ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: گہرے سمندر میں کان کنی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 12:41PM by PIB Delhi
ڈیپ اوشن مشن چھ اہم شعبوں پر مشتمل ہے، جو کہ یہ ہیں: (1) گہرے سمندر میں کان کنی، انسانی آبدوز اور زیرِ آب روبوٹکس کے لیے ٹیکنالوجیز کی تیاری، (2) سمندری موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مشاورتی خدمات کا قیام، (3) گہرے سمندر کی حیاتیاتی تنوع کی تلاش اور تحفظ کے لیے تکنیکی اختراعات، (4) گہرے سمندر کا سروے اور کھوج، (5) سمندر سے توانائی اور تازہ پانی کا حصول، اور (6) سمندری حیاتیات کے لیے جدید ترین ’میرین اسٹیشن‘ کا قیام۔ ڈیپ اوشن مشن (ڈی او ایم) کے تحت حاصل کیے گئے اہم سنگ میل مندرجہ ذیل ہیں:
ہندوستان کی اہم انسانی آبدوز’متسیہ-6000‘ کا ڈیزائن اور سسٹم انجینئرنگ مکمل کر لی گئی ہے، جو تین ماہرینِ بحریات کے ساتھ 6000 میٹر کی گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے ذیلی نظام تیار کر لیے گئے ہیں اور جنوری-فروری 2025 میں چنئی کے قریب کاٹوپلی میں ایل اینڈ ٹی ہاربر پر اس کے ’ویٹ ٹیسٹ‘ (آبی تجربات) کیے گئے تھے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی(این آئی او ٹی)، چنئی کے سائنسدانوں نے، جنہیں متسیہ-6000 کی تیاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اگست 2025 میں فرانسیسی آبدوز ناٹائل کے ذریعے پائلٹ کے طور پر تجربہ حاصل کیا ہے۔
برصغیر ہند کے ساحلوں کے ساتھ 100 سالہ دورانیے کی انتہائی سمندری سطح کی پیش گوئی مکمل کر لی گئی ہے اور اس سے متعلقہ ساحلی خطرات کے نقشے تیار کر لیے گئے ہیں۔ سمندری مشاہدات کو مضبوط بنانے کے لیے، انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز (آئی این سی او آئی ایس)، حیدرآباد نے بحیرۂ عرب (67°E) اور خلیج بنگال (89°E) میں پہلے سے طے شدہ راستوں پر 11 گلائیڈر مشن کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، بحر ہند میں 60 ڈائریکشنل ویو اسپیکٹرا بیرومیٹرک ڈرفٹرز اور 92 فزیکل و بائیو جیو کیمیکل آرگو فلوٹس نصب کیے گئے ہیں۔
ہندوستانی خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) کے پانی اور تلچھٹ کے نمونوں سے تقریباً 1845 گہرے سمندری جراثیم الگ کیے گئے ہیں اور ایسے نایاب گہرے سمندری جراثیم دریافت ہوئے ہیں جو اس سے قبل بحر ہند میں رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔ سینٹر فار میرین لیونگ ریسورسز اینڈ ایکولوجی (سی ایم ایل آر ای)، کوچی نے لکشدیپ اور انڈمان و نکوبار کے علاقوں میں مجموعی طور پر 25 سی ماؤنٹس (سمندری پہاڑ جو حیاتیاتی تنوع کے مراکز ہیں) کا سروے کیا ہے، جس میں گہرے سمندر کی 195 اقسام درج کی گئی ہیں۔
نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ (این سی پی او آر)، گوا کی جانب سے خودکار زیرِ آب گاڑیوں(اے یو وی) کے ذریعے کیے گئے سروے میں بحر ہند کی تہہ پر دو فعال اور دو غیر فعال ہائیڈرو تھرمل وینٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس مشن کی سرگرمیوں کو تقویت دینے اور افرادی قوت کی تیاری کے لیے، مشن کے تحت قومی سرکاری اور نجی اداروں کو مجموعی طور پر 144 مشترکہ تحقیقی منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
سمندر کی تہہ سےنوڈیولزکو اکٹھا کرنے اور مزید پمپنگ کے لیے انہیں کچلنے والا سی بیڈ مائننگ سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔ اس نظام کی نقل و حرکت اور پاورنگ کا تجربہ 2021 میں وسطی بحر ہند میں 5270 میٹر کی گہرائی پر اور 2024 میں انڈمان کے سمندری مقامات پر تجرباتی کان کنی کے لیے کیا گیا تھا۔ 2025 میں سہاو پورٹل کا آغاز کیا گیا، جو ایک ریئل ٹائم ڈیجیٹل پورٹل ہے جو سمندری ڈیٹا تک رسائی کو آسان بناتا ہے، شواہد پر مبنی سمندری نظم و نسق کو فروغ دیتا ہے اور موسمیاتی پیش گوئی، سمندری وسائل کی ٹریکنگ اور آفات کی قبل از وقت وارننگ میں مدد فراہم کرتا ہے۔
بین الاقوامی سمندروں میں تجارتی بنیادوں پر کان کنی انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی (آئی ایس اے) کے پولی میٹالک مائننگ کے ایکسپلائٹیشن کوڈ کے مطابق ہوتی ہے، جو کہ آج کی تاریخ تک موجود نہیں ہے۔ یہ کوڈ ماحولیاتی اصولوں اور نگرانی کے نظام کا خاکہ پیش کرتا ہے تاکہ معدنیات کے پائیدار حصول کو ممکن بنایا جا سکے ۔ سرمایہ کاری، پلیٹ فارم اور سسٹم کی ضروریات عصری ٹیکنالوجی، مشترکہ ترقیاتی کوششوں اور معلوم ماحولیاتی تعمیل کے اصولوں پر مبنی ہیں۔
یہ معلومات ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 12 مارچ 2026 کو راجیہ سبھا میں فراہم کیں۔
********
ش ح۔ک ح۔ ف ر
U. No. 3870
(ریلیز آئی ڈی: 2238849)
وزیٹر کاؤنٹر : 18