے تحقیق، تربیت اور آگاہی کو فروغ دیا جا سکے
- آیوش فارمیسیوں اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن تاکہ سرٹیفیکیشن کے اعلیٰ معیارات کو یقینی بنایا جا سکے
سیاحت کو فروغ دینا
سیاحت کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
طبی سیاحت
ہندوستان کو طبی سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے مقصد سے حکومت نجی شعبے کے تعاون سے پانچ علاقائی طبی سیاحت مراکز قائم کرے گی۔
گائیڈز کی مہارت میں اضافہ
20 معروف سیاحتی مقامات پر 10,000 گائیڈز کی مہارت بڑھانے کے لیے ایک پائلٹ اسکیم شروع کی جائے گی۔ اس میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے تعاون سے تیار کردہ 12 ہفتوں کا ہائبرڈ تربیتی پروگرام شامل ہوگا۔
آثار قدیمہ کے مقامات کی ترقی
لوتھل، سارناتھ اور ہستنا پور سمیت 15 اہم آثار قدیمہ کے مقامات کو عالمی معیار کے تجرباتی مراکز کے طور پر ترقی دی جائے گی تاکہ ورثے اور ثقافتی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔
اس اقدام کا مقصد سیاحوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، پائیدار سیاحت کو فروغ دینا اور شمال مشرقی بھارت میں ایک نیا بدھ مت سیاحتی سرکٹ متعارف کرانا ہے۔
اس کے علاوہ عالمی معیار کے ٹریکنگ اور پیدل سفر کے تجربات کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی توجہ دی جائے گی۔
سیاحت کے لیے تیز رفتار ریل رابطہ
مجوزہ تیز رفتار ریل راستوں (ممبئی–پونے، پونے–حیدرآباد، حیدرآباد–بنگلورو، حیدرآباد–چنئی، چنئی–بنگلورو، بنگلورو–وارانسی اور وارانسی–سلی گوڑی) کا مقصد بڑے کاروباری مراکز اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کے درمیان سفر کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔
خدماتی برآمدات کی مسابقت کے نئے محرکات
عالمی صلاحیت مراکز (جی سی سی) کا بڑھتا ہوا دائرۂ اثر

ہندوستان کا عالمی صلاحیت مراکز (جی سی سی) کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنا خدماتی برآمدات میں نمایاں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ مالی سال 2020 سے مالی سال 2025 کے درمیان خدماتی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) ریکارڈ کی گئی ہے۔
جی سی سی اب ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں جس کے ذریعے ہندوستان سے سرحد پار خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ مالی سال 2024 تک ہندوستان میں 1,700 سے زیادہ جی سی سی قائم ہیں، جہاں 1.9 ملین سے زیادہ پیشہ ور افراد کام کر رہے ہیں۔ اس طرح ہندوستان کیپٹو گلوبل آپریشنز کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔
وقت کے ساتھ جی سی سی صرف معاون یا سپورٹ خدمات فراہم کرنے والے مراکز سے ترقی کر کے کثیر القومی کمپنیوں کے عالمی آپریشنز کے لازمی حصے بن گئے ہیں۔ یہ مراکز اب مصنوعات کی تیاری، مصنوعی ذہانت (اے آئی )سے چلنے والی ڈیجیٹل خدمات، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا تجزیات اور انجینئرنگ جیسے اعلیٰ قدر کے کام انجام دے رہے ہیں، جو براہِ راست ہندوستان کی علم پر مبنی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
جی سی سی کی توسیع کو کئی عوامل سے تقویت ملی ہے، جن میں ہندوستان کی مسابقتی لیبر لاگت، مضبوط جسمانی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، لاگت کی برتری، خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز)سے وابستہ مراعات اور ایک متحرک اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہندوستان کا مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں اس برآمدی نمو کو مزید تقویت فراہم کر رہی ہیں۔ اسٹینفورڈ اے آئی انڈیکس رپورٹ 2025 کے مطابق ہندوستان اے آئی مہارت کی دستیابی کے لحاظ سے عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے، جو عالمی خدمات کی فراہمی میں مدد دینے والے جدید ڈیجیٹل ٹیلنٹ کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
بین الاقوامی تنظیمیں بھی ہندوستان کی بہتر ہوتی ہوئی تکنیکی تیاری کو اجاگر کرتی ہیں۔ یو این سی ٹی اے ڈی کے فرنٹیئر ٹیکنالوجیز ریڈینیس انڈیکس کے مطابق ہندوستان 2022 میں 48 ویں مقام سے بڑھ کر 2024 میں 36 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔
ہندوستان کلاؤڈ انفراسٹرکچر خدمات کے میدان میں بھی نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے دنیا کی بڑی آبادی میں سے ایک کی موجودگی ہے، جہاں اے آئی ڈویلپرز کی بڑی تعداد دستیاب ہے۔
ڈیٹا کے استعمال، کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اے آئی کے نفاذ میں تیزی کے باعث ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ ہندوستان کی ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت 2025 میں تقریباً 1.4 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2030 تک تقریباً 8 گیگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ یہ توسیع عالمی سطح پر ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گی۔
ملک کا بڑھتا ہوا اختراعی ماحولیاتی نظام بھی اس پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے، جس کا اظہار اے آئی اسٹارٹ اپس کی بڑھتی ہوئی تعداد، وینچر سرمایہ کاری، اور دنیا بھر میں جنریٹو اے آئی پیٹنٹس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فائلنگ میں ہوتا ہے۔
عالمی تجارتی معاہدے خدمات کی برآمدات کو فروغ دے رہے ہیں
ہندوستان کے تجارتی معاہدوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک نے عالمی منڈیوں میں اس کے خدماتی شعبے کے لیے بازار تک رسائی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ معاہدے پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں اور خدمات کے مختلف شعبوں میں ہندوستانی فراہم کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
ہندوستان – برطانیہ سی ای ٹی اے
مارکیٹ تک رسائی میں توسیع:
برطانیہ نے آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس، کاروباری خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، مالیاتی خدمات، ٹیلی کمیونیکیشن اور تعلیمی خدمات سمیت ہندوستان کے لیے اہم شعبوں کے 137 ذیلی شعبوں میں جامع اور گہری مارکیٹ تک رسائی فراہم کی ہے۔
ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لیے آسان رسائی:
ہندوستانی پیشہ ور افراد کو آسان ویزا طریقہ کار اور آزادانہ داخلے کے زمرے کا فائدہ حاصل ہوگا، جس سے برطانیہ میں کام کرنا آسان ہو جائے گا۔ ان پیشہ ور افراد میں آرکیٹیکٹس، انجینئرز، شیف، یوگا انسٹرکٹرز اور موسیقار شامل ہیں، جو کمپنیوں کے ذریعے مختلف خدماتی شعبوں میں تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
سماجی تحفظ سے متعلق معاہدہ:
دونوں ممالک نے سی ای ٹی اے کے ساتھ سماجی تحفظ کے تعاون سے متعلق معاہدے پر بھی اتفاق کیا ہے، جو معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی نافذ ہوگا۔ اس سلسلے میں 10 فروری 2026 کو ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے ملازمین کو 36 ماہ تک کے عارضی تقرر کے دوران سماجی تحفظ کی دوہری شراکت سے بچانا ہے۔
سی ای ٹی اے کے تحت نقل و حرکت اور مارکیٹ تک رسائی کی سہولیات، سماجی تحفظ کے تعاون کے ساتھ مل کر، خدمات کے شعبے میں ہندوستان اور برطانیہ کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی توقع رکھتی ہیں۔
بھارت – یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)
مارکیٹ تک رسائی میں توسیع:
یورپی یونین نے آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس اور پیشہ ورانہ خدمات سمیت 144 خدماتی ذیلی شعبوں میں وعدوں کو وسعت دی ہے، جس سے ہندوستانی خدمات فراہم کنندگان کو برآمدات بڑھانے اور دونوں معیشتوں میں جدت، پیداواری صلاحیت اور کاروباری ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
نقل و حرکت اور سماجی تحفظ کی سہولتیں:
اس معاہدے میں ہندوستانی آیوش معالجین کی یورپی یونین میں نقل و حرکت، ہندوستانی طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع اور ہندوستان و یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان سماجی تحفظ کے انتظامات کو برقرار رکھنے یا نئے انتظامات قائم کرنے کی سہولت بھی شامل ہے۔
بھارت – عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے)
مارکیٹ تک رسائی میں توسیع:
عمان نے 127 خدماتی ذیلی شعبوں میں وعدے کیے ہیں، جن میں پیشہ ورانہ خدمات، کمپیوٹر اور متعلقہ خدمات، اور آڈیو ویژول خدمات شامل ہیں۔کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے میں پہلی بار عمان نے اکاؤنٹنگ، انجینئرنگ، طب، آئی ٹی، تعلیم، تعمیرات اور مشاورتی خدمات سمیت پیشہ ور افراد کے مخصوص زمروں کے لیے واضح عہد کیے ہیں۔اس کے علاوہ صحت اور روایتی ادویات کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

آئی سی ٹی کی حد میں توسیع:انٹرا کارپوریٹ ٹرانسفریوں (آئی سی ٹی) کی حد کو 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے ہندوستانی کمپنیاں بڑی تعداد میں انتظامی اور ماہر اہلکاروں کو بیرونِ ملک تعینات کر سکیں گی۔
بھارت – نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے)
مارکیٹ تک رسائی میں توسیع:
نیوزی لینڈ نے 118 خدماتی شعبوں میں عزم پیش کیا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ آیوروید، یوگا اور دیگر روایتی طبی خدمات میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ ہندوستانی طلبہ کے لیے نقل و حرکت اور پوسٹ اسٹڈی ورک کے مواقع کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔
ہنر مند ہندوستانیوں کے لیے ویزا تک رسائی:
نیوزی لینڈ نے ہندوستان کے مفاد کے مختلف شعبوں میں 3 سال تک قیام کے لیے ہنر مند ہندوستانیوں کو 5000 ویزوں کا کوٹہ دینے کا عہد کیا ہے۔
یہ دفعات ہندوستانی نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے لیے بین الاقوامی تجربہ اور مواقع حاصل کرنے کے نئے دروازے کھولتی ہیں۔
ہندوستان – یورپی آزاد تجارتی ایسوسی ایشن ( ای ایف ٹی اے)تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹی ای پی اے)
مارکیٹ تک رسائی میں توسیع:
ٹی ای پی اے کے تحت خدمات کے 128 ذیلی شعبوں میں عزم سوئٹزرلینڈ، 114 میں ناروے، 107 میں لیختن اسٹائن اور 110 میں آئس لینڈ نے پیش کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت آئندہ 15 برسوں میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10 لاکھ براہِ راست ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نقل و حرکت کی بہتر سہولیات:
ای ایف ٹی اے نے کنٹریکچوئل سروس سپلائرز اور آزاد پیشہ ور افراد کے لیے مختلف خدماتی شعبوں اور ذیلی شعبوں میں نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرنے کے اضافی وعدے کیے ہیں۔
باہمی شناخت کے معاہدے : (ایم آر اے )
پیشہ ورانہ خدمات جیسے نرسنگ، چارٹرڈ اکاؤنٹنسی اور فنِ تعمیر میں باہمی شناخت کے معاہدوں کو فعال بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بھارت-آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ (بھارت-آسٹریلیا ای سی ٹی اے)
مارکیٹ تک رسائی میں توسیع:
اس معاہدے کے تحت آسٹریلیا نے تقریباً 135 خدماتی ذیلی شعبوں میں وعدے کیے ہیں۔
نقل و حرکت کی بہتر انتظامات:
آسٹریلیا نے انٹرا کارپوریٹ ٹرانسفریز، کنٹریکچوئل سروس سپلائرز اور آزاد ایگزیکٹوز کے لیے عارضی داخلے اور قیام (زیادہ سے زیادہ 4 سال) کے بہتر انتظامات فراہم کیے ہیں۔
اس کے علاوہ کاروباری زائرین، انسٹالرز اور سروس فراہم کنندگان کے لیے بھی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
ہندوستانی طلبہ کے لیے 4 سال تک کا پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا بھی مہیا کیا جائے گا۔
آف شور ٹیکس ریلیف:
ای سی ٹی اے کے تحت آسٹریلیا نے اپنے گھریلو ٹیکس قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے آسٹریلیا کو تکنیکی خدمات فراہم کرنے والی ہندوستانی کمپنیوں کی آف شور آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔
اس اقدام سے ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عالمی منڈی میں اپنی مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ماریشس کے ساتھ جامع اقتصادی تعاون اور شراکت داری کا معاہدہ
یہ معاہدہ ہندوستانی خدمات فراہم کرنے والوں کو اہم خدماتی صنعتوں کے تقریباً 115 ذیلی شعبوں تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور دو طرفہ اقتصادی تعاون مزید مضبوط ہوتا ہے۔
عالمی سرمایہ کاری خدمات کی برآمدات کو مضبوط کر رہی ہے
ہندوستان کے خدماتی شعبے میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)نے عالمی صلاحیت مراکز کی توسیع اور بین الاقوامی تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان عالمی سطح پر فراہم کی جانے والی خدمات کے لیے ایک ترجیحی منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
مالی سال 2023 سے 2025 کے دوران خدمات کے شعبے میں ایف ڈی آئی کی آمد کل ایف ڈی آئی کا اوسطاً 80.2 فیصد رہی، جو وبا سے پہلے کی مدت میں 77.7 فیصد تھی۔ یہ رجحان ہندوستان کے خدماتی برآمدی ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرمایہ کاری کا بڑا حصہ معلومات و مواصلات کی خدمات (25.8 فیصد) اور پیشہ ورانہ خدمات (23.8 فیصد) میں رہا ہے، جو ڈیجیٹل اور علم پر مبنی سرگرمیوں میں ہندوستان کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ شعبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل اور علم پر مبنی خدمات، عالمی شراکت داری کی بدولت، ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خدماتی برآمدات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی متوجہ کر رہی ہیں۔
نتیجہ
حالیہ برسوں میں بھارت کی خدماتی برآمدات میں مضبوط اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب یہ ملک کے بیرونی اقتصادی شعبے کی کارکردگی کو آگے بڑھانے والے اہم عوامل میں سے ایک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ’کرتویہ‘ کی اسی روح کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی بجٹ 2026–27 ہدفی ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے لیے مراعات، ہنرمندی کے فروغ کی پہلوں اور بھارت کے خدماتی شعبے کی عالمی مسابقت کو بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے ذریعے خدماتی برآمدات کی ترقی کو مزید تقویت فراہم کرتا ہے۔
صلاحیت، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داری کے امتزاج کے ساتھ ہندوستان کا خدماتی شعبہ مستقبل میں ملک کی اقتصادی ترقی کی کہانی کو عالمی سطح تک لے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
حوالہ جات
وزارت خزانہ
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219981®=3&lang=2
https://incometaxindia.gov.in/Rules/Income-Tax%20Rules/103120000000007832.htm
https://www.indianembassyusa.gov.in/pdf/advance_pricing_agreement_guidance_with_faqs_(tpi-43).pdf
https://incometaxindia.gov.in/Rules/Income-Tax%20Rules/103120000000007189.htm
وزارتِ تجارت و صنعت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2228785®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219146®=3&lang=1
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/dec/doc20251218737701.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2207583®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2173138®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1812730®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1708794®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220413®=3&lang=2
https://www.commerce.gov.in/wp-content/uploads/2026/03/FTAs-achievement.pdf
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156654&ModuleId=3®=3&lang=2
ریزرو بینک آف انڈیا
https://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/PressRelease/PDFs/PR1208964F52A6DCBA464A91D091157FBCEC65.PDF
https://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/PressRelease/PDFs/PR14286754E6C89EA04E6FBCE6626CE3CDF389.PDF
https://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/PressRelease/PDFs/PR21919AC9681140584EFDB0D359321C6149A5.PDF
بین الاقوامی ادارے
https://www.imf.org/en/news/articles/2026/01/28/cf-business-growth-and-innovation-can-boost-indias-productivity
https://unctad.org/system/files/official-document/tir2025ch3_en.pdf
https://documents1.worldbank.org/curated/en/099112525160536089/pdf/P505350-59c98ca8-0803-4f23-b470-17f3dab010ab.pdf
https://financing.desa.un.org/sites/default/files/2024-10/CRP%2024%20APA%20FAQs%20Appendix%20A%20.pdf
https://www.ilo.org/publications/major-publications/care-work-investing-care-leave-and-services-more-gender-equal-world-work
پی ڈی ایف میں دیکھیں
***
UR-4060
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2240141)
وزیٹر کاؤنٹر : 14