الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

چِپس ٹو اسٹارٹ اپس (سی 2 ایس)کے تحت، بھارت نے 85,000 سیمی کنڈکٹر انجینئرز کو تربیت دینے کے اپنے ہدف کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے


ملک بھر کے 315 تعلیمی اداروں میں، آسام سے گجرات تک اور کشمیر سے کنیاکماری تک طلبہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، فیبریکیشن، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ میں عملی تجربہ حاصل کر رہے ہیں

انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کے تحت اس اسکیم کو 500 تعلیمی اداروں تک توسیع دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAR 2026 1:39PM by PIB Delhi

چِپس ٹو اسٹارٹ اپس(سی 2 ایس)اقدام کے تحت ہنر کی ترقی کو ترجیح دینے کے لیے حکومتِ ہند کی ٹریننگ، اپ اسکلنگ اور ورک فورس ڈیولپمنٹ پروگرامز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و آئی ٹی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ بھارت نے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن میں85,000 انجینئرز کو تربیت دینے کے اپنے 10 سالہ ہدف کی سمت میں صرف گزشتہ چار سالوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

جناب ویشنو نے بتایا کہ عالمی معیار کے الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز، جنہیں سنوپسس، کیڈنس، سیمنس، رینیساس، این سس اور اے ایم ڈی کی معاونت حاصل ہے، ملک بھر کے 315 تعلیمی اداروں میں دستیاب کرائے گئے ہیں۔ ان ٹولز کی مدد سے طلبا سیمی کنڈکٹر چِپس کے ڈیزائن کا عملی تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ ان چِپس کی تیاری اور جانچ سیمی کنڈکٹر لیبارٹری(ایس سی ایل)، موہالی میں کی جاتی ہے، جس سے طلبہ کو ڈیزائن سے لے کر فیبریکیشن، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ تک پورے عمل کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ اقدام اب دنیا کے سب سے بڑے اوپن ایکسس ای ڈی اےپروگرام کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے تحت اب تک چِپ ڈیزائن ٹریننگ کے لیے1.85کروڑ گھنٹوں سے زیادہ  ای ڈی اےٹولز کا استعمال ریکارڈ کیا جاچکا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے طلبا آسام سے گجرات تک اور کشمیر سے کنیاکماری تک سیمی کنڈکٹر ڈیزائن میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔ یہ بھارت کی ٹیکنالوجیکل صلاحیت اور خود انحصاری کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

عالمی صنعت کی ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب ویشنو نے کہا کہ جیسے جیسے سیمی کنڈکٹر صنعت کا حجم موجودہ 800–900 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچے گا، تقریباً 20 لاکھ ہنرمند پیشہ ور افراد کی طلب پیدا ہوگی۔ یہ بھارت کے نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کے تحت اس پروگرام کو 315 تعلیمی اداروں سے بڑھا کر 500 اداروں تک توسیع دی جائے گی۔ اس سے ملک کی ہر ریاست میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، فیبریکیشن، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ کے شعبوں میں تربیت یافتہ ہنرمند افراد کا مضبوط اور مسلسل ذخیرہ تیار ہوگا۔

جناب ویشنو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومتِ ہند سیمی کنڈکٹر شعبے میں مضبوط اور خود کفیل ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کے تحت ہنر کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور صنعت کے ساتھ اشتراک کے ذریعے بھارت کا ہدف خود کو عالمی سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔

****************

(ش ح –اع خ ۔ ر ا)

U. No: 3492


(ریلیز آئی ڈی: 2236362) وزیٹر کاؤنٹر : 43