مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کو تیزی سے نفاذ کے لئے ڈیجیٹل بھارت ندھی اور حکومت آندھرا پردیش کے درمیان تعاون کی یادداشت پر دستخط
مواصلات کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا،مواصلات کے وزیر مملکت ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی جناب این چندر بابو نائیڈو کی موجودگی میں یادداشت پر دستخط ہوئے
آندھرا پردیش میں عملدرآمد کے لیے 2,432 کروڑ روپے مالی معاونت کی منظوری
پورے آندھرا پردیش میں دیہی ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور اپ گریڈ کرنے کے لیے شراکت داری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 FEB 2026 11:51AM by PIB Delhi
آندھرا پردیش کے دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ایک اہم قدم کے طور پر، ڈیجیٹل بھارت نِدھی(ڈی بی این) حکومت ہندکی وزارت مواصلات کے محکمہ ٹیلی مواصلات اور آندھرا پردیش کی حکومت کے درمیان ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام(اے بی پی) کے تیزتر نفاذکے لیے تعاون کا یادداشت(ایم او سی) پر دستخط کیے گئے۔
یادداشت پر22 فروری2026 کوگنٹور ضلع کے تدے پلی میں واقع وزیراعلیٰ کے کیمپ آفس میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب این چندر بابو نائیڈو،مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیرجناب جیو تیرادتیہ ایم سندھیا اور وزیر مملکت برائے مواصلات اور دیہی ترقی ڈاکٹر پیما سانی چندر شیکھر کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔

تعاون کے یادداشت پر دستخط جناب شیامل مشرا، آئی اے ایس، ایڈمنسٹریٹر، ڈیجیٹل بھارت نِدھی اور جناب مووا تیروملا کرشنابابو، آئی اے ایس، اسپیشل چیف سکریٹری، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری ڈیپارٹمنٹ، حکومت آندھرا پردیش نے کیے۔

اس موقع پر وزیر جناب سندھیا نے بھارت نیٹ پروگرام کی اہمیت اور دائرہ کار پر زور دیتے ہوئے کہا، “ترمیم شدہ بھارت نیٹ ایک 16.9 ارب ڈالر یعنی1,39,000 کروڑ روپےکا عوامی مالی معاونت والا پروگرام ہے، جو ہر گاؤں تک او ایف سی فائبر اور براڈبینڈ پہنچائے گا۔ دنیا کا کوئی اور ملک اس قدر حوصلہ نہیں رکھتا جو وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے کیا ہے۔”
وزیر جناب سندھیا نے مزید کہا کہ “ہم جو کر رہے ہیں، اس کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کو ہمارے ملک کے ہر شہری تک پہنچانا ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہماری نسل میں واقعی یہ صلاحیت فراہم کی ہے کہ ہر فرد کی مہارت، ہُنر، عزم اور خواہشات دنیا کے منظرنامے تک پہنچ سکے۔”

ڈاکٹر پیما سانی چندر شیکھر نے کہا کہ یہ یادداشت ریاستی قیادت والے ماڈل کے تحت تیز تر عملدرآمد کے لیے ایک منظم اور پائیدار فریم ورک فراہم کرتی ہے، جو مالی معاونت کو جوابدہی کے ساتھ جوڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری آخری شخص تک کنیکٹیویٹی کو مضبوط کرے گی، 4 جی کی کوریج کو بڑھائے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دیہی شہری کفایتی اور قابل اعتماد ڈیجیٹل خدمات سے مستفید ہو سکے ۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ، این چندر بابونائیڈو، نے کہا کہ یادداشت پر دستخط ریاست کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک سنگِ میل کی نمائندگی کرتا ہے اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکومت اور جامع ترقی کے عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلا رکاوٹ براڈبینڈ کنیکٹیویٹی دیہی کمیونٹیز کو بااختیار بنائے گی، تعلیم اور صحت کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائے گی، اور آندھرا پردیش کو اگلے سلسلے کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں صفحہ اول میں کھڑا کرے گی ۔
یادداشت ڈیجیٹل بھارت نِدھی(ڈی بی این) اور حکومتِ آندھرا پردیش کے درمیان تعاون کے لیے ایک وسیع فریم ورک قائم کرتی ہے تاکہ ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کی تیز رفتار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یادداشت کے تحت، ریاستی حکومت تیز تر نفاذ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی، جس میں رائٹ آف وے(آر او ڈبلیو)، بنیادی ڈھانچے تک رسائی، اور ضروری رابطہ کاری شامل ہے۔ پروجیکٹ کی مالی معاونت بنیادی طور پر ڈی بی این فراہم کرے گا، جبکہ ریاستی حکومت باہمی طریقے سے طے پائے متفقہ انتظامات کے مطابق تعاون کرے گی۔ پروگرام کے تحت تیار ہونے والا نیٹ ورک ریاستی حکومت کے ذریعے مؤثر طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ سماجی و اقتصادی اثرات زیادہ سے زیادہ ہوں۔


مرکزی کابینہ نے 4 اگست 2023 کو ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کی منظوری دی، جس کا مقصد موجودہ بھارت نیٹ نیٹ ورک کو اپ گریڈ، مضبوط اور وسعت دینا ہے تاکہ تمام گاؤں پنچایات اور دیہات میں مانگ کے مطابق مستحکم اور مستقبل کے لیے تیار براڈبینڈ کنیکٹیویٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آندھرا پردیش میں بھارت نیٹ مرحلہ اول میسرز پی جی سی آئی ایل نے سی پی ایس یو ماڈل کے تحت نافذ کیا، جس نے 1,692 گاؤں پنچایات کا احاطہ کیا اور سبھی کو خدمات کے لیے تیارکرنا ہے۔ بھارت نیٹ دوسرامرحلہ ریاستی قیادت والے ماڈل کے تحت آندھرا پردیش اسٹیٹ فائبر نیٹ لمیٹڈ(اے پی ایس ایف ایل) نے نافذ کیا، جس نے 11,254 گاؤں پنچایات کااحاطہ کیا جس میں تمام خدمات تیار ہیں۔
آندھرا پردیش میں ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے تحت، یہ پروجیکٹ ایک نئے بنائے گئے اسپیشل پرپز وہیکل، آندھرا پردیش بھارت نیٹ انفراسٹرکچر لمیٹڈ(اے پی بی آئی ایل) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ پروگرام کا کل دائرہ 13,426 گاؤں پنچایات پر محیط ہوگا، جس میں 1,692 پہلے مرحلے کی گرام پنچا یتوں کو لینئر سے رنگ ٹوپولوجی میں اپ گریڈ کرنا شامل ہے تاکہ نیٹ ورک کی مضبوطی اور کوریج کو بڑھایا جا سکے، 11,254 دوسرے مرحلے کے گرام پنچایتوں کا احاطہ کرنا اور 480 نئے بنائے گئے گرام پنچایتوں کو شامل کرنا ہے۔ اضافی طور پر، آخری شخص تک کنیکٹیویٹی کو مضبوط کرنے کے لیے 3,942 گاوؤںمیں ضرورت کے مطابق کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے گی۔
حکومتِ ہند نے آندھرا پردیش میں پروگرام کے نفاذ کے لیے 2,432 کروڑ روپے مالی معاونت کی منظوری دی ہے۔ اس اقدام سے پانچ لاکھ سے زائد دیہی گھریلو فائبر کنیکشن کی سہولت فراہم ہونے کی توقع ہے، ڈیجیٹل حکومت کو نمایاں طور پر فروغ ملے گا، شہریوں کے لیے خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی، اور دیہی اور دور دراز علاقوں میں آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل ادائیگیاں، ای-گورننس اور ٹیلی میڈیسن کو فروغ ملے گا۔
یادداشت پر دستخط سے مرکزی حکومت اور آندھرا پردیش کی حکومت کے مشترکہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل شمولیت کو تیز کریں، آخری شخص تک کنیکٹیویٹی کو مضبوط کریں اور مضبوط ٹیلی مواصلات بنیادی ڈھانچےقائم کریں، جس سے ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار معاشرہ اور علم کی معیشت کے وژن کو آگے بڑھایا جا سکے۔
***
(ش ح ۔ م ش۔ ش ب ن)
U. No. : 2895
(ریلیز آئی ڈی: 2231699)
وزیٹر کاؤنٹر : 9