PIB Headquarters
azadi ka amrit mahotsav

سارس آجیویکا میلہ 2026


ہنر، حوصلے اور تبدیلی کا میلہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 FEB 2026 12:25PM by PIB Delhi

گروگرام کی شیشے کی عمارتوں پر سورج کی سنہری کرنیں شام ڈھلنے کے ساتھ سرخی مائل ہو جاتی ہیں۔ اس سائبر سٹی کے سیکٹر 29 میں لیژر ویلی پارک کا دروازہ ایک سات رنگی دنیا میں کھلتا ہے۔ یہ دنیا فولاد اور شیشے کی چمک سے نہیں بلکہ ہاتھ سے بنے ریشم اور بانس کی دستکاری سے روشن ہے۔ یہاں مصالحوں کی خوشبو اور گیتوں و کہانیوں کی حکمرانی ہے۔ اپنے دفاتر سے نکل کر پارک کے سامنے سے گزرنے والوں کے قدم خود بخود سست ہو جاتے ہیں۔ شہر نے چند دنوں کے لیے کارپوریٹ دھن پر تھرکنا چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ لوک موسیقی کی لہروں پر جھومتا ہوا مختلف علاقوں کے تازہ پکوانوں کی خوشبو سے معطر ہے۔ سارس آجیویکا میلہ 2026 نے اس شہر کو دیہی  ہندوستان کے ایک زندہ و متحرک کینوس میں بدل دیا ہے۔ 10 سے 26 فروری تک جاری رہنے والا یہ قومی میلہ کسی نمائش سے زیادہ پورے ملک کے سفر کا احساس دلاتا ہے۔ اس میں 28 ریاستوں سے تعلق رکھنے والی اپنی مدد آپ گروپ کی 900 سے زائد خواتین صنعت کاروں کے ہاتھوں کا ہنر پارک کے احاطے میں  پھیلا ہوا ہے۔

ریاستی پویلینز میں قائم 450 سے زائد اسٹالز کے ساتھ اس میلے کو “منی انڈیا” کہا جاتا ہے، جہاں مقامی روایات اور دستکاری کی مہارتوں سے مزین علاقائی مصنوعات کی نمائش کی گئی ہے۔ یہاں آنے والے افراد کو کشمیر کی پشمینہ شالیں، تمل ناڈو کے ریشمی ملبوسات، راجستھان کی کڑھائی شدہ روایتی پوشاکیں اور آسام کی بانس کی دستکاریاں دیکھنے کا موقع ملا، جن کے ساتھ علاقائی کھانے، دستکاری اور ثقافتی مظاہرے بھی شامل تھے۔

اپنی ثقافتی رنگا رنگی کے علاوہ یہ میلہ روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے والے فریم ورک کے اندر ایک منظم مارکیٹ روابط ماڈل کی مثال پیش کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں منعقد کی جانے والی ایسی نمائشیں کس طرح آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہیں، صارفین کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کر سکتی ہیں، اپنی مدد آپ گروپس کی مصنوعات کی برانڈنگ کو مضبوط بنا سکتی ہیں اور مارکیٹ میں خواتین کی قیادت میں چلنے والے چھوٹے کاروباروں کو فروغ دے سکتی ہیں۔

دستکاری اور ٹیکسٹائل کی بصری دلکشی سے آگے بڑھتے ہوئے یہ میلہ ادارہ جاتی تعاون اور سماجی و معاشی تبدیلی کی کہانیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک اسٹال پر آسام کے موگا ریشم کی مخصوص سنہری چمک فوراً اپنی جانب توجہ مبذول کراتی ہے۔ جغرافیائی اشاریہ (جی آئی) سے تسلیم شدہ یہ مصنوعات منفرد طور پر آسام میں تیار کی جاتی ہے اور ایک قدیم ہینڈلوم روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔لکھیم پور ضلع سے تعلق رکھنے والی نجیترا دیدی، ہریانی مسنگ گاؤں اپنی مدد آپ گروپ کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے اس اسٹال کا انتظام سنبھال رہی ہیں۔ 1984 سے اب تک وہ 25,000 سے زائد خواتین کو تربیت دے چکی ہیں اور انہیں فنی  کارڈز اور باقاعدہ مارکیٹ روابط حاصل کرنے میں مدد فراہم کر چکی ہیں۔ انہوں نے دیہی خواتین کاریگروں کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، انہیں نہ صرف بُنائی کی مہارتیں سکھائی ہیں، بلکہ قیمتوں کے تعین کی حکمت عملی، صارفین کی ترجیحات اور مارکیٹ کی حرکیات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ ان کی زیرِ تربیت بہت سی کاریگر خواتین کی نقل و حرکت محدود ہے اور اپنے دیہات سے باہر زبان کا تجربہ بھی کم ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ موجود رہ کر وہ رابطے، مذاکرات اور مارکیٹ تک رسائی کو ممکن بناتی ہیں۔

تیس ہزار(30000 (سے 70,000 روپے تک قیمت والی ہاتھ سے بنی موگا ریشم کی ساڑھیاں دکھاتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ مشین سے تیار شدہ مصنوعات کے مقابلے میں اصلی ہینڈلوم اشیاء کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ میلے کے ابتدائی دنوں میں ہی ان کے اسٹال پر 3 لاکھ روپے سے زائد کی فروخت ہو چکی ہے۔ اس طرح یہاں پیش کیا گیا موگا ریشم محض ایک کپڑا نہیں بلکہ رہنمائی، اجتماعی کاوش اور روایتی دستکاری معیشت کی بحالی کا مشترکہ نتیجہ ہے۔

تھوڑی ہی دوری پر مغربی بنگال کی سپرنا دیدی کے فوڈ اسٹال کے اردگرد آنے والوں کا بڑا ہجوم جمع ہے۔ یہ لوگ تازہ تیار کیے گئے روایتی پکوانوں کی خوشبو سے کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ پہلے وہ گھر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بیمہ کے جز وقتی کام کے ذریعے گھریلو آمدنی میں اضافہ کرتی تھیں، لیکن وہ خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے اپنی آمدنی بڑھانا چاہتی تھیں۔ اسی مقصد کے تحت 2011 میں انہوں نے دس خواتین کو منظم کر کے اپنی مدد آپ گروپ تشکیل دیا اور گھریلو کچن سے ہی پاپڑ اور دیگر مقامی پکوانوں کی چھوٹے پیمانے پر تیاری شروع کی۔

وقت کے ساتھ ان کا کام بڑھتا گیا اور اب وہ اپنے گرام پنچایت میں کئی اپنی مدد آپ گروپس ہم آہنگی کرتی ہیں۔ میلے میں صرف ایک ہفتے کے دوران انہوں نے 50,000 روپے سے زائد مالیت کی اشیاء فروخت کیں، جس سے انہیں پیداواری لاگت پر 60 تا 70 فیصد منافع حاصل ہوا۔ ان کا پیداواری ماڈل غیرمرکزی ہے؛ خواتین اپنے گھروں میں اشیاء تیار کرتی ہیں، جنہیں بعد میں اجتماعی طور پر جمع کر کے پیک کیا جاتا ہے اور مل کر بازار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس نظام کو ضلع دیہی ترقی سیل سے حاصل شدہ صلاحیت سازی اور مالی معاونت کے ذریعے مضبوطی ملی ہے۔ دہلی، نوئیڈا، پنجاب اور دارجلنگ میں منعقدہ نمائشوں میں شرکت سے انہیں فی پروگرام اوسطاً تقریباً ایک لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔

تاہم یہ تبدیلی محض آمدنی کے حصول تک محدود نہیں ہے۔ اپنی مدد آپ گروپس کی میٹنگز باہمی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہیں، جہاں خواتین گھریلو مسائل، سماجی رکاوٹوں اور اپنی ذاتی امنگوں پر گفتگو کرتی ہیں۔ سپرنا دیدی اپنی بیٹی کی مٹی کے برتن بنانے کی بڑھتی ہوئی کامیابی پر بھی فخر کرتی ہیں، جن کی مصنوعات ملکی اور بین الاقوامی میلوں میں پیش کی جا چکی ہیں۔ جو کوشش کبھی مالی خودمختاری کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب نسلی سطح پر بااختیاری کے ایک وسیع عمل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح اجتماعی کاروبار دیہی خواتین اور ان کے خاندانوں کے سماجی و معاشی مستقبل کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔

ایک اور اسٹال پر مغربی بنگال کی شوبھیتا دیدی کی رہنمائی میں جوٹ کی چٹائیاں، لکڑی کے باورچی خانے کے آلات اور دستکاری کی اشیاء منظم انداز میں سجی ہوئی ہیں۔ انہوں نے 2006 میں دس اراکین کے ساتھ اپنااپنی مدد آپ گروپ (ایس ایچ جی)شروع کیا تھا اور تب سے اپنی قیادت کو وسعت دیتے ہوئے ضلع بھر کے 374  ایس ایچ جی کو اپنے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ ان کے کاروباری سفر کو دین دیال انتودیہ یوجنا – قومی دیہی روزی روٹی مشن کے تحت حاصل ہونے والی تربیت سے تقویت ملی، جس کے ذریعے انہوں نے جوٹ دستکاری میں تکنیکی مہارت حاصل کی۔

اس کے بعد انہوں نے ایک پیداواری ورکشاپ قائم کی، جہاں مقامی خواتین کاریگروں کو روزگار فراہم کیا جاتا ہے اور آس پاس کے کسانوں سے براہِ راست کچا جوٹ خریدنا شروع کیا۔ اس اقدام سے مقامی سطح پر طلب و رسد کی ایک مربوط زنجیر قائم ہوئی، جس نے دیہی معاشی روابط کو مزید مضبوط بنایا۔ 2023 میں انہوں نے لکڑی کی دستکاری کے شعبے میں قدم رکھا اور گھریلو استعمال کی اشیاء، جیسے کنگھیاں اور باورچی خانے کے آلات تیار کرنا شروع کیے۔

ادارہ جاتی قرضوں اور سرکاری سبسڈی تک رسائی نے جہاں ان کے کاروبار کی توسیع کو آسان بنایا، وہیں یو پی آئی جیسی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظاموں نے مالی لین دین کو مزید سہل بنا دیا ہے۔ سرکاری میلوں میں شرکت کے علاوہ وہ غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہیں، جو ان کی مصنوعات کو جے پور اور دہلی جیسے شہری بازاروں میں فروخت کرتی ہیں۔ ان کی پیش رفت اجتماعی پیداوار، مقامی ویلیو چینز اور ڈیجیٹل مالی شمولیت پر مبنی ایک غیرمرکزی دیہی کاروباری ماحولیاتی نظام میں مہارت پر مبنی تربیت کے فروغ کی عکاسی کرتی ہے۔

نمائش کے علاقے کے بالکل قریب ناظرین اُس اسٹال کے گرد جمع ہوتے ہیں، جہاں سنہری دھان کے بھوسے (پاڈی اسٹرا) سے نہایت باریک اشکال اور تصاویر تیار کی جا رہی ہیں۔ مغربی بنگال کے ضلع ہوگلی کی جیوتسنا دیدی کو دھان کے بھوسے کی پینٹنگ کرنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون فنکار کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ 2013 میں ایک اپنی مدد آپ گروپ(ایس ایچ جی) میں شامل ہونے اور باقاعدہ دستکاری کی تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 2015 میں چاول کے بھوسے کے فن کے ساتھ تجربات شروع کیے۔ اب وہ 15 تا 16 خواتین کاریگروں کو تربیت دیتی ہیں اور ان سے منسلک ہیں، جو اپنے گھروں میں یہ باریک ڈیزائن تیار کرتی ہیں۔ جیوتسنا دیدی ان فن پاروں کو جمع کرتی ہیں اور ملک بھر کی نمائشوں میں فروخت کرتی ہیں۔ ان کا یہ کاروبار زرعی باقیات کو قدر میں اضافہ شدہ فنی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ وسائل کی تخلیقی نئی تعبیر سے کس طرح جدت جنم لے سکتی ہے۔

میلے میں منعقدہ فنی نمائش اور وہاں مہارتوں کی براہِ راست پیشکش علم کے فروغ کو مزید تقویت دیتی ہے۔ بچے اور دیگر ناظرین یہاں کمہاروں کو مٹی کو شکل دیتے ہوئے، کاریگروں کو شیشے کے ٹکڑوں کے ساتھ کڑھائی کرتے ہوئے اور بانس کی مصنوعات تیار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ تیار شدہ مصنوعات کے ساتھ ساتھ ان کی تیاری کے عمل کو بھی نمایاں کر کے یہ میلہ ہر شے میں پوشیدہ محنت، دستکاری کی مہارت اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرتا ہے۔

مہاراشٹر پویلین میں ناگپور کی سنجیونی مہیلا اپنی مدد آپ گروپ(ایس ایچ جی)کی اراکین اپنی دیہی پیداواری یونٹ میں تیار کردہ سوتی قمیضیں اور ساڑیاں پیش کر رہی ہیں۔ جو کام چھوٹے پیمانے کی سلائی سے شروع ہوا تھا، وہ اب ایک منظم کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں 30 سے زائد خواتین کو روزگار حاصل ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ رورل لائیولی ہُڈ مشن (ایم ایس آر ایل ایم) اور مقامی انتظامیہ کی ادارہ جاتی معاونت سے گروپ کو مہارت کی تربیت، مشینری تک رسائی اور مارکیٹ سہولت کاری فراہم کی گئی۔ اس اقدام نے معاشی طور پر کمزور خواتین کو مستحکم روزگار مہیا کیا ہے۔

یہ ادارہ مقامی کھیتوں سے کپاس حاصل کرتا ہے، جہاں مخلوط کاشتکاری کی جاتی ہے، اس طرح بنیادی زراعت کو دیہی سطح پر ویلیو ایڈیشن کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ سوتی قمیضوں کی قیمت تقریباً 600 روپے ہے، جبکہ ساڑیاں 2,000 سے 5,000 روپے کے درمیان فروخت ہوتی ہیں۔ بڑے شہروں میں منعقدہ نمائشوں میں شرکت سے سیزن میں آمدنی 8 تا 9 لاکھ روپے تک حاصل ہو سکتی ہے۔ اراکین کے لیے بااختیاری ٹھوس شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جس میں باقاعدہ آمدنی، اجتماعی کاروباری نظم و نسق، جدید مشینری کے ساتھ تکنیکی مہارت اور رسمی پیداوار و مارکیٹ میں شمولیت سے حاصل ہونے والا اعتماد شامل ہے۔

آسام کے ایک اور پویلین میں نہایت مہارت سے تیار کیے گئے بانس کے بیگ پیش کیے گئے، جو روایتی ہنر اور جدید ڈیزائن کی فہم دونوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ 2014 میں ایک اپنی مدد آپ گروپ میں شامل ہونے والی وشاکھا دیدی نے مصنوعات میں جدت متعارف کروا کر اور وسیع مارکیٹ تک رسائی کا فائدہ اٹھایا اور اپنے سسر کے بانس کے ہنر کو دوبارہ زندہ کیا۔ دہلی میں منعقدہ ’انڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر 2025‘ میں شرکت  سمیت سرکاری مالی معاونت اور نمائشوں کے ذریعے حاصل تجربات سے انہوں نے  اپنےکاروبار کو دو لاکھ روپے سے زائد کی فروخت تک پہنچایا۔ ان کا یہ سفر اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح تعلیم، ادارہ جاتی سہولت کاری اور مارکیٹ کے روابط وراثتی ہنر کو جدید بنا کر اسے پائیدار اور ترقی پسند کاروبار میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

اپنے تجارتی پہلو سے آگے سارس میلہ ایک منظم صلاحیت سازی کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہاں ’نالج اینڈ لرننگ گیلری‘ میں خواتین پیکجنگ، برانڈنگ، پروپوزل تیاری اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ حکمت عملیوں پر ورکشاپس میں حصہ لیتی ہیں۔ لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ مینجمنٹ پر مختص سیشن انہیں ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں مصنوعات کی مؤثر تقسیم کے ہنر سکھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ای-کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے اور ای-سارس پورٹل کے بارے میں آگاہی کی کوششوں سے میلے کے اختتام کے بعد بھی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی یقینی بنی رہتی ہے، جس سے فروخت کا تسلسل اور کاروبار کی پائیداری برقرار رہتی ہے۔

جیسے جیسے شام ڈھلتی ہے اور میلے کی روشنی پارک کو منور کر دیتی ہے، یہ میلہ دیہی کاروبار اور اجتماعی امنگوں کا ایک چھوٹا عکس بن کر سامنے آتا ہے۔ زائرین یہاں سے نہ صرف ہینڈلوم ملبوسات، دستکاریاں اور مقامی پکوان ، بلکہ رہنمائی، کاروباری جذبے اور روایت میں پروئے ہوئے اس کمیونٹی کی بنیاد پر جدت کی متاثر کن کہانیاں بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، جو مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہیں۔ آج کی تیز رفتار شہری زندگی میں، ’سارس آجیویکا میلہ‘ ہر اسٹال میں پوشیدہ محنت، استقامت اور روزگار کو پہچاننے اور اس کا احترام کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

حوالہ جات

وزارتِ دیہی ترقیات

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2225912&reg=3&lang=2

Click here to see pdf

****

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U. No. 2886


(ریلیز آئی ڈی: 2231674) وزیٹر کاؤنٹر : 11