صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدرِجمہوریہ ہند نے 9ویں بین الاقوامی سنتال کانفرنس کی تقریب میں شرکت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAR 2026 2:33PM by PIB Delhi

آج (7 مارچ 2026) صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے دارجلنگ، مغربی بنگال میں منعقد ہونے والی 9ویں بین الاقوامی سنتال کانفرنس میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ سنتال برادری کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ہمارے بزرگ تلکا ماجھی نے تقریباً 240 سال قبل استحصال کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا تھا۔ ان کی بغاوت کے تقریباً 60 سال بعد بہادر بھائیوں سیدو اور کانہو اور چاند اور بھیرَو نے، بہادر بہنوں پھولو اور جھانو کے ساتھ مل کر 1855 میں سنتال ہل کی قیادت کی۔

صدرِجمہوریہ ہند نے کہا کہ سال 2003 سنتالی برادری کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اسی سال سنتالی زبان کو آئینِ ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال سابق وزیر اعظم جناب  اٹل بہاری واجپائی کی سالگرہ کے موقع پر آئینِ ہند کو سنتالی زبان میں اول چیکی رسم الخط میں شائع کیا گیا۔

صدرجمہوریہ نے کہا کہ 1925 میں پنڈت رگھوناتھ مرمو نے اول چیکی رسم الخط ایجاد کیا تھا۔ حال ہی میں ہم نے اس ایجاد کی صد سالہ تقریبات بھی منائی ہیں۔ ان کی خدمات نے سنتالی زبان بولنے والوں کو اظہار کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کیا۔ انہوں نے ’’بیدو چندن‘‘، ’’کھیروال ویر‘‘، ’’دالیگے دھن‘‘ اور’’سیدو کانہو – سنتال ہل‘‘ جیسے ڈرامے بھی تحریر کیے۔ اس طرح انہوں نے سنتالی برادری میں ادب اور سماجی شعور کی روشنی پھیلائی۔

انہوں نے کہا کہ سنتال برادری کے افراد کو دوسری زبانیں اور رسم الخط بھی سیکھنے چاہئیں، لیکن ساتھ ہی اپنی مادری زبان سے جڑے رہنا بھی ضروری ہے۔

صدرِجمہوریہ ہند نے کہا کہ قبائلی برادریوں نے صدیوں سے اپنی لوک موسیقی، رقص اور روایات کو محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے قدرت کے ساتھ اپنی حساسیت کو بھی نسل در نسل برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قدرت کے تحفظ کا سبق آنے والی نسلوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک روایات اور ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قبائلی برادریوں کو جدید ترقی کو بھی اپنانا چاہیے اور ترقی کے سفر میں آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سنتال برادری سمیت قبائلی برادریوں کے افراد ترقی اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی ایک مثال قائم کریں گے۔

صدرجمہوریہ نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ تعلیم، صحت اور معاشی بااختیاری پر توجہ دی جائے۔ قبائلی نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ  کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔ تاہم ان تمام کوششوں کے دوران انہیں اپنی جڑوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عزم کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زبان اور ثقافت کو محفوظ رکھیں، تعلیم کو ترجیح دیں اور معاشرے میں اتحاد اور بھائی چارہ برقرار رکھیں۔ اس سے ایک بااختیار معاشرہ اور مضبوط بھارت کی تعمیر میں مدد ملے گی۔

****************

(ش ح –اع خ ۔ ر ا)

U. No: 3493


(ریلیز آئی ڈی: 2236381) وزیٹر کاؤنٹر : 22