کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

استخراج سے آگے: نیویلی میں کانوں کی بندش اور ان کے دوبارہ استعمال پر پہلی قومی ورکشاپ کا انعقاد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 MAR 2026 4:12PM by PIB Delhi

تمل ناڈو  کےنیویلی میں 23 اور 24 فروری 2026 کو کانوں کی بندش اور متبادل استعمال پر دو روزہ قومی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ ورکشاپ کوئلہ کی وزارت اور این ایل سی انڈیا لمیٹڈ کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔ کوئلہ و کان کنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی نے اس ورکشاپ کا افتتاح کیا، جو منظم طریقے سے کانوں کی بندش کی منصوبہ بندی اور کان کنی کے بعد زمین کے پائیدار متبادل استعمال پر مرکوز ہندوستان کا اپنی نوعیت کا پہلا قومی سطح کا اقدام ہے۔ اس ورکشاپ میں سکریٹری کوئلہ جناب وکرم دیو دت، ایڈیشنل سکریٹریز محترمہ روپندر برار اور جناب منوج کمار جھا، کوئلہ کنٹرولر جناب سجیش کمار این اور کوئلہ  کی وزارت کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس ورکشاپ میں بندش کے لیے منتخب کانوں کے 147 نوڈل افسران کے ساتھ ساتھ کوئلے کے شعبے کی سرکاری کمپنیوں پی ایس یو، نجی کان کن کمپنیوں، ریگولیٹری اداروں، این جی اوز، پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، ماہرینِ تعلیم اور دو طرفہ و کثیر جہتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر 500 سے زائد شرکاء اس ورکشاپ میں موجود تھے۔ یہ متنوع شرکت اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ کانوں کی بندش کو محض ایک قانونی ضابطے کی کارروائی کے بجائے علاقائی بحالی کے طویل مدتی عمل میں تبدیل کیا جائے۔

اس ورکشاپ کی سب سے اہم خصوصیت نو (9) موضوعاتی سیشنز کا انعقاد تھا، جن میں حکومت، صنعت، تحقیقی اداروں، ترقیاتی تنظیموں اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے 29 ممتاز مقررین نے شرکت کی۔ ان ماہرین نے کانوں کی بندش اور کان کنی کے بعد کی منتقلی کے عمل میں اپنی عملی بصیرت اور زمینی تجربات شیئر کیے، جس سے نوڈل افسران اور شرکاء کو پائیدار اور کمیونٹی پر مبنی مائن کلوزر حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کے لیے قیمتی رہنمائی ملی۔

ان سیشنز میں کان کنی کے بعد زمین کے استعمال کے وسیع تر پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جن میں زمین کی بحالی کے لیے جدید زراعت اور ایگرو فاریسٹری، مویشی پروری  پر مبنی ذریعۂ معاش،کانوں کے خالی حصوں میں ماہی پروری،قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے اور سیاحت کا فروغ، ثقافتی ادارے اور مہارت کے فروغ  کے مراکز، بین الاقوامی مالیات تک رسائی اور عالمی سطح کے بہترین طور طریقوں کا نفاذ شامل ہیں۔ان مباحثوں میں زیادہ تر زور کان کنی کے بعد کے علاقوں میں متنوع اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر رہا۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کان کنی والے علاقوں میں جامع اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عوامی شراکت داری اور روزگار کی فراہمی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، کوئلہ اور کان کنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی نے اس بات پر زور دیا کہ کانوں کی بندش کو کان کنی کی سرگرمیوں کا خاتمہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اسے کان کنی والے علاقوں کی آبادیوں کے لیے نئے سماجی و اقتصادی مواقع کا آغاز تصور کرنا چاہیے۔ انہوں نے سائنسی طریقے سے زمین کی بحالی، ماحولیاتی بحالی، کانوں کی بندش کے لیے مختص فنڈز کے موثر استعمال اور کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس ورکشاپ کے ایک حصے کے طور پر، شرکاء نے این ایل سی انڈیا لمیٹڈ کے ان علاقوں کا دورہ بھی کیا جہاں سے کوئلہ نکالنے کے بعد زمین کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔ وہاں کان کنی کے بعد خالی ہونے والی اراضی کو ایکو ٹورازم  کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں کشتی رانی کی سہولیات، پانی کے تازہ ذخائر اور پرندوں کے خوشگوار مسکن موجود ہیں۔ اس دورے نے عملی طور پر یہ دکھایا کہ کس طرح سائنسی بحالی اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے بنجر اور متاثرہ کان کنی والے علاقوں کو حیاتیاتی تنوع سے بھرپور اور معاشی طور پر کارآمد مناظر میں بدلا جا سکتا ہے۔

اس ورکشاپ میں ایک اہم قومی سنگ میل کا اعتراف بھی کیا گیا، جس میں یہ بتایا گیا کہ 25 کانوں کو سائنسی طریقے سے کامیابی کے ساتھ بند کر دیا گیا ہے، جو ملک میں منظم، شفاف اور ذمہ دارانہ مائن کلوزر گورننس کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اس وژن کو آگے بڑھانے کے لیے، وزارت کوئلہ کئی اہم اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے، جس میں کمیونٹی کی ترقی کے لیے ایسکرو فنڈز کا 25 فیصد حصہ لازمی طور پر مختص کرنا شامل ہے۔ زمینی سطح پر اس کے موثر نفاذ کی سہولت کے لیے، وزارت پہلے ہی ری کلیم فریم ورک (ریچ آؤٹ، این ویژن، کو کرئیٹ، لوکلائز، ایکٹ، انٹی گریٹ اور مینٹین) جاری کر چکی ہے، جو کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں عوامی شراکت داری کو فعال بنانے کے لیے ایک جامع گائیڈ ہے۔

مزید برآں، کان کنی کے بعد خالی ہونے والی زمینوں کے پائیدار متبادل استعمال کو فروغ دینے کے لیے، وزارت نے اس سے قبل لائیوز فریم ورک متعارف کرایا تھا اور سووکلپ کے نام سے ایک انٹرایکٹو آن لائن ٹول تیار کیا ہے، تاکہ پروجیکٹ کے منتظمین کو موزوں متبادل منصوبوں کی شناخت اور ان پر عمل درآمد میں مدد مل سکے۔

اس ورکشاپ کے ذریعے پیدا ہونے والے اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے، وزارت کوئلہ کے تحت کول کنٹرولر آرگنائزیشن سلسلہ وار قومی ویبنارز منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان ویبنارز میں مخصوص موضوعاتی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جیسے کہ روزگار کے ذرائع میں تنوع، قابلِ تجدید توانائی کا اشتراک، بین الاقوامی مالیات تک رسائی، سیاحت پر مبنی ترقی، مہارت کے نظام  اور عالمی بہترین طورطریقوں کو اپنانا، تاکہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان علم کے تبادلے اور صلاحیتوں میں اضافے کے عمل کو مسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

اس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد حکومت کے اس عزم کی توثیق کرتا ہے کہ کانوں کی بندش محض ایک قانونی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ ہندوستان بھر کے کان کنی والے علاقوں میں ماحولیاتی بحالی، جامع ترقی اور طویل مدتی سماجی و اقتصادی استحکام کے لیے ایک انقلابی موقع ثابت ہونی چاہیے۔

********

ش ح۔ک ح۔ ن ع

U. No. 3404


(ریلیز آئی ڈی: 2235625) وزیٹر کاؤنٹر : 41
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil , Telugu