زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’’جلسۂ تقسیم اسنادکوئی اختتام نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کی  تعمیر کے عمل کی ابتدا ہے‘‘: جناب  شیوراج سنگھ چوہان


رانی لکشمی بائی مرکزی زرعی یونیورسٹی، جھانسی کے تیسرے جلسہ تقسیم اسناد میں 365 طلباء کو ڈگریاں دی گئیں، 15 کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا

’’بندیل کھنڈ کی سرزمین دالوں کے انقلاب کا مرکز بن سکتی ہے‘‘: مرکزی وزیرجناب  شیوراج سنگھ چوہان

’’ہندوستان کو ’فوڈ باسکٹ‘ بنانے کا ہدف  تبھی حاصل ہوگا جب سائنسدان لیبارٹری سے معلومات  کو کھیتوں تک پہنچائیں گے‘‘:جناب  شیوراج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 FEB 2026 2:08PM by PIB Delhi

رانی لکشمی بائی مرکزی زرعی یونیورسٹی، جھانسی نے اپنے تیسرے جلسہ تقسیم اسناد  کی تقریب تاریخی عظمت اور جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی۔ مرکزی وزیر برائے زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے خطاب کا آغاز "بھارت ماتا کی جے" اور "جھانسی کی رانی لکشمی بائی کی جے" کے نعرے بلند کر کے کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر 365 طلباء کو ڈگریاں عطا کیں اور 15 ہونہار  طالب علموں کو سونے کے تمغے دے کر عزت افزائی کی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب شیوراج چوہان نے کہا، "کنووکیشن کی تقریب زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ملک  کی تعمیر کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔" انہوں نے طلباء سے کہا کہ وزیراعظم  جناب  نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان عالمی سطح پر عزت حاصل کر رہا ہے، اور اب یہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم، مہارت اور اقدار کے ذریعے اپنے ملک اور ادارے کا نام روشن کریں۔

جناب  چوہان نے گرو درونچاریہ اور گرو-ششیہ کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے ایمانداری اور محنت کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء میں لا محدود صلاحیت ہے، جس بات کی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ وہ  اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔

مرکزی وزیرجناب شیوراج چوہان نے ملک کی خوراک کی یقینی فراہمی  پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کھاد کے معاملے میں کسی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کرتا۔ اس کامیابی کا سہرا زرعی سائنسدانوں اور محنتی کسانوں کے سر ہے۔ "غذائیت سے بھرپور" کے تصور پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیداوار کے ساتھ ساتھ معیار اور غذائیت بھی اتنے ہی اہم ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کسانوں کے کھاتوں میں براہ راست سبسڈی منتقل کر کے کھاد کی سبسڈی کو شفاف بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اب تک 8.5 کروڑ کسانوں کی  کسان آئی ڈی بنائی جاچکی ہے اور 12 کروڑ تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ "بھارت ایکسٹینشن پلیٹ فارم" کے ذریعے کسانوں کو ان کے موبائل فونز پر  فصل سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

جناب چوہان نے کہا کہ بندیل کھنڈ کی سرزمین دالوں کے انقلاب کا مرکز بن سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو عالمی "فوڈ باسکٹ" بنانے کا مقصد صرف تبھی حاصل ہوگا جب سائنسدان لیبارٹری سے معلومات کو کسانوں کے کھیتوں تک پہنچائیں گے۔ اپنے ذاتی عزم کا حوالہ دیتے ہوئےجناب چوہان نے کہا کہ وہ ہر روز ایک پودا لگاتے ہیں اور سب سے درخواست کی کہ اپنے جنم دن پر کم سے کم ایک پودا لگائیں۔

مہمان خصوصی، ڈاکٹر ایم ایل جٹ، ڈائریکٹر جنرل، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ اور سیکریٹری، ڈی اے آر ای نے یونیورسٹی کو ایک قومی اہمیت کا ادارہ قرار دیا، جو ہر دن نئے معیار قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھانسی انقلاب کی سرزمین ہے، اور اب یہ تیل  تلہن  اور دالوں میں ایک نئے زرعی انقلاب کی پیدائش کا مقام بنے گا۔

ڈاکٹر جٹ نے دانشورانہ  املاک، جدت اور سائنسی تحقیق کے کردار پر زور دیا، جو ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی صرف ڈگریاں نہیں دے رہی، بلکہ انسانوں کے وسائل بنا رہی ہے جو آنے والے سالوں میں زرعی شعبے کی سمت متعین کریں گے۔

انہوں نے سائنسدانوں سے کہا کہ تحقیق کے فوائد کو ہر  کسان تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ تحقیق کو موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کے انتظام اور قیمتوں میں اضافے کے شعبوں پر ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ زراعت کو ایک کاروباری اور اسٹارٹ اپ کے موقع کے طور پر دیکھیں اور ایک "آتم نربھر بھارت"  بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔

وائس چانسلر ڈاکٹر اشوک کمار سنگھ نے معززین کا استقبال کیا اور یونیورسٹی کی پیشرفت کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی، جو 2014 میں صرف پانچ طلباء کے ساتھ شروع ہوئی تھی، آج 1,100 طلباء تک پہنچ چکی ہے اور مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں لڑکیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور ساتھ ہی یہ کسانوں کے لیے تکنیکی مشاورت، تربیت اور جدت کا مرکز بن چکی ہے۔

جھانسی کیمپس کے علاوہ، دتیا میں ایک فشریز کالج اور ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کالج کا آغاز ہو چکا ہے، اور مورینا (مدھیہ پردیش) میں ہارٹی کلچر کالج میں تعلیم کا آغاز جلد ہو گا۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی نے کئی جدید منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں پولی ہاؤس، ہائی ٹیک نرسری، ایک مربوط فارمنگ سسٹم ماڈل، دورم گندم، سرسوں اور چنے کے ڈیمانسٹریشن کھیت اور فصل کی کیفے ٹیریا شامل ہیں۔

انہوں نے روزانہ پودا لگانے کے عہد کو پڑھا اور اسے مرکزی وزیر زراعت کو پیش کیا، اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہ یونیورسٹی ایک "گرین  کیمپس" کو فروغ دے گی۔

سونے کے15 تمغے، 365 ڈگریاں دی گئیں

اس تقریب میں کل 365 طلباء کو ڈگریاں دی گئیں، جن میں 235 انڈرگریجویٹس، 127 پوسٹ گریجویٹس اور 3 پی ایچ ڈی اسکالر شامل ہیں۔ 8 انڈرگریجویٹ، 7 پوسٹ گریجویٹ اور 3 پی ایچ ڈی طلباء کو ان کی شاندار تعلیمی کامیابیوں کے لیے سونے کے تمغے دیے گئے۔

پروگرام کا آغاز "وندے ماترم" قومی گیت سے ہوا۔ مہمان خصوصی  نے یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک پودا لگایا اوراین سی سی کیڈٹس کے ذریعے گارڈ آف آنر حاصل کیا۔ کئی نئی عمارات بشمول "کرشی وگیان منڈپ" کا افتتاح بھی کیا گیا۔

مرکزی وزیر زراعت نے یونیورسٹی کے کھیتوں میں کسان چوپال کے ذریعے کسانوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے سرسوں اور چنے کی کاشت کے ڈیمانسٹریشن پلاٹس کا بھی دورہ کیا اور مربوط فارمنگ سسٹم ماڈل کا معائنہ کیا۔

****************

(ش ح –اع خ ۔ ر ا)

U. No: 3196


(ریلیز آئی ڈی: 2233944) وزیٹر کاؤنٹر : 9