کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت اور اسرائیل نے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کے پہلے دور کا آغاز کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 FEB 2026 7:18PM by PIB Delhi
بھارت - اسرائیل آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے لیے مذاکرات کا پہلا دور 23 فروری 2026 کو نئی دہلی میں شروع ہوا اور یہ 26 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ نومبر 2025 میں ٹرمس آف ریفرنس (ٹی او آر) پر دستخط کیے گئے تھے، جس میں اقتصادی تجارتی شعبوں کی نشاندہی کرنے اور تعاون کے لیے بات چیت کے لیے ایک منظم فریم ورک قائم کیا گیا تھا۔
مالی سال 2024-2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی کل تجارت 3.62 بلین امریکی ڈالر رہی۔ بھارت اور اسرائیل کئی شعبوں میں تکمیلی شراکت رکھتے ہیں اور یہ ایف ٹی اے، ایم ایس ایم ای سمیت کاروباروں کو یقین اور پیشین گوئی فراہم کر کے باہمی تجارت کو مزید بڑھانے کے لیے ایک محرک ثابت ہوگا۔
اس دوران، دونوں اطراف کے تکنیکی ماہرین ایف ٹی اے کے مختلف پہلوؤں جیسے سامان کی تجارت، خدمات کی تجارت، اوریجن کے اصول، سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری اقدامات، تجارت میں تکنیکی رکاوٹیں، کسٹم کے طریقہ کار اور تجارتی سہولت، املاک دانش کے حقوق سمیت دیگر سیشن میں حصہ لیں گے۔
افتتاحی اجلاس کے دوران، کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے اس بات پر زور دیا کہ ایف ٹی اے مذاکرات کا آغاز ایک نہایت موزوں وقت پر ہوا ہے، جب معزز وزیر اعظم نریندر مودی 25 تا 26 فروری 2026 کو اسرائیل کے دورے پر ہوں گے۔ جناب اگروال نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جدت طرازی، سائنس و ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ، زراعت اور خدمات جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے لیے نمایاں مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایف ٹی اے دونوں ممالک کو ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے اور انہیں مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے قابل بنائے گا۔
بھارت کے چیف مذاکرات کار، اجے بھادو، ایڈیشنل سیکریٹری، محکمۂ تجارت نے اس بات کو دہرایا کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور دونوں فریقوں کو ایک متوازن معاہدے پر کام کرنے کی ترغیب دی تاکہ ایک ترقی پذیر شراکت داری کے لیے مستقبل کا فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ اسرائیل کی جانب سے ایف ٹی اے کی چیف مذاکرات کار، یفت ایلون پیریل، سینیئر ڈائریکٹر ٹریڈ پالیسی و معاہدات اور نائب تجارتی کمشنر، فارن ٹریڈ ایڈمنسٹریشن، وزارت معیشت و صنعت، اسرائیل نے اظہار خیال کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں اور ایف ٹی اے سپلائی چین کو مضبوط بنانے، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت بھارت اور اسرائیل کے دو طرفہ تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور قومی ترجیحات اور عالمی امیدوں کے مطابق اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت کے عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔ دونوں فریق ایک متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 3003
(ریلیز آئی ڈی: 2232392)
وزیٹر کاؤنٹر : 9