خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
صدر جمہوریہ نے مانِک شا سینٹر میں عالمی یومِ خواتین 2026 کی تقریبات میں شرکت کی
حقیقی معنوں میں ترقی حاصل کرنے کے لیے خواتین کی مساوی شمولیت کو یقینی بنانا ضروری ہے: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو
مرکزی وزیر محترمہ انّپورنا دیوی نے وکست بھارت‘‘ کی بنیاد ناری شکتی کو قرار دیا
لیبر کوڈز کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے اور اپنی مدد آپ گروپ کی خواتین کو کاروباری شخصیات کے طور پر فروغ دینے پر دو پینل مباحثے منعقد
تقریباً 200 وزارتوں، محکموں اور اداروں سے 1000 سے زائد خواتین رہنما ناری شکتی کے جشن میں شریک ہوئیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 MAR 2026 7:10PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارت برائے خواتین و اطفال کی ترقی نے عالمی یومِ خواتین 2026 کے موقع پر نئی دہلی کے مانک شا سینٹر میں قومی سطح کے ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔

اس تقریب میں صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے شرکت کی۔ یہ پروگرام مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی محترمہ انّپورنا دیوی، وزیر مملکت برائے خواتین و اطفال کی ترقی محترمہ ساوتری ٹھاکر اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی میں منعقد ہوا۔

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے اس موقع پر کلیدی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خواتین تعلیم، انتظامیہ، عدلیہ، فوج، طب، سائنس، ٹیکنالوجی، فنون اور کاروبار سمیت ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین اپنی مدد آپ گروپوں کے ذریعے مالی طور پر خود کفیل بن رہی ہیں اور پنچایتوں میں دیہی ترقی کی قیادت بھی کر رہی ہیں۔ بہت سی خواتین صنعت، اسٹارٹ اپس اور کارپوریٹ دنیا میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے قیادت فراہم کر رہی ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں بھی خواتین شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ایسے مواقع اعتماد پیدا کرتے ہیں کہ مناسب مواقع اور تعاون ملنے پر خواتین ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔
صدرجمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے خواتین کی قیادت میں ترقی کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران خواتین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔ ہندوستان نے اسکولی تعلیم میں صنفی مساوات حاصل کر لی ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں بھی مجموعی داخلہ شرح کے اعتبار سے طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں خواتین کی شرکت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کے لیے ہر ضلع میں طالبات کے لیے ہاسٹل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس طرح ہماری بیٹیاں علمی معیشت میں قیادت کے کردار کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔
صدر جمہوریہ کے خطاب کو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2026/mar/doc202638815101.pdf
پروگرام کا آغاز وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی کے سکریٹری شری انیل ملک کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ ہند کو “ہندوستان کی تمام خواتین کے لیے تحریک کا سرچشمہ اور روشنی کا مینار” قرار دیا۔انہوں نے سب سے اپیل کی کہ “ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنی بیٹیوں، خواتین، ماؤں اور بہنوں میں موجود خدائی قوت کو پہچانیں” اور اس بات پر زور دیا کہ “ہم اسے صرف ایک دن کے طور پر نہ منائیں بلکہ اسے روزمرہ کی روایت بنائیں۔”

مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی محترمہ انّپورنا دیوی نے صدر جمہوریہ کا استقبال کرتے ہوئے انہیں ایک یادگاری تحفہ پیش کیا، جس میں مٹی سے تیار کردہ سرہُل نرتیہ تہوار کی عکاسی کرتی ہوئی ایک فن پارہ شامل تھا جو جھارکھنڈ کی بھرپور ثقافتی روایات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ریاست کی سوہرائے آرٹ سے مزین ایک شال بھی پیش کی گئی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی محترمہ انّپورنا دیوی نے کہا کہ یہ دن ہندوستان کی خواتین کے عزم، لگن اور کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے، جو ملک کی نصف آبادی پر مشتمل ہیں اور وکست بھارت کی بنیاد بھی ہیں۔
صدر جمہوریہ کی موجودگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر خود اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ جب کسی خاتون کو موقع اور احترام ملتا ہے تو وہ بلند ترین مقام تک پہنچ کر معاشرے کے لیے نئی راہیں روشن کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ باعثِ فخر ہے کہ آج ہندوستان کی ترقی میں ناری شکتی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کی امنگیں، قیادت اور خدمات ملک کے سفر کو نئی سمت دے رہی ہیں اور ملک بھر کی لاکھوں بیٹیوں کے لیے باعثِ ترغیب بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “آج کی خواتین صرف گھریلو ذمہ داریاں نبھانے والی نہیں بلکہ قوم کی معمار بھی ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں گزشتہ چھ برسوں کے دوران خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت نمایاں طور پر بڑھی ہے جو 22.3 فیصد سے بڑھ کر 41.7 فیصد ہو گئی ہے۔
تقریب کے دوران ہندوستان کی ترقی کے سفر میں خواتین کے انقلابی کردار کو اجاگر کرنے والی دو مختصر ویڈیوز بھی پیش کی گئیں۔
پہلی مختصر فلم “ناری شکتی، راشٹر شکتی” کے عنوان سے پیش کی گئی، جس میں مختلف شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اور روایتی طور پر مردوں کے زیرِ اثر پیشوں میں ان کی نمایاں موجودگی کو دکھایا گیا۔ اس میں میٹرو ٹرین آپریٹرز، بھارت ٹیکسی کی سارتھی ڈرائیورز، ڈاک تقسیم کرنے والی خواتین، ڈرون دیدی اور پیٹرول پمپ منیجرز سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین کو پیش کیا گیا۔ فلم میں ہندوستانی معیشت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی قیادت کو بھی اجاگر کیا گیا اور بتایا گیا کہ کمپنیوں میں خواتین ڈائریکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ مختلف مالیاتی اور بااختیاری پروگرام خواتین کو ترقی کے اہم محرک کے طور پر ابھرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
دوسری ویڈیو “ناری شکتی: وِکست بھارت کا آدھار” کے عنوان سے پیش کی گئی، جس میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کی پالیسیوں، اہم پروگراموں اور اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔ اس میں دکھایا گیا کہ ہندوستان کس طرح خواتین کی ترقی سے خواتین کی قیادت میں ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور آج خواتین قومی ترقی کی اہم شراکت دار بن رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں پنچایت سے پارلیمنٹ تک جمہوری اداروں میں خواتین کی نمائندگی کو مضبوط بنانے، ای آر ایس ایس، خواتین ہیلپ لائنز، پولیس اسٹیشنوں میں خواتین ہیلپ ڈیسک، ون اسٹاپ سینٹرز، شی باکس اور انسدادِ انسانی اسمگلنگ یونٹس جیسے اقدامات کے ذریعے خواتین کی سلامتی اور انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بینک سکھّی، مدرا یوجنا، اسٹینڈ اپ انڈیا، سیلف ہیلپ گروپس اور بیمہ سکھّی جیسی اسکیموں کے ذریعے معاشی مواقع بڑھانے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ و ریاضی، ہوا بازی، دفاع اور خلائی شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو بھی اجاگر کیا گیا، جو ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے وژن میں ناری شکتی کے بنیادی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
افتتاحی اجلاس کے بعد پروگرام میں دو پینل مباحثے منعقد کیے گئے۔
پہلا پینل مباحثہ “لیبر کوڈز – خواتین کو بااختیار بنانے کا فروغ” کے موضوع پر تھا، جس میں ہندوستان کے نئے لیبر کوڈز کے خواتین کارکنوں پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں مساوی اجرت، رہنمائی پروگرام، کام کی جگہ پر حفاظت، غیر رسمی اور گیگ معیشت میں خواتین کے لیے سماجی تحفظ اور باضابطہ ملازمت میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے اقدامات جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ اس مباحثے میں سنجیو سانیال (رکن، وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل)، پونم شرما (قومی صدر، فکی فلو)، ڈاکٹر پنکی آنند (سینئر وکیل، سپریم کورٹ آف انڈیا) اور اشوتوش اے ٹی پیڈنیکر (جوائنٹ سکریٹری، وزارت محنت و روزگار) نے شرکت کی۔
دوسرا پینل “اپنی مدد آپ گروپوں کی خواتین بطور کاروباری شخصیات” کے موضوع پر منعقد ہوا، جس میں خواتین کی کاروباری صلاحیتوں اور معاشی خودمختاری کو فروغ دینے میں اپنی مدد آپ گروپوں کے کردار پر گفتگو کی گئی۔ مباحثے میں بازار سے رابطوں کو مضبوط بنانے، قرض اور رہنمائی تک رسائی، مارکیٹ تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین کو چھوٹے روزگار سے بڑے کاروبار کی جانب منتقل کرنے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس پینل میں سواتی شرما (جوائنٹ سکریٹری، وزارت دیہی ترقی)، وِمالا آر (ریزیڈنٹ کمشنر، حکومت مہاراشٹر)، گوردھن راوت (نائب منیجنگ ڈائریکٹر، نابارڈ) اور گایتری راؤ (کنٹری ڈائریکٹر، امیگو گلوبل گراس روٹس انڈیا) شامل تھیں۔

اس تقریب میں تقریباً 200 وزارتوں، محکموں اور اداروں سے تعلق رکھنے والی 1000 سے زائد خواتین نے شرکت کی، جن میں مسلح افواج، پولیس، میڈیا، صحت، کھیل، تعلیمی اداروں، سرکاری تنظیموں اور نچلی سطح کی تنظیموں کی نمائندہ خواتین شامل تھیں۔ ان کی موجودگی مختلف شعبوں میں خواتین کی متنوع خدمات اور ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے سفر کو آگے بڑھانے میں ان کی بڑھتی ہوئی قیادت کی عکاسی کرتی ہے۔
عالمی یومِ خواتین ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد مختلف شعبوں میں خواتین کی کامیابیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور صنفی مساوات، تحفظ، وقار اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کرنا ہے۔
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236565®=3&lang=1
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :3529 )
(ریلیز آئی ڈی: 2236724)
وزیٹر کاؤنٹر : 12