کوئلے کی وزارت
کوئلہ اور کانکنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی کے زیر صدارت کوئلہ کی وزارت کی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ منعقد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 11:00AM by PIB Delhi
وزارت کوئلہ سے وابستہ ارکان پارلیمنٹ کی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ جمعرات کو کوئلہ اور کانکنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔اس میٹنگ میں کوئلہ اور کانکنی کے وزیر مملکت جناب ستیش چندر دوبے، کمیٹی کے ارکان، وزارت کوئلہ اور کوئلہ کمپنیوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اس مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ کا ایجنڈا ’کوئلہ کمپنیوں میں ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن‘تھا۔ وزارت کوئلہ کے سینئر حکام نے اس موضوع پر تفصیلی پریزنٹیشنز دیں، جن میں اہم پالیسی اقدامات، پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی۔
سکریٹری، وزارتِ کوئلہ جناب وکرم دیو دت نے تمام معززین اور کمیٹی کے ارکان کا استقبال کیا۔ اپنے خطاب میں جناب دت نے ذکر کیا کہ اس وقت ملک میں کوئلے کی کوئی غیر معمولی طلب نہیں ہے۔
اپنے افتتاحی کلمات میں، کوئلہ اور کانکنی کے وزیرِ مملکت جناب ستیش چندر دوبے نے اس بات پر زور دیا کہ کول انڈیا نہ صرف کوئلے کی کانکنی کر رہا ہے بلکہ خاص طور پر کوئلے سے گیس سازی جیسے شعبوں میں تحقیق اور ترقی پر بھی بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، کوئلہ اور کانکنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی نے کہا کہ موجودہ تناظر میں ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن محض ایک موقع نہیں بلکہ ایک مستقل مقصد بن چکی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت کوئلے کے شعبے کے تمام پہلوؤں بشمول پیداوار، حفاظت، کارکردگی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کوئلے کا شعبہ ایک انقلابی تکنیکی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ سروے میں ڈرون ٹیکنالوجی، 3 ڈی لیزر اسکیننگ اور اے آئی و ایم ایل پر مبنی پیش گوئی کرنے والے تجزیوں کے استعمال کی مثالیں دیتے ہوئے جناب ریڈی نے کہا کہ یہ شعبہ روایتی کانکنی سے نکل کر اسمارٹ، محفوظ اور ڈیجیٹل کانکنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
وزیر نے کمیٹی کو کاربن کیپچر اینڈ اسٹوریج بایوماس کو-فائرنگ اور کول گیسیکیشن جیسے جدید حل اپنانے کے لیے وزارت کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ مسلسل جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کا انضمام ہی کوئلے کے شعبے کا مستقبل ہے۔
کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) میں ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے، جناب بی سائی رام(چیئرمین، سی آئی ایل) نے مطلع کیا کہ سی آئی ایل اپنے تمام آپریشنز میں بڑی تکنیکی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ اس میں تلاش و تحقیق کے لیے 3 ڈی سیسمک سروے اور ڈرونز جیسے جدید ٹولز اور کارکردگی و حفاظت کو بڑھانے کے لیے ’کنٹینیویس مائنرز‘ اور ’ہائی وال سسٹمز‘ جیسے جدید آلات کا استعمال شامل ہے۔ کمپنی کوئلے کی نقل و حمل کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے نئی ریلوے راہداریوں اور کنویئر سسٹمز کے ساتھ انفراسٹرکچر کو بھی بہتر بنا رہی ہے۔ ڈیجیٹل تبدیلی کو ایس اے پی ای آر پی اور5-جی پر مبنی آئی او ٹی 5 سسٹمز جیسے اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، پریزنٹیشن میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ سی آئی ایل صفائی ستھرائی والی کوئلہ ٹیکنالوجیز اورہندوستان کے اعلیٰ اداروں کے ساتھ تحقیق اور تعاون کے ذریعے پائیدار کانکنی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
نیویلی لگنائٹ کارپوریشن (این ایل سی) میں ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے مطلع کیا گیا کہ این ایل سی نے جامع ڈیجیٹلائزیشن اقدامات کے ذریعے اپنے آپریشنز کو نمایاں طور پر جدید بنایا ہے۔ اس نے نیویلی کے تمام کمپلیکسز اور بیرونی پروجیکٹس میں زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے ایک متحرک ڈیش بورڈ اور کوئلے کی ترسیل کی نگرانی اور انتظام کے لیے ایک ڈیجیٹل لاجسٹک مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا ہے۔ ریئل ٹائم مانیٹرنگ او آئی ٹی ڈی ایس اور جیو فینسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کی جا رہی ہے، جبکہ زمین پر مبنی 3 ڈی لیزر اسکینرز اور ڈرونز کو کانوں کے موثر سروے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ این ایل سی نے چوری اور غلط استعمال کو روکنے کے لیے فیول مینجمنٹ سسٹم بھی نافذ کیا ہے۔
کمیٹی کو سنگارینی کولیریز کمپنی لمیٹڈ (ایس سی سی ایل) کی تکنیکی اپ گریڈیشن سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اہم آپریشنل بہتریوں میں ایک انٹیگریٹڈ کنٹرول اینڈ کمانڈ سینٹر، 3 ڈی لیزر اسکیننگ، ڈی جی پی ایس اور ڈرون پر مبنی جی آئی ایس سروے شامل ہیں۔ ایک انٹیلیجنٹ کول لاجسٹکس ڈیش بورڈ، ویژول مانیٹرنگ سسٹمز اور 410 سے زائد ڈمپرز میں نصب حفاظتی آلات کے ذریعے حفاظت اور لاجسٹکس کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے ارکان کو کول مائنز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (سی ایم پی ایف او) کے ذریعے کیے گئے تکنیکی اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی کے ارکان نے وزارت کی فعال کوششوں کو سراہا اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کا استعمال کرتے ہوئے کوئلہ کمپنیوں کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
********
ش ح۔ک ح۔ م ا
U. No. 3964
(ریلیز آئی ڈی: 2239559)
وزیٹر کاؤنٹر : 6