امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن نے نئی دہلی میں خواتین اور بچوں کے خلاف آن لائن جرائم پر قومی مکالمے کا افتتاح کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی رہنمائی میں حکومت خواتین اور بچوں کے لیے ایک محفوظ اور باوقار ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانے کے تئیں پرعزم ہے

خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے آن لائن جرائم سے نمٹنے کے لیے مربوط طریقہ کار اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بروقت تحقیقات ، متاثرین کی مدد اور مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط ، خصوصی اکائیاں اور مربوط رسپانس طریقہ کار تیار کرنا چاہیے

نیشنل ڈائیلاگ ڈیجیٹل ماحول میں آن لائن جرائم سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی کے لیے علم کے تبادلے ، بہترین طریقوں کا اشتراک اور اجتماعی غور و فکر کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ۔

خواتین اور بچوں کے خلاف آن لائن جرائم سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ افسران کا قومی پول بنانے کے لیے ماسٹر ٹرینرز انڈکشن پروگرام شروع کیا گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 3:25PM by PIB Delhi

مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن نے نئی دہلی میں خواتین اور بچوں کے خلاف آن لائن جرائم پر قومی مکالمے (او سی ڈبلیو سی) کا افتتاح کیا ۔  اس تقریب کا اہتمام انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی 4 سی) وزارت داخلہ نے کیا تھا ، جس کا مقصد خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے آن لائن جرائم کی روک تھام اور مؤثر طریقے سے جواب دینے کی خاطر مربوط طریقہ جار کو مضبوط کرنے پر غور و فکر کرنے کے لیے کلیدی فریقوں کو یکجا کرنا تھا ۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی رہنمائی میں ، حکومت ہند ملک بھر میں خواتین اور بچوں کے لیے ایک بحفاظت اور محفوظ نیز باوقار ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کارکو مضبوط کرنے اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے تئیں پرعزم ہے ۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن نے تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں آن لائن جرائم سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کو اجاگر کیا اور اس طرح کے جرائم سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ریاست  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سطح پر ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔  مرکزی داخلہ سکریٹری نے زور دے کر کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بروقت تحقیقات ، متاثرین کی مدد اور مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط ، خصوصی اکائیاں اور مربوط رسپانس میکانزم تیار کرنا چاہیے ۔

سکریٹری موصوف جناب گووند موہن نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خواتین اور بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کو ترجیح دینے اور ایسے معاملات پر فوری اور مربوط ردعمل کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ۔  انہوں نے آئی ٹی ا انٹرمیڈیٹریز  پر زور دیا کہ وہ انفار میشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور متعلقہ قواعد کی دفعات پر سختی سے عمل کریں ، اور تمام متعلقہ فریقوں سے ایک  بحفاظت اور  محفوظ ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے کی اپیل کی ۔

قومی مکالمہ،  علم کے تبادلے ، بہترین طریقوں کے اشتراک اور ڈیجیٹل ماحول میں آن لائن جرائم سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی بنانے پر اجتماعی غور و فکر کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ۔

افتتاحی تقریب میں خواتین اور بچوں کے خلاف آن لائن جرائم پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ماسٹر ٹرینرز انڈکشن پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا ، جس کا مقصد تربیت یافتہ افسران کا ایک قومی پول بنانا ہے،  جو اپنی متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں صلاحیت سازی کے اقدامات کی قیادت کریں گے ۔  مذکورہ پروگرام کا مقصد منتخب افسران کو خصوصی علم ، تفتیشی تکنیکوں اور خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے درکار بہترین طریقوں سے مزین کرنا ہے ۔  یہ افسران ریاستی اور ضلعی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مزید تربیت فراہم کریں گے ، جس سے اس طرح کے جرائم کے لیے ملک کے رسپانس فریم ورک کو تقویت حاصل ہو گی ۔

قومی مکالمے میں ریاست  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں ، حکومت ہند کی متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں ، سوشل میڈیا انٹرمیڈیٹریز ، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں ، تعلیمی اداروں ، سول سوسائٹی کی تنظیموں ، قانونی ماہرین اور طلباء کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

بات چیت کے دوران اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ، جن میں ذیل نکات شامل ہیں:

  • خواتین اور بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کے ابھرتے ہوئے رجحانات اور نمونے
  • تفتیشی فریم ورک اور ڈیجیٹل فارنسکس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا
  • متاثرین کی مدد اور رپورٹنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانا
  • نقصان دہ مواد کو بروقت ہٹانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ ہم آہنگی بڑھانا
  • روک تھام ، بیداری اور نفاذ کے لیے کثیر فریقین کے تعاون کو فروغ دینا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح –ش م۔ ق ر)

U. No.3979


(ریلیز آئی ڈی: 2239654) وزیٹر کاؤنٹر : 13